ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین نئے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کیسے ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تہران پر امریکی و اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای ملک کی سب سے طاقتور شخصیت تھے۔
ایران کے آئین میں رہبر اعلیٰ کا عہدہ سنہ 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد آیت اللہ خمینی کی قیادت میں تخلیق کیا گیا تھا اور وہ تین دسمبر 1979 کو ملک کے پہلے رہبرِ اعلیٰ مقرر ہوئے تھے۔
ایران اس وقت دنیا میں اہل تشیع آبادی کی اکثریت والا سب سے طاقتور ملک ہے اور ملک کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر صرف ایک آیت اللہ بن سکتا ہے، جو اہل تشیع کا مذہبی رہنما ہوتا ہے۔
تاہم جب علی خامنہ ای کا انتخاب ہوا تھا تو وہ آیت اللہ نہیں تھے۔ اس سلسلے میں قانون بدلے گئے تھے تاکہ وہ یہ عہدہ سنبھال سکیں۔
ایران میں رہبر اعلیٰ کا انتخاب 88 علما کا ایک ادارہ ’مجلسِ رہبری‘ کرتا ہے۔ ہر آٹھ سال بعد ایران کے لاکھوں شہری اس ادارے کے اراکین کو منتخب کرتے ہیں۔ آخری بار ایسا سنہ 2016 میں ہوا تھا۔
لیکن مجلسِ رہبری کے کسی امیدوار کو پہلے شوریٰ نگہبان نامی کمیٹی کی منظوری درکار ہوتی ہے جس کے اراکین کا انتخاب بالواسطہ یا بلاواسطہ موجودہ رہبر اعلیٰ کرتے ہیں۔
یہ ظاہر ہے کہ سپریم لیڈر کا اثر و رسوخ شوریٰ نگہبان اور مجلسِ رہبری پر بھی ہوتا ہے۔ گذشتہ تین دہائیوں کے دوران آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان کمیٹیوں میں قدامت پسند اکثریت کو یقینی بنایا تھا۔
اس وقت اس اسمبلی کے چیئرمین محمد علی موحیدی کرمانی ہیں جبکہ ہاشم حسینی بوشہری اور علی رضا عرفی نائب چیئرمین ہیں۔
ضوابط کے مطابق، مجلسِ رہبری کا اجلاس اس وقت درست ہے جب اس کے کم از کم دو تہائی ارکان (59 افراد) موجود ہوں۔ نئے رہنما کے انتخاب کے لیے اجلاس میں موجود افراد کی دو تہائی اکثریت کے ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صرف 59 ارکان موجود ہوں تو نئے قائد کے انتخاب کے لیے 40 ووٹ کافی ہیں۔
















