ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی گئی

امریکی فوج نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے پہلے چار امریکی فوجیوں کی شناخت کر لی ہے۔ یہ فوجی امریکی آرمی ریزرو کے 103ویں سسٹینمنٹ کمانڈ (ڈیس موئنز، آئیووا) سے تعلق رکھتے تھے۔

خلاصہ

  • سعودی عرب میں سی آئی اے سٹیشن پر ایران کا ڈرون حملہ، سعودی عرب کا جوابی حملوں پر غور
  • دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، حکام کی تصدیق
  • امریکہ نے اب تک ایران میں 1,700 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے: حکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اب ایران کے پاس نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی فضائی دفاعی نظام، تقریباً سب کچھ تباہ ہو گیا ہے‘
  • ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں اب تک 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
  • سعودی فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کو دو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
  • امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ یہ ایرانی حکومت کو روکنے کا ’آخری اور بہترین موقع‘ تھا۔

لائیو کوریج

  1. امریکہ نے اسرائیلی حملے کے پیش نظر ایران پر ’احتیاطاً حملے میں پہل کی‘

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکہ نے ہفتے کے روز ایران پر ’پری ایمپٹو‘ حملہ کیا یعنی ’احتیاطاً حملے میں پہل کی۔

    اس کی وجہ بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ اسرائیل حملہ کرنے والا ہے، اور اس کا مطلب تھا کہ ایرانی کی جوابی کارروائی امریکی افواج کے خلاف ہوتی۔

    انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’ہمیں معلوم تھا کہ اسرائیلی کارروائی ہونے والی ہے۔ ہمیں معلوم تھا کہ اس کے نتیجے میں امریکی افواج پر حملہ ہوگا۔‘

    روبیو نے مزید کہا کہ ’اور ہمیں معلوم تھا کہ اگر ہم ان پر ان حملوں کے آغاز سے پہلے حملہ نہ کرتے تو ہمیں زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑتا اور شاید زیادہ ہلاکتیں ہوتیں‘۔

  2. ایران کی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو تنبیہ

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران ’جو بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرے گا اسے آگ لگا دے گا۔‘

    یہ انتباہ ابراہیم جباری کی جانب سے آیا ہے، جو ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈر ان چیف کے مشیر ہیں، اور انھوں نے یہ بات سرکاری ٹی وی پر کہی۔

    انھوں نے تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز بند ہے اور جہازوں کو خبردار کیا کہ ’انھیں اس علاقے میں نہیں آنا چاہیے۔ وہ یقیناً ہماری طرف سے سخت ردعمل کا سامنا کریں گے۔‘

    جباری نے یہ بھی کہا کہ امریکی ’اس خطے کے تیل کے پیاسے ہیں‘ اور ایران ’ان کی پائپ لائنوں پر حملہ کرے گا اور اس علاقے سے تیل برآمد ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔‘

    آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم جہاز رانی کے راستوں میں سے ایک ہے اور تیل کی ترسیل کی سب سے اہم گزرگاہ ہے۔

    دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل اور گیس اسی آبنائے سے گزرتا ہے۔

    خلیج فارس اور خلیج عمان کے بیچ واقع آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان ایک سمندری راستہ موجود ہے۔ اس میں داخلے اور اخراج کے مقامات تو تقریباً 50 کلومیٹر چوڑے ہیں لیکن درمیان میں سب سے تنگ مقام پر اس کی وسعت تقریباً 40 کلومیٹر رہ جاتی ہے۔

    1980 سے 1988 تک جاری رہنے والی ایران اور عراق کی جنگ کے دوران دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی تیل کی رسد اور برآمدات کو متاثر کرنے کی کوشش کی تھی اور اس تنازع کو اسی وجہ سے تاریخ میں ’ٹینکر جنگ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

    اور اسی لیے بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کے فلیٹ کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ تجارتی بحری جہازوں کی حفاظت کرے۔

  3. بریکنگ, امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد چھ تک پہنچ گئی

    امریکی سینٹرل کمانڈ کی تازہ اپ ڈیٹ کے مطابق پیر کو مشرقی وقت کے مطابق 16:00 بجے تک ایران کے خلاف جاری کارروائی کے دوران چھ امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اپ ڈیٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج نے ’ ایک مقام جو ایران کے ابتدائی حملوں کے دوران نشانہ بنی تھی سے دو فوجیوں کی باقیات برآمد کر لی ہیں جو پہلے لاپتہ تھے۔‘

    اپ ڈیٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں جاری ہیں‘۔

  4. امریکہ کا مقصد ایرانی بیلسٹک میزائلوں کی تباہی ہے: مارکو روبیو

    مارکو روبیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ’ہمارا مشن ان کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنا ہے۔‘

    صحافیوں سے بات کرتیے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکہ کا مقصد ’ایران کی تیاری کی صلاحیت کو بھی ختم کرنا ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان کی بحریہ کی طرف سے عالمی جہاز رانی کو لاحق خطرے کو ختم کرنا ہے۔ یہی مقصد ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ بات بھی ہے کہ ہمیں برا نہیں لگے گا، ہمیں دکھ نہیں ہوگا، اور ہم امید کرتے ہیں کہ ایرانی عوام اس حکومت کو گرا کر اپنے ملک کے لیے ایک نیا مستقبل قائم کر سکیں۔ ہم چاہیں گے کہ ایسا ممکن ہو۔‘

    امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا ’لیکن اس مشن کا مقصد ان کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں اور ان کی بحری صلاحیتوں کی تباہی ہے۔‘

  5. سیٹلائٹ تصاویر ایرانی بحری جہاز کو نقصان پہنچنے کی نشاندہی کرتی ہیں, باربرا میٹزلر کی رپورٹ

    سیٹلائٹ تصاویر

    آج لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں آبنائے ہرمز کے پر بندر عباس شہر کے قریب ایک ایرانی بحری بندرگاہ میں نقصان دکھائی دیتا ہے۔

    تصاویر میں کم از کم ایک جہاز کو نقصان پہنچا ہوا نظر آتا ہے، جس سے سیاہ دھواں اٹھ رہا ہے۔

    یہ جہاز تقریباً 230 میٹر (750 فٹ) لمبا ہے، جو جنوبی ایران کی اس بندرگاہ پر عام طور پر نظر آنے والے بڑے جہازوں میں سے ایک ہے اور اس کی ظاہری خصوصیات ایرانی بحریہ کے زیرِ استعمال مکران کلاس فارورڈ بیس شپ سے مطابقت رکھتی ہیں۔

  6. ایران آپریشن کے دوران کن اثاثوں اور اہداف کو نشانہ بنایا گیا؟

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ’آپریشن ایپک فیوری‘ کے بارے میں مزید تفصیلات جاری کرتے ہوئے ایک فیکٹ شیٹ شائع کی ہے۔

    اس میں کہا گیا ہے کہ آغاز کے پہلے 48 گھنٹوں میں امریکی افواج نے ’ایرانی حکومت کے سکیورٹی ڈھانچے کو توڑنے کے لیے اہداف پر حملے کیے‘ اور ’ان مقامات کو ترجیح دی جو فوری خطرہ پیدا کرتے ہیں‘۔

    سینٹ کام کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

    • آپریشن 28 فروری کو مشرقی وقت کے مطابق 01:15 پر شروع کیا گیا
    • پہلے 48 گھنٹوں میں 1,250 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا
    • امریکی نے حملوں کے لیے جن اثاثوں کا استعمال کیا ان میں بی-1 بمبار، ایف-16 لڑاکا طیارے، ایٹمی توانائی سے چلنے والے ایئرکرافٹ کیریئرز، اور گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز شامل ہیں
    • امریکہ نے یہ بھی کہا کہ اس نے ’خصوصی صلاحیتیں استعمال کی ہیں جنہیں ہم یہاں درج نہیں کر سکتے!‘
    • نشانہ بنائے گئے ایرانی اہداف میں ایرانی بحریہ کے جہاز اور آبدوزیں، مربوط فضائی دفاعی نظام، اور اینٹی شپ میزائل سائٹس شامل ہیں
    • مزید اہداف میں پاسدارانِ انقلاب گارڈز کا مشترکہ ہیڈکوارٹر اور ایرو سپیس فورسز کا ہیڈکوارٹر بھی شامل ہے
  7. ایران پر حملوں کے لیے سپین کی سرزمین کے استعمال پر پابندی کے بعد امریکی طیارے وہاں سے روانہ

    جنوبی سپین میں روٹا اور مورون کی فوجی چھاؤنیوں سے کئی امریکی طیارے روانہ ہو گئے ہیں، کیونکہ سپین کی حکومت نے واشنگٹن کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے مشترکہ طور پر چلنے والی ان سہولتوں کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

    سپین کے وزیرِ خارجہ خوسے مانوئل الباریس نے کہا کہ سپین اپنی سرزمین کے استعمال کی اجازت کسی ایسے کام کے لیے نہیں دے گا جو ’اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق نہ ہو‘۔

    یہ فیصلہ سپین کا کئی یورپی اتحادیوں کے ساتھ اختلاف ظاہر کرتا ہے۔

    اگرچہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُٹے نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ یورپ ایران میں امریکی کارروائی کی ’حمایت‘ کرتا ہے، لیکن سپین کے وزیرِاعظم پیدرو سانچیز نے اس اقدام کی مذمت کی ہے جسے انھوں نے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف ’یکطرفہ فوجی کارروائی‘ قرار دیا۔

  8. ڈیموکریٹس، اور کچھ ریپبلکنز بھی، ٹرمپ کے اقدامات سے خوش نہیں, ٹام بیٹمین، امریکی محکمہ خارجہ کے نمائندہ

    سیکریٹری آف سٹیٹ مارکو روبیورپبلکن اور ڈیموکریٹ رہنماؤں کو ایک حساس کمپارٹمنٹڈ انفارمیشن فیسلٹی جسے ’سکیف‘ کمرہ کہا جاتا ہے میں بریف کرنے والے ہیں۔

    ڈیموکریٹس کی جانب سے اس بات پر اعتراض ہے کہ ٹرمپ نے ایران پر حملہ کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کیا، جسے کچھ قانون ساز غیر قانونی قرار دے رہے ہیں۔

    ڈیموکریٹس اس ہفتے کے آخر میں 1973 کے وار پاورز ریزولوشن کے تحت ووٹ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کانگریس نے ویتنام جنگ کے دوران ایگزیکٹو اختیارات پر قابو پانے کے لیے منظور کیا تھا۔ یہ کوشش شاید کامیاب نہیں ہوگی۔

    لیکن شاید ٹرمپ کے لیے بڑا مسئلہ ان کے رپبلکن حلقے کے کچھ حصوں میں وہ بلند آوازیں ہیں، جو اس فوجی کارروائی کو ان کے اس وعدے کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں کہ وہ ’ہمیشہ رہنے والی غیر ملکی جنگیں‘ شروع نہیں کریں گے۔

  9. اردن میں امریکی سفارتخانہ سکیورٹی الرٹ کے باعث خالی کر دیا گیا

    اردن میں امریکی سفارتخانے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ تمام عملہ ’عارضی طور پر وہاں سے نکل گیا ہے" کیونکہ ایک سکیورٹی خطرہ موجود ہے۔

    یہ پیغام، جو سفارتخانے کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا، میں مزید کوئی تفصیل شامل نہیں ہے۔

    گذشتہ روز سفارتخانے نے ایک مشابہ نوٹ جاری کیا تھا، جس میں عملے کو کمپاؤنڈ میں ہی رہنے کی ہدایت دی گئی تھی ’کیونکہ اس پر حملہ ہو سکتا ہے۔‘

  10. امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کے 11 جہاز ڈبو دیے ہیں

    ایران کے جہاز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیجِ عمان میں ایران کے 11 جہاز ڈبو دیے ہیں، جس کے بعد ایران کے پاس اس علاقے میں کوئی جہاز باقی نہیں رہا۔

    ’دو دن پہلے ایرانی حکومت کے پاس خلیجِ عمان میں 11 جہاز تھے، آج ان کے پاس صفر ہیں۔‘

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس (X) پرمزید لکھا کہ ’ایرانی حکومت نے دہائیوں تک خلیجِ عمان میں بین الاقوامی جہاز رانی کو ہراساں اور حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ وہ دن اب ختم ہو گئے۔‘

    ’سمندری راستوں کی آزادی نے 80 سال سے زیادہ عرصے تک امریکی اور عالمی اقتصادی خوشحالی کو سہارا دیا ہے۔ امریکی افواج اس کا دفاع جاری رکھیں گی۔‘

  11. ایران میں ریجیم چینج مشکل ہے کیونکہ ایرانی فورسز اب بھی موجود ہیں: سابق سی آئی اے ڈائریکٹر

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک سابق سی آئی اے ڈائریکٹر نے کہا ہے کہ ایران میں زبردستی ریجیم چینج کرنا مشکل ہوگا، لیکن امریکہ پھر بھی کچھ اہم کامیابیاں حاصل کر لے گا۔

    اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یہ جنگ ایرانی عوام کو موجودہ حکومت کے خلاف اٹھنے کا موقع دے سکتی ہے۔

    لیکن سابق ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس نے بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام کو بتایا ’مسئلہ یہ ہے کہ اگر اب بھی لاکھوں مسلح اور منظم ریجیم سکیورٹی فورس کے ارکان موجود ہیں تو کسی ملک پر قابو پانا کافی مشکل ہوتا ہے۔‘

    پیٹریاس نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ امریکی فوجی زمینی کارروائی نہیں کریں گے۔

  12. بریکنگ, ایران نے سات کمانڈروں کی موت کی تصدیق کر دی, سارہ جلالی، بی بی سی نیوز

    ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی نے پہلی بار مسلح افواج کے سات کمانڈروں کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ایک فہرست شائع کی ہے۔

    اسرائیلی اور امریکی حملوں میں مارے جانے والے کماڈروں میں کی فہرست درج ذیل ہے:

    • بریگیڈیئر جنرل محمد شیرازی، دفترِ کمانڈر ان چیف کے سربراہ
    • بریگیڈیئر جنرل صالح اسدی، مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے انٹیلیجنس کے نائب
    • میجر جنرل (ایئر فورس) پائلٹ محسن درہباغی، مسلح افواج کے لاجسٹکس اور سپورٹ کے نائب
    • بریگیڈیئر جنرل اکبر ابراہیم زادہ، دفترِ کمانڈر ان چیف کے نائب سربراہ
    • بریگیڈیئر جنرل غلام رضا رضائیان، فراجا (قانون نافذ کرنے والی کمانڈ) کے انٹیلیجنس آرگنائزیشن کے سربراہ
    • بریگیڈیئر جنرل بہرام حسینی مطلق، منصوبہ بندی اور آپریشنز ڈپارٹمنٹ کے سربراہ، مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے آپریشنز کے نائب
    • بریگیڈیئر جنرل حسن علی تاجک، مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے لاجسٹکس ڈپارٹمنٹ کے سربراہ
  13. ایران سے دوسرے روز بھی پاکستانیوں کی وطن واپسی کا عمل جاری, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    ایران سے واپسی

    ،تصویر کا ذریعہBalochistan Govt

    امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے باعث پیر کو دوسرے روز بھی وہاں سے سڑک کے راستے پاکستانی شہریوں کی واپسی کا سلسلہ جاری رہا۔

    سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ دو روز کے دوران طلبا سمیت واپس آنے والے شہریوں کی تعداد 596 تک پہنچ گئی۔

    ڈپٹی کمشنر گوادر نے بتایا کہ پیر کو مختلف ایرانی جامعات کے 58 طلبہ سمیت 104 پاکستانی شہری گوادر پہنچ گئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان میں زنجان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، المصطفیٰ یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، ارزمگان اور کرمان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے طلباء اور طالبات شامل ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ دو روز کے دوران 63 طلبا سمیت 155 افراد گوادر پہنچے جبکہ گبد ریمدان بارڈر عبور کرنے والے دیگر افراد میں تاجر، زائرین اور سیاح شامل ہیں۔

    دوسری جانب ایران کے شہر زاہدان کے راستے دو روز کے دوران 441 پاکستانی شہری ضلع چاغی کے سرحدی شہر تفتان پہنچ گئے۔ تفتان پہنچنے والوں میں بھی ایک بڑی تعداد طلباء اور طالبات کی ہے۔

    تفتان میں وفاقی حکومت کے اہلکار نے بتایا کہ تفتان میں دو روز کے دوران پہنچنے والوں میں 395 طلبہ، 28 تاجر اور 18 سیاح شامل ہیں۔

    درایں اثناء وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ایران میں جاری صورتحال کے پیش نظر وہاں مقیم پاکستانی شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان وفاقی اداروں کے ساتھ مکمل رابطے میں ہے تاکہ شہریوں کی واپسی کا عمل منظم اور محفوظ انداز میں جاری رکھا جا سکے۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ سرحدی مقامات پر امیگریشن حکام چوبیس گھنٹے ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں تاکہ آمد و رفت کے عمل کو مؤثر اور منظم بنایا جا سکے اور کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔

    وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ انسانی ہمدردی اور پیشہ ورانہ ذمہ داری کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ضروری اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

  14. بریکنگ, لبنان میں ہلاکتوں کی تعداد 52 تک پہنچ گئی: لبنانی حکام

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لبنان کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ یونٹ نے ابھی اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی حملے کے بعد 52 افراد ہلاک اور 154 زخمی ہوئے ہیں۔

    اس سے پہلے، لبنانی وزارتِ صحت نے کہا تھا کہ 31 افراد ہلاک اور 149 زخمی ہوئے تھے۔

    واضح رہے کہ بیروت میں ہمارے صحافیوں نے اطلاع دی کہ ضاحیہ میں ایک بڑا دھماکہ ہوا ہے، جو ایران سے منسلک حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

    اس سے پہلے امریکہ نے لبنان میں موجود اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوراً ملک چھوڑ دیں۔ بیروت میں امریکی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’ہم امریکی شہریوں کو لبنان سفر نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ اگر آپ ملک میں موجود ہیں تو ابھی لبنان چھوڑ دیں، جب تک کمرشل پروازوں کے آپشن دستیاب ہیں۔‘

  15. ٹرمپ سکرپٹ پر قائم رہے, سارہ سمتھ ، شمالی امریکہ ایڈیٹر، وائٹ ہاؤس سے رپورٹنگ

    صدر ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ٹرمپ کو ٹیلی پرامپٹر استعمال کرتے دیکھنا غیر معمولی ہے۔

    یہ حقیقت کہ انھوں نے ایران پر حملے کے آغاز کے بعد اپنی پہلی براہِ راست تقریر کے دوران اس دیکھ کر پڑھا، یہ بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انھیں معلوم تھا کہ سکرپٹ پر قائم رہنا ضروری ہے۔

    جب انھوں نے اس جنگ کے مقاصد بیان کیے۔۔۔ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کو ختم کرنا، ایران کی بحریہ کو نیست و نابود کرنا، حکومت کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور دہشت گردوں کی سرپرستی ختم کرنا۔۔۔ تو انھوں نے ایرانی عوام سے حکومت گرانے کی اپیل کو دوبارہ نہیں دہرایا۔

    ریجیم چینج کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

    صدر نے کہا کہ ’جنگ کے چار سے پانچ ہفتے تک جاری رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ لیکن یہ اتنا وقت لے گی جتنا ضروری ہوگا۔‘

    میڈیا میں آئی اس تجویز کا حوالہ دیتے ہوئے کہ شاید وہ بور ہو جائیں، انھوں نے کہا کہ اس میں ’کچھ بھی بورنگ نہیں ہے۔‘

    اس کے بعد کمرے میں کچھ گھبراہٹ بھری ہنسی سنائی دی جب وہ سکرپٹ سے ہٹ کر کمرے کے پردوں کی تعریف کرنے لگے، جو انھوں نے اپنی پہلی مدت میں منتخب کیے تھے اور وائٹ ہاؤس میں تعمیر کیے جا رہے بال روم کی وضاحت کرنے لگے۔

  16. امریکی قونصل خانے پر حملے میں مظاہرین کی ہلاکت: تحقیقات کے بعد ایس ایس پی سمیت متعدد پولیس افسران کی معطلی کی سفارش

    کراچی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کے کے بعد پیرا ہونے والی صورتحال کے وعد حکام کی جانب سے ابتدائی تحقیقات کے بعد ایس ایس پی کیماڑی کو عہدہ سے ہٹاکر معطلی کی سفارش کی گئی ہے۔

    کراچی میں امریکی سفارتخانے پر حملے پر پولیس کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے ایکشن لیتے ہوئے ایس ڈی پی اوکیماڑی، ایس ایچ اوز ڈاکس، سائیٹ بی، کے پی ٹی، جیکسن اور انچارج فارن سیکورٹی سیل کوبھی معطل کردیا گیا۔

    معطل ڈی ایس پی کو سی پی او جبکہ ایس ایچ اوز اور انچارج فارن سیکورٹی سیل کو پولیس ہیڈکوٹرگارڈن رپورٹ کرنے کے احکامات دیئے گئے ہیں۔

    سرکاری اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی۔

    جس کے لیے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کی سربراہی میں ڈئی آئی جیز ہیڈ کواٹر، سپیشل برانچ سندھ، ایس ایس پی انویسٹی گیشن سی ٹی ڈی، اے آئی جیز اسٹیبلشمنٹ اور آپریشن پرمشتمل 06 رُکنی کمیٹی بھی تشکیل سے دی گئی۔

    کمیٹی سات دن کے اندر تمام تر حقائق پر مبنی مکمل تفصیلاتی رپورٹ پیش کرے گی۔

    یاد رہے اتوار کی علی الصبح ایران کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں سید علی خامنہ ای کے قتل کی تصدیق کے بعد پاکستان کے مختلف شہروں اور پاکستان کے زیر انتظام خطے گلگت بلتستان میں بڑے پیمانے پر احتجاجی جلسوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا۔

    مظاہرین کی جانب سے پاکستان میں واقع امریکی قونصل خانوں، سفارتخانے اور دیگر مقامات کی جانب سے جانے کی کوشش کی گئی تاہم اس دوران پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سے ہونے والے جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم 23 مظاہرین ہلاک ہوئے۔

    قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں اب تک کراچی میں 10، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں تین جبکہ سکردو اور گلگت میں پانچ، پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

  17. ایران آپریشن کا مقصد میزائل صلاحیتوں کی تباہی، ایرانی بحریہ کو نیست و نابود کرنا اور ایٹمی ہتھیاروں کا حصول روکنا ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران میں ’بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں‘ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ایرانی حکومت کی طرف سے لاحق خطرات کو ختم کیا جا سکے۔

    وہ امریکہ فوجیوں کے اعزاز میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’ایران میں جاری آپریشن کے مقاصد ’واضح‘ ہیں، جن میں ’ایران کی میزائل صلاحیتوں کو تباہ کرنا‘ اور ’ان کی بحریہ کو نیست و نابود کرنا‘ شامل ہے، اس کے علاوہ انھیں کبھی بھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا بھی مقصد ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ ملک ’اپنی سرحدوں سے باہر دہشت گرد افواج کو اسلحہ، فنڈز اور ہدایات فراہم کرنا جاری نہیں رکھ سکتا۔‘

    امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’آج ملک ان چار امریکی فوجیوں کے لیے سوگ منا رہا ہے جو کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ان کی یاد میں ہم اس مشن کو زبردست اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ جاری رکھتے ہیں تاکہ اس دہشت گرد حکومت کے خطرے کو کچل سکیں جو امریکی عوام پر مسلط ہے۔‘

    ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ پہلے ہی اپنے وقت کے اندازوں سے ’کافی آگے‘ ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ابتدا میں چار سے پانچ ہفتوں کا تخمینہ لگایا گیا تھا، لیکن انھوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ’اس سے کہیں زیادہ دیر تک جانے کی صلاحیت ہے۔‘

    یہ تقریب اصل میں تین امریکی فوجیوں کو بعد از مرگ امریکی میڈل آف آنر دینے کے لیے منعقد کی گئی تھی، جنہوں نے 1945 کی جرمنی، ویتنام اور افغانستان کی جنگوں میں ’غیر معمولی بہادری اور جرات‘ کا مظاہرہ کیا تھا۔

    تقریب میں موجود صحافیوں میں اس بات پر کافی تجسس ہے کہ آیا انھیں یہ پوچھنے کا موقع ملے گا کہ صدر نے ابھی یہ جنگ شروع کرنا کیوں ضروری سمجھا۔ یا پھر یہ کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ ایران میں فتح کس شکل میں نظر آئے گی؟

  18. امریکہ ایران میں ’وسیع پیمانے پر آپریشنز‘ جاری رکھے ہوئے ہے: ٹرمپ

    Trump

    صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران میں ’بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں‘ جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ایرانی حکومت کی طرف سے لاحق خطرات کو ختم کیا جا سکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکی انتباہات کو نظر انداز کیا اور ’ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں روکنے سے انکار کر دیا۔‘

    امریکی صدر نے کہا کہ ایران کا میزائل پروگرام دراصل ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کو تحفظ دینے کے لیے بنایا گیا تھا۔

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگرچہ امریکہ وہ ملک تھا جو اس عمل کو روکنا چاہتا تھا، لیکن ’سب ہمارے ساتھ تھے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں سے لیس ایرانی حکومت مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ ساتھ امریکی عوام کے لیے بھی ایک ’ناقابلِ برداشت خطرہ‘ ثابت ہوگی۔

  19. بریکنگ, ایران سے آنے والے دو سخوئی 24 لڑاکا طیارے مار گرائے ہیں: قطر کی وزارت دفاع کا دعویٰ

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قطر کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے ایران سے آنے والے دو ایس یو24 طیارے مار گرائے ہیں۔

    وزارت نے مزید کہا کہ اس نے سات بیلسٹک میزائل اور پانچ ڈرون بھی تباہ کر دیے ہیں ’جو آج ریاست کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کے لیے فائر کیے گئے تھے۔‘

    وزارت دفاع کے مطابق ’تمام میزائل اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیے گئے۔

  20. ایران پر بڑے حملوں کی لہر ابھی باقی ہے: ٹرمپ کا سی این این کو انٹرویو

    صدر ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے اینکر جیک ٹیپر سے فون پر نو منٹ بات کی اور کہا کہ ایران کے خلاف آپریشن کی سب سے بڑی لہر ابھی آنا باقی ہے۔

    ٹرمپ نے انھیں بتایا کہ ’ہم ان کی حالت خراب کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ بہت اچھا جا رہا ہے۔ یہ بہت طاقتور ہے۔ ہمارے پاس دنیا کی سب سے عظیم فوج ہے اور ہم اسے استعمال کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے ابھی تک ان پر سخت حملے شروع بھی نہیں کیے۔ بڑی لہر ابھی نہیں آئی۔ اصل بڑا حملہ جلد آنے والا ہے۔‘

    جب ان سے پوچھا گیا کہ جنگ کتنی طویل ہو سکتی ہے تو امریکی صدر نے کہا تقریباً ایک ماہ۔ امریکی صدر نے کہا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ یہ زیادہ دیر تک چلے۔ میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ یہ چار ہفتے ہوں گے۔ اور ہم شیڈول سے کچھ آگے ہیں۔‘

    ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے جوابی حملے پڑوسی عرب ممالک جیسے قطر اور متحدہ عرب امارات پر سب سے بڑا ’سرپرائز‘ ثابت ہوئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ان حملوں پر ’ہم حیران ہوئے۔‘ ٹرمپ کے مطابق ’ہم نے انھیں (مشرق وسطی کے اتحادیوں کو) بتایا تھا کہ یہ ہمارے قابو میں ہے اور اب وہ لڑنا چاہتے ہیں۔ اور وہ جارحانہ انداز میں لڑ رہے ہیں۔ وہ اس تنازع میں بہت کم ہی شامل ہونا چاہتے تھے مگر اب وہ اصرار کر رہے ہیں کہ شامل رہیں۔‘