ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی گئی

امریکی فوج نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے پہلے چار امریکی فوجیوں کی شناخت کر لی ہے۔ یہ فوجی امریکی آرمی ریزرو کے 103ویں سسٹینمنٹ کمانڈ (ڈیس موئنز، آئیووا) سے تعلق رکھتے تھے۔

خلاصہ

  • سعودی عرب میں سی آئی اے سٹیشن پر ایران کا ڈرون حملہ، سعودی عرب کا جوابی حملوں پر غور
  • دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، حکام کی تصدیق
  • امریکہ نے اب تک ایران میں 1,700 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے: حکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اب ایران کے پاس نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی فضائی دفاعی نظام، تقریباً سب کچھ تباہ ہو گیا ہے‘
  • ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں اب تک 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
  • سعودی فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کو دو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
  • امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ یہ ایرانی حکومت کو روکنے کا ’آخری اور بہترین موقع‘ تھا۔

لائیو کوریج

  1. امریکی فضائیہ کا ایک خصوصی فوجی طیارہ تل ابیب کی طرف محو پرواز، یہ جنگی جہاز کن خصوصیات کا حامل ہے؟

    USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی فضائیہ کا ایک فوجی طیارہ بوئنگ C-135 سٹرائیٹو ٹینکر/سٹرائیٹو لفٹر، جو KC-135 کے نام سے جانا جاتا ہے اور فضائی ایندھن بھرنے کے لیے ایئر ٹینکر ٹرانسپورٹ کے طور پر استعمال ہوتا ہے، نیدرلینڈز کے اوپر پرواز کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

    یہ طیارہ چار سی ایف ایم آئی جیٹ انجنز سے چلتا ہے اور اس کا ٹیل نمبر 63-8003 ہے۔

    یہ فوجی طیارہ امریکہ سے روانہ ہو کر تل ابیب جا رہا تھا تاکہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف جاری جنگ، جسے امریکی محکمہ دفاع نے آپریشن ایپک فیوری کا نام دیا ہے، میں معاونت فراہم کر سکے۔

  2. انڈیا کی سعودی عرب پر حملوں کی مذمت

    انڈیا، سعودی عرب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈین وزیرِاعظم نریندر مودی نے سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِاعظم شہزادہ محمد بن سلمان سے فون پر رابطہ کیا اور مغربی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بات چیت کی۔

    انڈیا نے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کی جلد بحالی انتہائی اہم ہے۔

    سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک ٹویٹ میں انڈین وزیرِاعظم نے مشکل حالات میں انڈین کمیونٹی کی دیکھ بھال کرنے پر سعودی ولی عہد کا شکریہ بھی ادا کیا۔

  3. میں اپنے عظیم دوست اور عالمی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں: نیتن یاہو

    Israel

    اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کو بیٹ شیمش میں اس مقام پر صحافیوں سے گفتگو کی رہے ہیں جہاں ایران کے بیلسٹک میزائل حملے میں نو اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے۔

    بیٹ شیمش تل ابیب اور یروشلم کے درمیان واقع ہے۔

    نیتن یاہو نے کہا کہ اگر ایرانی حکومت کو جوہری ہتھیار اور انھیں پہنچانے کے ذرائع مل گئے تو وہ ’پوری انسانیت کے لیے خطرہ‘ بن جائے گی۔ ان کے مطابق ’ہم اپنی حفاظت کے لیے نکلے ہیں، لیکن اس عمل میں ہم بہت سے دوسروں کی بھی حفاظت کر رہے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’میں اپنے عظیم دوست اور دنیا کے عظیم رہنما ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جو ہمارے ساتھ اس عظیم کوشش میں شامل ہیں تاکہ دنیا کو بچایا جا سکے۔‘

  4. امریکہ نے شہریوں کو فوری طور پر لبنان چھوڑنے کی ہدایت کر دی

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ نے لبنان میں موجود اپنے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوراً ملک چھوڑ دیں۔

    بیروت میں امریکی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’ہم امریکی شہریوں کو لبنان سفر نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہیں۔ اگر آپ ملک میں موجود ہیں تو ابھی لبنان چھوڑ دیں، جب تک کمرشل پروازوں کے آپشن دستیاب ہیں۔‘

    بیان میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں سکیورٹی صورتحال ’غیر مستحکم اور غیر متوقع‘ ہے۔ ملک بھر میں فضائی حملے ہوئے ہیں، خاص طور پر جنوبی علاقوں، بقاع اور بیروت کے بعض حصوں میں حملے ہوئے ہیں۔

    چند منٹ پہلے ہی بیروت میں ہمارے صحافیوں نے اطلاع دی کہ ضاحیہ میں ایک بڑا دھماکہ ہوا ہے، جو ایران سے منسلک حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

  5. ایرانی میڈیا نے خامنہ ای کی اہلیہ کی موت کی تصدیق کر دی, غنچے حبیبی آزاد

    ایران کے سرکاری ٹی وی چینل نے ایران کے رہبرِ اعلی آیت اللہ خامنہ ای کی اہلیہ منصورہ خجستہ باقرزادہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق وہ ’اپنے گھر میں‘ ہلاک ہوئی ہیں۔

    اس سے قبل ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ منصورہ کوما میں ہیں۔ خیال رہے اسرائیلی اور امریکی حملوں میں خامنہ ای کی بیٹی، نواسی اور ایک داماد کی موت کی تصدیق پہلے ہی کی جا چکی ہے۔

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ کا خاندان ان کی اہلیہ، چار بیٹے اور دو بیٹیوں پر مشتمل ہے۔

  6. ہم نے خود کو ایک طویل جنگ کے لیے تیار کر لیا ہے: ایران

    Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے برعکس ایک طویل جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔

    انھوں نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک پیغام لکھا کہ ’گذشتہ تین سو سالوں میں، ایران نے کوئی جنگ شروع نہیں کی ہے، اور ہماری بہادر مسلح افواج نے اپنے دفاع کے علاوہ کسی حملے میں حصہ نہیں لیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’قیمت سے قطع نظر، ہم اپنا اور اپنی 6000 سال پرانی تہذیب کا بھرپور طریقے سے دفاع کریں گے، اور ہم دشمن کو ان کے غلط حساب کتاب پر پچھتاوا دلائیں گے۔‘

    امریکی وزیرِ دفاع نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں ’لامتناہی جنگ‘ کا باعث نہیں بنیں گی اور اس کا مقصد ملک کے میزائلوں، بحریہ اور دیگر سیکورٹی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے۔

  7. یہ تاریخ کا سب سے مہلک، سب سے پیچیدہ اور سب سے درست فضائی آپریشن ہے: امریکی وزیر دفاع

    USA

    امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ یہ آپریشن ’لامتناہی جنگ‘ میں تبدیل نہیں ہوگا بلکہ مقصد ایران کے میزائل اور سکیورٹی ڈھانچے کو تباہ کرنا ہے۔ ان کے مطابق ’ایران جیسے رجیم کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔‘

    امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ’ہم نے جنگ شروع نہیں کی، لیکن صدر ٹرمپ کی قیادت میں ہم اسے ختم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ’یہ تاریخ کا سب سے مہلک، سب سے پیچیدہ اور سب سے درست فضائی آپریشن ہے۔‘

    پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ملک چار مسلح افواج کے اہلکاروں کی ہلاکت پر سوگوار ہے۔ انھوں نے ان فوجیوں کو ’امریکہ کے بہترین سپاہی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم اس آپریشن کو اس انداز میں مکمل کریں گے جو ان کی قربانی کا احترام کرے، نہ کوئی معذرت، نہ کوئی ہچکچاہٹ، بلکہ زبردست جوابی کارروائی۔‘

    پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’47 برس کے ایرانی رویے کے بعد لکیر کھینچ دی ہے‘ اور واضح کر دیا ہے کہ جو بھی امریکیوں کو قتل کرے یا دھمکائے گا، اسے ’بغیر معذرت اور بغیر ہچکچاہٹ‘ نشانہ بنایا جائے گا۔

    پیٹ ہیگستھ نے براہِ راست فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ وہ موڑ ہے جس کا ہم انتظار کر رہے تھے۔‘

    ہیگستھ نے مزید کہا کہ امریکہ نے ’اس جنگ کی شرائط ابتدا سے آخر تک خود طے کی ہیں‘ اور امید ظاہر کی کہ ’ایرانی عوام اس غیر معمولی موقع سے فائدہ اٹھائیں گے۔‘ انھوں نے ایرانی سکیورٹی فورسز کو ’سمجھداری سے انتخاب کرنے‘ کی تلقین کی اور زور دیا کہ ’ہم جیتنے کے لیے لڑتے ہیں اور وقت یا جانیں ضائع نہیں کرتے۔‘

    پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو ’اپنے جوہری عزائم دوبارہ شروع کرنے‘ کے لیے استعمال کر رہا تھا۔ انھوں نے گذشتہ برس کے آپریشن مڈنائٹ ہیمر کا حوالہ دیا جس میں امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کر دیا تھا۔

    ان کے مطابق تہران ’امن اور معقول معاہدے‘ پر تیار نہیں تھا بلکہ میزائل ذخائر دوبارہ بھرنے اور جوہری پروگرام بحال کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

    امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے کہا ہے ’جو لوگ ہمارے عزم کو آزمانا چاہتے ہیں یا امریکہ، ہمارے اتحادیوں یا ہمارے مفادات کو دھمکاتے ہیں، یہ بات اچھی طرح سمجھ لیں، ہم آپ تک پہنچ سکتے ہیں۔۔۔ اور ہم کامیاب ہوں گے۔‘

  8. قطر پر ایران کے دو ڈرون حملے، متعلقہ حکام نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں: وزرات دفاع

    قطر کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ ملک کو ایران سے لانچ کیے گئے دو ڈرونز نے نشانہ بنایا۔ ایک ڈرون نے مسیعید میں بجلی گھر کے واٹر ٹینک کو نشانہ بنایا، جبکہ دوسرا ڈرون راس لفان انڈسٹریل سٹی میں قطر انرجی کی ایک توانائی تنصیب پر گرا۔

    وزارت کے مطابق ان حملوں میں کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔ متعلقہ حکام نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس بارے میں باضابطہ بیان بعد میں جاری کیا جائے گا۔

  9. ایران کے خلاف جنگ میں اب تک چار فوجی ہلاک ہو گئے ہیں: امریکہ کی تصدیق

    US, Iran

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ابھی تک چار امریکی فوجی ایران کے خلاف جاری جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ چوتھا فوجی، جو ایران کے ابتدائی حملوں میں شدید زخمی ہوا تھا، بالآخر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

    امریکہ نے گذشتہ روز تین فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

    سینٹ کام کے مطابق بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں جاری ہیں اور ایران کی طرف سے کیے جانے والے حملوں کا بھی جواب دیا جا رہا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے فوجیوں کی شناخت ان کے اہلِ خانہ کو اطلاع دینے کے 24 گھنٹے بعد جاری کی جائے گی۔

  10. کویت میں امریکی لڑاکا طیارے دوستانہ فائرنگ کا نشانہ بنے: سینٹ کام

    USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی سینٹرل کمانڈ (یو ایس سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ تین امریکی ایف-15 ای سٹرائیک ایگل لڑاکا طیارے کویت میں دوستانہ فائرنگ کے ایک واقعے میں تباہ ہو گئے۔

    بیان کے مطابق یہ واقعہ پیر کو پیش آیا، جب آپریشن ایپک فیوری کے دوران ایرانی طیاروں، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کے دوران کویتی فضائی دفاع نے غلطی سے امریکی طیاروں کو نشانہ بنا دیا۔

    بیان کے مطابق تمام چھ فضائی اہلکاروں نے بروقت ایجیکٹ کیا، انھیں بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا ہے اور ان کی حالت مستحکم ہے۔

    امریکہ کے مطابق کویت نے اس واقعے کی ذمہ داری تسلیم کی ہے جبکہ امریکہ نے کویتی دفاعی فورسز کی کوششوں اور تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے۔

    یو ایس سینٹ کام نے کہا ہے کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید معلومات دستیاب ہوتے ہی جاری کی جائیں گی۔

    USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ہتیھاروں کے ماہر کرس پارٹرج کے مطابق ایف-15 ای سٹرائیک ایگل ایک ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جو فضائی اور زمینی دونوں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ موجودہ تنازع میں یہ طیارے غالباً دفاعی فضائی کارروائیوں میں مصروف ہیں، تاکہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روک سکیں۔ اس مقصد کے لیے یہ طیارے ہیٹ-سیکنگ میزائلز، طویل فاصلے کے میزائلز، یا قریب ہونے کی صورت میں گنز استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے پاس لیزر گائیڈڈ راکٹس جیسے دیگر ہتھیار بھی موجود ہیں۔

    ’جنگی ماحول میں، جہاں ہر طرف ’گرم دھات‘ فضا میں اڑ رہی ہو، اس طرح کے واقعات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔‘

  11. آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات کیا ہوں گے؟

    جیسے جیسے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایران آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق انتباہ جاری کر رہا ہے، ممکنہ معاشی اثرات پر تشویش بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ آئیے سمجھتے ہیں کہ آبنائے ہرمز جنوبی ایشیا کی معیشتوں کے لیے کیوں کلیدی اہمیت رکھتی ہے اور اگر یہاں رکاوٹ یا بندش پیدا ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں، مہنگائی اور عالمی تجارت پر اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

  12. ایران کے اقدامات سے کشیدگی میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے: امریکہ اور اتحادی خلیجی ممالک

    امریکہ اور اس کے چھ اتحادی خلیجی ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ خطے میں ایران کے اقدامات ایک ’خطرناک اضافہ‘ ہیں جو مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’شہریوں اور غیر جنگجو ممالک کو نشانہ بنانا ایک غیرذمہ دارانہ رویہ ہے جو استحکام کو کمزور کرتا ہے۔‘ یہ بیان کویت کی وزارتِ خارجہ نے شیئر کیا۔

    یہ بیان، جو اصل میں عربی میں جاری کیا گیا تھا، کویت، سعودی عرب، بحرین، قطر، اردن، متحدہ عرب امارات اور امریکہ نے مشترکہ طور پر جاری کیا۔

    ان ممالک نے کہا کہ وہ ’اپنے دفاع کے حق کی تجدید کرتے ہیں‘ کیونکہ خطے میں ایرانی حملے جاری ہیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حملے بحرین، عراق (بشمول کردستان ریجن)، اردن، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں کیے گئے ہیں۔

    Saudi Arabia
  13. ڈرون حملے ناکام بنانے کے بعد ریاستی آئل ریفائنری میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے: سعودی عرب

    سعودی عرب کی وزارتِ توانائی کا کہنا ہے کہ راس تنورہ ریفائنری میں لگنے والی ’محدود آگ‘ پر قابو پا لیا گیا ہے۔ یہ ریفائنری ملک کی ریاستی آئل کمپنی آرامکو کے زیرِ انتظام ہے۔

    وزارت کا بیان جو سعودی پریس ایجنسی نے جاری کیا، کے مطابق ریفائنری کو ’گرنے والے ملبے سے معمولی نقصان‘ پہنچا ہے۔ یہ ملبہ اس وقت گرا جب ریفائنری کے قریب ’دو ڈرونز کو روک لیا گیا‘۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آگ کو فوری طور پر ایمرجنسی سروسز نے بجھا دیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    بی بی سی کی جانب سے تصدیق شدہ ویڈیو میں ریفائنری سے آگ اور دھوئیں کے بڑے بادل اٹھتے دکھائی دیتے ہیں۔

    سعودی عرب طویل عرصے سے امریکی اور مغربی فوجی دستوں کی میزبانی کرتا رہا ہے۔ سنیچر کے روز حکومت نے ایک بیان میں ’ایرانی حملوں کو کھلی اور بزدلانہ جارحیت‘ قرار دیتے ہوئے مذمت کی۔

    سعودی عرب نے کہا کہ یہ حملے ’کامیابی سے ناکام بنا دیے گئے‘ اور ان کا ہدف ریاض ریجن اور مشرقی صوبہ تھا۔

    Saudi Arabia

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

  14. جب کویت میں ایرانی ڈرون نشانہ بنا

  15. تازہ حملے میں ایران کے سینیئر انٹیلیجنس اہلکار ہلاک ہو گئے: اسرائیلی فوج کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ایک نئے بیان میں کہا ہے کہ اس نے ایران کے نائب وزیرِ انٹیلیجنس برائے اسرائیلی امور سید یحییٰ حمیدی کو ہلاک کر دیا ہے۔

    بیان کے مطابق وزارتِ انٹیلیجنس کے جاسوسی ڈویژن کے سربراہ جلال پور حسین بھی مارے گئے ہیں، جبکہ دیگر ’ریجیم اہلکار‘ بھی اس کارروائی میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    اسرائیلی افواج نے یہ وضاحت نہیں کی کہ یہ کارروائی کب، کہاں اور کس طریقے سے کی گئی۔ تاہم فوج نے مزید کہا ہے کہ ایران کی وزارتِ انٹیلی جنس کا ہیڈکوارٹر تہران میں کچھ دیر پہلے نشانہ بنایا گیا۔

  16. بریکنگ, اسرائیلی وزیر دفاع کا حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    Hizbollah

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم اسرائیلی حملے کا نشانہ بنے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ’وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور میں نے اسرائیلی فوج کو حزب اللہ کے خلاف طاقت سے کارروائی کرنے کی ہدایت کی ہے۔‘

  17. اسرائیلی افواج کا حزب اللہ کے ایک سینیئر رہنما کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    بیروت

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اسرائیلی دفاعی افواج کا کہنا ہے کہ اس نے بیروت میں حزب اللہ کے ایک رہنما کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا ہے۔

    فوج کا کہنا ہے کہ وہ جلد اس متعلق تفصیلات جاری کرے گی۔

    اطلاعات کے مطابق آئی ڈی ایف نے بیروت سمیت لبنان کے مختلف علاقوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔

    لبنان میں زمینی کارروائی سمیت تمام آپشنز زیر غور ہیں

    Beirut

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بیروت اور شمالی سرحد پر تازہ جھڑپوں کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’لبنان میں زمینی کارروائی کے حوالے سے تمام آپشنز زیر غور ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ ’اسرائیل پر حملے کی بھاری قیمت ادا کرے گی‘ اور یہ کہ ’ہم تیار ہیں، پوری طرح تیار۔‘

    ترجمان کے مطابق تقریباً ایک لاکھ ریزرو فوجی، درجنوں بٹالین، بریگیڈ اور ڈویژنز شمالی سرحد کے دفاع کے لیے متحرک کیے جا چکے ہیں اور فوج ہر ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہے۔

    ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ فوج مسلسل صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور ’تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔‘

  18. کویت میں امریکی جنگی طیارے کی تباہی کے مناظر

    بی بی سی کی جانب سے تصدیق شدہ فوٹیج میں وہ لمحہ دکھائی دیتا ہے جب ایک امریکی لڑاکا طیارہ آسمان سے گر کر کویت سٹی کے قریب زمین سے جا ٹکراتا ہے۔

    یہ منظر شہر کے مغربی حصے ’الجہرہ‘ کے قریب فلمایا گیا ہے۔

    اس سے قبل کویت کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ ’متعدد‘ امریکی لڑاکا طیارے کویت میں گر کر تباہ ہوئے ہیں، تاہم اس پر سوار عملہ محفوظ رہا ہے۔

  19. ایران پر حملے کی پیشگی اطلاع نہیں دی گئی: چین

    بیجنگ کا کہنا ہے کہ واشنگٹن نے ایران پر حملے سے قبل چین کو پیشگی اطلاع نہیں دی تھی۔ اس نے تمام فریقین سے فوجی کارروائیاں روکنے اور تناؤ میں کمی کا مطالبہ کیا ہے۔

    پیر کو پریس بریفنگ کے دوران چینی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ’میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ چین کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔‘

    ترجمان نے کہا کہ امریکہ اور ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی جو کہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ لڑائی پڑوسی ممالک کو متاثر کر رہی ہے جس پر چین کو گہری تشویش ہے۔

    چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ تمام خلیجی ممالک کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کا مکمل احترام کرنا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں استحکام اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے چین عالمی برادری کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

    جب ان سے اس حوالے سے سوال کیا گیا کہ آیا ایران اور چین کے درمیان سپر سونک اینٹی شپ میزائل سی ایم 302 کا معاہدہ ہونے جا رہا ہے تو انھوں نے اس کی تردید کی۔

  20. قبرص میں برطانوی فوجی اڈے کو ’ایرانی ڈرون نے نشانہ بنایا‘

    قبرص میں برطانوی فوجی اڈے کو ’ایرانی ڈرون نے نشانہ بنایا‘

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    قبرص کے صدر نکوس کرسٹوڈولائیڈس کا کہنا ہے کہ جنوبی قبرص میں برطانوی فوجی اڈے پر ایرانی ڈرون حملہ کیا گیا۔

    ان کے مطابق دیر رات کے وقت ایران کے بغیر پائلٹ والے شاہد ڈرون نے ایکروتیری میں فوجی اڈے کو نشانہ بنایا جس میں معمولی نقصان ہوا۔

    صدر نے کہا ہے کہ وہ یورپی رہنماؤں اور دیگر ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ’مسلسل رابطے‘ میں ہیں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ قبرص ’کسی بھی فوجی کارروائی کا حصہ بننے کا ارادہ نہیں رکھتا۔‘

    یہ بیان اس تازہ اعلان کے بعد سامنے آیا ہے جو برطانوی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ ایکروتیری اڈے سے اہلکاروں کے اہلِ خانہ کا انخلا کیا جا رہا ہے۔