ایران پر امریکی حملے کو تین دن ہو گئے ہیں تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی مقاصد اور ملک کے مستقبل کے لیے ان کا وژن مبہم ہے۔
ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار مشرق وسطیٰ میں دو دہائیوں میں ہونے والے سب سے بڑے امریکی فوجی آپریشن سے کیا حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں، اس بارے میں وسیع تر خیالات پیش کیے جا رہے ہیں۔
اور آیا امریکہ تہران میں حکومت کی تبدیلی کی حمایت کرتا ہے یا نہیں؟ یہ سوال اب بھی باقی ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدا میں کہا تھا کہ اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنا ہے لیکن بعد کے دنوں میں یہ دلیل بدل گئی کیونکہ ٹرمپ نے اپنے ارادوں کی نشاندہی کے لیے سوشل میڈیا پوسٹس اور صحافیوں کے ساتھ مختصر ٹیلی فونک انٹرویوز کی غیر روایتی پیغام رسانی کی حکمت عملی کا استعمال کیا۔
ٹرمپ نے جنگ کے آغاز کے بعد پیر کو وائٹ ہاؤس میں اپنے پہلے عوامی تبصرے میں اپنے کچھ مقاصد بیان کیے تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں اور بحری اور جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت اور خطے میں پراکسی گروپوں کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انھوں نے دلیل دی کہ جنگ کا وسیع مقصد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایران کے حملوں سے بچانا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ایرانی حکومت مشرق وسطیٰ بلکہ امریکی عوام کے لیے بھی ناقابل برداشت خطرہ ہو گی‘ لیکن ٹرمپ نے اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد ایران کا مستقبل کیسا ہو سکتا ہے، یا یہ آپریشن مکمل ہونے کے بعد یہ ملک امریکہ کے لیے مزید خطرہ نہیں بنے گا۔
ٹرمپ نے ابھی تک یہ بھی نہیں بتایا کہ خامنہ ای کی موت کے بعد ان کے خیال میں جانشینی کا منصوبہ کیا ہونا چاہیے۔
سوموار کے روز امریکی صدر نے اپنے ریمارکس کو مختصر رکھا اور یہ نہیں بتایا کہ ایران یا باقی خطے کے لیے آگے کیا ہو سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ یہ جنگ ’چار سے پانچ ہفتے‘ تک جاری رہنے کا امکان ہے لیکن یہ مزید بھی چل سکتی ہے۔
ٹرمپ نے کہا ’جتنا بھی وقت لگے، یہ ٹھیک ہے۔‘