ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی گئی

امریکی فوج نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے پہلے چار امریکی فوجیوں کی شناخت کر لی ہے۔ یہ فوجی امریکی آرمی ریزرو کے 103ویں سسٹینمنٹ کمانڈ (ڈیس موئنز، آئیووا) سے تعلق رکھتے تھے۔

خلاصہ

  • سعودی عرب میں سی آئی اے سٹیشن پر ایران کا ڈرون حملہ، سعودی عرب کا جوابی حملوں پر غور
  • دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، حکام کی تصدیق
  • امریکہ نے اب تک ایران میں 1,700 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے: حکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اب ایران کے پاس نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی فضائی دفاعی نظام، تقریباً سب کچھ تباہ ہو گیا ہے‘
  • ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں اب تک 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
  • سعودی فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کو دو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
  • امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ یہ ایرانی حکومت کو روکنے کا ’آخری اور بہترین موقع‘ تھا۔

لائیو کوریج

  1. کویت میں امریکی سفارتخانہ تاحکم ثانی بند

    کویت میں امریکی سفارتخانہ تاحکم ثانی بند کر دیا گیا ہے۔

    ایکس پر اپنی پوسٹ میں امریکی سفارتخانے نے لکھا کہ وہ تمام اپائنٹمنٹس کو منسوخ کر رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ سوموار کے روز امریکی محکمہ خارجہ نے مشرق وسطیٰ کے بہت سے ملکوں میں امریکیوں پر زور دیا تھا کہ ’سنگین خطرات‘ کی وجہ سے وہ وہاں سے نکل جائیں۔

  2. ایران جنگ کا چوتھا روز: اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    • اسرائیل نے تہران اور بیروت میں آج ’فوجی اہداف‘ پر ’فضائی حملوں‘ کی ایک تازہ لہر شروع کر دی ہے۔
    • سعودی فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کو دو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
    • ایران کے سرکاری میڈیا کا دعویٰ ہے کہ بحرین میں ایک حملے میں امریکی فضائی اڈہ تباہ کر دیا گیا ہے۔
    • امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گذشتہ روز کہا ہے کہ ایران پر ’شدید ترین حملے ہونا ابھی آنا باقی ہیں۔‘
    • ایک ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے ’جو جہاز بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرے گا، ایران اسے آگ لگا دے گا۔‘
    • مشرق وسطیٰ میں جاری اس کشیدگی کی وجہ سے تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔
  3. امریکہ کے پاس ’ہمیشہ‘ جاری رہنے والی جنگ کے لیے بھی کافی ہتھیار ہیں، ٹرمپ

    ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے پاس جنگی ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ موجود ہے جسے استعمال کرتے ہوئے ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگیں لڑی جا سکتی ہیں‘۔

    ٹروتھ سوشل پر ڈونلڈ ٹرمپ نے لکھا کہ ’ہمارے پاس ان ہتھیاروں کا عملی طور پر لامحدود ذخیرہ ہے۔ امریکہ کے پاس ہتھیار ہیں اور وہ (جنگ) جیتنے کے لیے تیار ہے۔‘

  4. اسرائیل کے تہران اور بیروت پر تازہ حملے

    ،ویڈیو کیپشناسرائیل اور حزب اللہ مدِمقابل: لبنان میں 52 ہلاک

    اسرائیلی فوج نے تصدیق کی ہے کہ اس نے تہران اور لبنان کے دارالحکومت بیروت میں فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔

    آئی ڈی ایف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’اسرائیلی فوج اس وقت تہران اور بیروت میں فوجی اہداف کے خلاف بیک وقت ٹارگٹڈ حملے کر رہی ہے۔‘

    آئی ڈی ایف کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے کمانڈ سینٹرز اور گوداموں پر حملہ کر رہے ہیں۔

  5. قطر کا اقوام متحدہ کو خط: ’ایران نے یکے بعد دیگرے 83 بیلسٹک میزائلوں اور 12 ڈرونز سے حملہ کیا‘

    قطر نے اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کے نام خط میں ایرانی حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق خط میں ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق قطر اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔

    قطری وزارت خارجہ کے مطابق 28 فروری کو ایران نے میزائل اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا جنھیں قطر نے کامیابی سے روک دیا۔

    بیان کے مطابق 28 فروری سے یکم مارچ تک ایران کی جانب سے آنے والے 92 بیلسٹک میزائل اور 17 ڈرونز کا پتہ لگایا گیا۔

    بیان کے مطابق سنیچر کے روز یعنی 28 فروری کو ایران کی جانب سے یکے بعد دیگرے 83 بیلسٹک میزائلوں اور 12 ڈرونز سے حملہ کیا گیا تاہم پہلے سے منظور شدہ آپریشنل پلان کے مطابق ان سے نمٹا گیا۔

    قطری وزارت خارجہ کے مطابق 81 میزائلوں اور 11 ڈرونز کو ان کے اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا گیا گیا تاہم دو بیلسٹک میزائل قطر کی العدید ایئربیس پہنچنے میں کامیاب رہے جبکہ ایک ڈرون نے پیشگی اطلاع دینے والے ریڈار سٹیشن کو نشانہ بنایا تاہم ان واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    قطری وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق سنیچر کو ملک کے مختلف حصوں سے ملبہ گرنے کی 114 اطلاعات سامنے آئیں جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے، جن میں سے چار ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ایک کی حالت تشویشناک ہے جبکہ چار دیگر کو علاج کے بعد فارغ کر دیا گیا۔

    بیان کے مطابق اتوار کی صبح مزید آٹھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں، جس سے زخمیوں کی کل تعداد 16 ہو گئی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. بحرین میں ایرانی حملے میں امریکی فضائی اڈہ تباہ: ایرانی سرکاری میڈیا کا دعویٰ

    ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ بحرین میں ایک ایرانی حملے کے نتیجے میں امریکی فضائی اڈہ تباہ ہو گیا ہے۔

    پاسدران انقلاب سے منسلک نیوز ایجنسی فارس کی جانب سے پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں راکٹس کو دور دراز کے اہداف پر حملہ کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    فارس کا دعویٰ ہے کہ پاسدران انقلاب کے ڈرون اور میزائل حملے میں بحرین کے علاقے شیخ عیسیٰ میں امریکی کمانڈ اور وہاں کام کرنے والے عملے کو نقصان پہنچا۔

    امریکہ نے ابھی تک ان اطلاعات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

    اس سے قبل بحرین میں امریکہ کے زیر انتظام بحری اڈے سے دھواں اٹھتا بھی دیکھا گیا تھا۔

  7. نیتن یاہو کے فیصلوں کی وجہ سے امریکی مارے جا رہے ہیں: امریکی مبصر ٹکر کارلسن کی اسرائیلی وزیراعظم پر تنقید

    ٹکر کارلسن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    قدامت پسند امریکی مبصر ٹکر کارلسن نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ (نیتن یاہو) کو اپنے کنٹرول میں لے۔

    ٹکر کارلسن نیٹ ورک پر اپنی تازہ ترین پوڈکاسٹ میں ٹکر کارلسن نے کہا کہ ’معذرت کے ساتھ لیکن یہ یہود مخالفت نہیں۔ یہ ایک ایسے سربراہ مملکت ہیں جن کے فیصلوں کی وجہ سے امریکی مارے جا رہے ہیں اور دنیا کی تاریخ اور قسمت بلکہ امریکہ کے مستقبل کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔‘

    فاکس نیوز کے سابق میزبان نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو اسرائیلی حکومت کو یہ کہنا ہو گا کہ وہ انچارج نہیں۔

    نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ کے اتحادی کارلسن نے فوجی کارروائی کے خلاف لابنگ کی تھی اور یہاں تک کہ کئی بار وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے ملاقات بھی کی تھی تاکہ انھیں ایران پر حملے سے روکا جا سکے۔

  8. مشرق وسطیٰ میں کشیدگی: تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ جاری

    تیل اور گیس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کی وجہ سے تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے۔

    پیر کو برینٹ کروڈ کی قیمت 1.9 فیصد اضافے کے ساتھ 79.25 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ امریکی تجارتی تیل کی قیمت میں تقریباً 1.5 فیصد اضافہ ہوا۔

    قدرتی گیس کی قیمتوں میں اس وقت اضافہ ہوا جب ’قطر انرجی‘ جو دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ہے، نے اپنی تنصیبات پر حملوں کے بعد پیداوار بند کردی۔

  9. سیٹلائٹ تصاویر سعودی آئل ریفائنری کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں کیا بتاتی ہیں؟, بی بی سی ویریفائی

    سیٹلائٹ تصاویر

    ،تصویر کا ذریعہVentor

    بی بی سی ویریفائی نے جن نئی سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا ہے، ان میں ڈرون حملوں کی اطلاع کے بعد سعودی عرب کی ایک بڑی آئل ریفائنری کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    وینٹر کی طرف سے آج لی گئی تصاویر میں سعودی عرب کے مشرقی شہر راس تنورا میں واقع اس آئل ریفائنری کے مرکزی علاقے میں کولنگ ٹاورز کے اردگرد آگ اور جلنے کے نشانات دکھائی دیتے ہیں۔

    سعودی عرب کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو نے آج کہا ہے کہ فضائی حملوں کی وجہ سے اسے اپنی ریفائنری کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا۔

    یہ سعودی عرب میں موجود سب سے بڑی ریفائنری ہے اور یومیہ ساڑھے پانچ لاکھ بیرل پراسیس کر سکتی ہے۔

    خیال رہے کہ پیر کو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 2019 میں بھی ایران نے سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔

  10. ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا جلد جواب دیا جائے گا: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا جلد جواب دیا جائے گا۔

    کیبل نیٹ ورک ’نیوز نیشن‘ کی صحافی کیلی میئر نے ایکس پر لکھا کہ ٹرمپ نے انھیں یہ بھی کہا ہے کہ ’وہ نہیں سمجھتے کہ ایران کے اندر فوجیں اتارنے کی ضرورت پیش آئے گی۔‘

    واضح رہے کہ پیر کے روز امریکہ نے بتایا کہ حالیہ لڑائی کے دوران اس کے چھ فوجی ہلاک جبکہ 18 زخمی ہو چکے ہیں۔

  11. یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کو اس جنگ میں دھکیلا: نیتن یاہو

    فوکس نیوز کو انٹرویو کے دوران جب نیتن یاہو سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس جنگ میں دھکیلا تو اسرائیلی وزیراعظم ہنس پڑے۔

    انھوں نے جواب دیا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے طاقتور ترین رہنما ہیں۔ وہ وہی کرتے ہیں، جو ان کے خیال میں امریکہ کے لیے ٹھیک ہوتا ہے۔‘

    ’لیکن میں جانتا ہوں کہ کبھی کبھی ایسے لوگوں سے حفاظت کے لیے جنگ ضروری ہوتی ہے جو ہمیں تباہ کر سکتے ہیں۔‘

  12. ایران جنگ کے حوالے سے ٹرمپ کے مقاصد ابھی تک غیر واضح, ڈینیئل بش، وائٹ ہاؤس کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار

    ایران پر امریکی حملے کو تین دن ہو گئے ہیں تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی مقاصد اور ملک کے مستقبل کے لیے ان کا وژن مبہم ہے۔

    ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار مشرق وسطیٰ میں دو دہائیوں میں ہونے والے سب سے بڑے امریکی فوجی آپریشن سے کیا حاصل کرنے کی امید رکھتے ہیں، اس بارے میں وسیع تر خیالات پیش کیے جا رہے ہیں۔

    اور آیا امریکہ تہران میں حکومت کی تبدیلی کی حمایت کرتا ہے یا نہیں؟ یہ سوال اب بھی باقی ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدا میں کہا تھا کہ اس کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنا ہے لیکن بعد کے دنوں میں یہ دلیل بدل گئی کیونکہ ٹرمپ نے اپنے ارادوں کی نشاندہی کے لیے سوشل میڈیا پوسٹس اور صحافیوں کے ساتھ مختصر ٹیلی فونک انٹرویوز کی غیر روایتی پیغام رسانی کی حکمت عملی کا استعمال کیا۔

    ٹرمپ نے جنگ کے آغاز کے بعد پیر کو وائٹ ہاؤس میں اپنے پہلے عوامی تبصرے میں اپنے کچھ مقاصد بیان کیے تھے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں اور بحری اور جوہری ہتھیار تیار کرنے کی صلاحیت اور خطے میں پراکسی گروپوں کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    انھوں نے دلیل دی کہ جنگ کا وسیع مقصد امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایران کے حملوں سے بچانا ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ ’طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور جوہری ہتھیاروں سے لیس ایرانی حکومت مشرق وسطیٰ بلکہ امریکی عوام کے لیے بھی ناقابل برداشت خطرہ ہو گی‘ لیکن ٹرمپ نے اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں کیا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد ایران کا مستقبل کیسا ہو سکتا ہے، یا یہ آپریشن مکمل ہونے کے بعد یہ ملک امریکہ کے لیے مزید خطرہ نہیں بنے گا۔

    ٹرمپ نے ابھی تک یہ بھی نہیں بتایا کہ خامنہ ای کی موت کے بعد ان کے خیال میں جانشینی کا منصوبہ کیا ہونا چاہیے۔

    سوموار کے روز امریکی صدر نے اپنے ریمارکس کو مختصر رکھا اور یہ نہیں بتایا کہ ایران یا باقی خطے کے لیے آگے کیا ہو سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ یہ جنگ ’چار سے پانچ ہفتے‘ تک جاری رہنے کا امکان ہے لیکن یہ مزید بھی چل سکتی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا ’جتنا بھی وقت لگے، یہ ٹھیک ہے۔‘

  13. اگر حملہ نہ کرتے تو ایران کی جوہری سرگرمیوں کو کوئی روک نہ پاتا: اسرائیلی وزیراعظم

    نیتن یاہو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایران پر اسرائیلی حملوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کی حالیہ جوہری سرگرمیوں کی وجہ سے وہ مہینوں کے اندر اندر اس قابل ہو جاتا کہ اسے روکنا ناممکن ہو جاتا۔

    جون میں 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے جوہری مقامات کو نشانہ بنانے والے اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ فضائی حملوں کے باوجود نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایرانی فوجیوں اور تکنیکی ماہرین نے ’زیر زمین بنکرز‘ سمیت نئی تنصیبات بنانا شروع کیں، جہاں وہ بیلسٹک میزائل اور ایٹم بم تیار کر سکتے تھے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نے فوکس نیوز کو بتایا کہ ’اگر اب کوئی ایکشن نہ لیا جاتا تو مستقبل میں کوئی ایکشن نہ لیا جا سکتا۔‘

    واضح رہے کہ ایران اس بات سے انکار کرتا ہے کہ وہ جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن جوہری نگرانی کے عالمی ادارے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) سمیت کئی ملک ایران کا یہ موقف تسلیم نہیں کرتے۔

  14. امریکہ برسوں جاری رہنے والے تنازع میں داخل نہیں ہو گا: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس

    جے ڈی وینس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ کسی ایسے تنازعے میں داخل نہیں ہو گا جو برسوں جاری رہے۔

    امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ ’امریکی صدر کا ایک واضح مقصد ہے اور وہ یہ ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار موجود نہ ہوں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’امریکی صدر صرف اپنے دور ملازمت کے پہلے تین چار سال میں ملک کو ایران کے جوہری ہتھیاروں سے محفوظ نہیں رکھنا چاہتے بلکہ وہ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ایران کے پاس کبھی جوہری ہتھیار نہ ہوں اور اس کے لیے بنیادی طور پر ایرانی حکومت کی ذہنیت میں تبدیلی کی ضرورت ہو گی۔‘

    جے ڈی وینس نے یہ بھی کہا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو کئی سالہ تنازع میں نہیں جانے دیں گے۔۔۔ ہم ان مسائل میں نہیں پڑیں گے جو ہمیں عراق اور افغانستان کے ساتھ درپیش تھے۔‘

  15. بریکنگ, سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے سفارتی علاقے میں دھماکے

    ذرائع ابلاغ نے عینی شاہدین کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ منگل 3 مارچ کی صبح سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے دو باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ دھماکے کے بعد ریاض میں امریکی سفارت خانے کی عمارت میں آگ لگ گئی۔

    اے ایف پی نے چار عینی شاہدین کے حوالے سے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ منگل کی صبح زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور ریاض کے سفارتی کوارٹر، سعودی دارالحکومت میں غیر ملکی سفارت خانے اور غیر ملکی سفارت کاروں کی رہائش گاہوں میں سیاہ دھوئیں کے بادل دیکھے گئے۔

    سعودی فوج کے ترجمان کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ریاض میں امریکی سفارت خانے کو دو ڈرون حملوں نے نشانہ بنایا گیا ہے۔

    امریکی سفارتخانے نے ایکس (X) پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں ’عمارت میں محدود آگ اور معمولی مادی نقصان‘ ہوا ہے۔

    امریکی مشن برائے سعودی عرب نے جدہ، ریاض اور ظہران کے لیے شیلٹر اِن پلیس نوٹیفکیشن جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی فوجی تنصیبات کے لیے غیر ضروری سفر کو محدود کرے گا۔

    یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے جب ایران نے امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے جواب میں میزائل اور ڈرون حملوں کی لہر کے ساتھ سعودی عرب سمیت خلیج فارس کے ممالک پر اپنے حملے تیز کر دیے۔

  16. اسرائیلی فوج کا ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے ہیڈ کوارٹر کو ’تباہ‘ کرنے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس کی فضائیہ نے ایران کے خلاف جاری مہم کے ایک حصے کے طور پر، ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بناتے ہوئے ’تباہ‘ کر دیا ہے۔

    فوج نے اپنے بیان میں کہا ’وہ کارروائیاں جو مرکزِی میڈیا اور پروپیگنڈا میں کی جارہی تھیں، انھیں پاسدارانِ انقلاب کے ذریعے انجام دیا جا رہا تھا اور ان کی نگرانی بھی وہی کر رہے تھے۔ ‘

    اس حملے کی وجہ بتاتے ہوئے اقرائیلی فوج نے مزید کہا کہ ’برسوں سے ایرانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن اتھارٹی اسرائیل کی تباہی اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی وکالت کرتی رہی ہے۔‘

  17. ایران نے اسرائیل کے کئی علاقوں کی طرف میزائل داغے ہیں، اسرائیلی فوج کا انتباہ

    اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ ایران نے اسرائیل کے کئی علاقوں کی طرف میزائل داغے ہیں۔

    پورے ملک میں لوگوں کو پناہ لینے کے لیے فون الرٹس بھیجے گئے ہیں۔

    اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام ’خطرے کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

  18. بریکنگ, امریکی محکمہ خارجہ کی مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر حصوں سے امریکیوں کو نکل جانے کی ہدایت دی

    امریکی محکمہ خارجہ نے ’سنگین حفاظتی خطرات‘ کے پیشِ نظر امریکی شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر حصوں سے فوری طور پر نکل جائیں۔

    یہ ہدایت ان شہریوں پر لاگو ہوتی ہے جو بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، مغربی کنارے، غزہ، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن میں موجود ہیں۔

  19. ایران کے 49 سینیئر ترین رہنما اب تک مارے جا چکے ہیں: امریکہ

    امریکہ میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر جاری حملوں میں ’ایرانی حکومت کے سینیئر ترین رہنماؤں میں سے 49‘ مارے گئے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں، انھوں نے امریکی آپریشن کے اہداف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس آپریشن کا مقصد ’اس شدت پسند حکومت سے امریکہ کو لاحق خطرے کو روکنا ہے۔‘

  20. بریکنگ, اسرائیلی فضائی حملوں کی نئی لہر

    اسرائیلی فوج نے ایران پر فضائی حملوں کا نیا دور شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    چند منٹ قبل فوج کے ترجمان نے تہران میں ایرانی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے ارد گرد ریڈ زون کو نئے حملوں کا ایک ہدف قرار دیا تھا اور علاقے کے آس پاس کے رہائشیوں سے کہا تھا کہ وہ اس سے دور رہیں۔

    اسی وقت، مشرقی تہران، پیروزی اور نرمک گلیوں کے علاقے کے ساتھ ساتھ جنوبی تہران میں نازی آباد کے قریب دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    امریکہ اور اسرائیل نے گذشتہ تین دنوں میں ایران کے مختلف حصوں میں ایک ہزار سے زائد اہداف پر حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔