ایرانی حملے میں ہلاک ہونے والے چار امریکی فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی گئی

امریکی فوج نے ایران کے ساتھ جاری جنگ میں ہلاک ہونے والے پہلے چار امریکی فوجیوں کی شناخت کر لی ہے۔ یہ فوجی امریکی آرمی ریزرو کے 103ویں سسٹینمنٹ کمانڈ (ڈیس موئنز، آئیووا) سے تعلق رکھتے تھے۔

خلاصہ

  • سعودی عرب میں سی آئی اے سٹیشن پر ایران کا ڈرون حملہ، سعودی عرب کا جوابی حملوں پر غور
  • دبئی میں امریکی قونصل خانے کے قریب ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی، حکام کی تصدیق
  • امریکہ نے اب تک ایران میں 1,700 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے: حکام
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اب ایران کے پاس نہ بحریہ ہے، نہ فضائیہ اور نہ ہی فضائی دفاعی نظام، تقریباً سب کچھ تباہ ہو گیا ہے‘
  • ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں اب تک 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
  • سعودی فوج کے ترجمان نے بتایا ہے کہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے کو دو ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
  • امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ یہ ایرانی حکومت کو روکنے کا ’آخری اور بہترین موقع‘ تھا۔

لائیو کوریج

  1. ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے: ’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہو‘, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    میں ایران پر تازہ حملوں کے بعد سے ہی مقامی لوگوں سے بات کر رہی ہوں۔ عمید نامی ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران میں لوگ بےچینی کا شکار ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ یہ صورتحال کب تک چلے گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے سوچا تھا کہ وہ خامنہ ای کی طرح کے کچھ عہدیداروں کو ہدف بنائیں گے اور پھر یہ حملے بند ہو جائیں گے۔‘

    عمید مزید کہتے ہیں کہ ’سڑکوں پر اب سکیورٹی فورسز کی موجودگی زیادہ ہے لیکن سڑکیں خالی ہیں۔ کچھ دکانیں بند ہیں، خاص طور پر وہ جو متاثرہ علاقوں میں واقع ہیں۔ میں نے آج بھی ابھی تہران میں دھماکوں کی آواز سنی تھیں۔‘

    پویا نامی ایک شخص نے مجھے بتایا کہ حملوں کی شروعات کی بعد سے ان کے شہر پردیس میں اشیا کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق آلو اور چاول کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔

    ایرانی شہر کرج میں مقیم شایان کہتے ہیں کہ ان کے لیے انٹرنیٹ استعمال کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے۔‘

    ’میں نے آج کوئی دھماکہ نہیں سُنا، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔‘

    ’ہم اپنا علاقہ چھوڑنے کی تیاری کر رہے تھے کیونکہ ہمارا گھر اس مقام کے قریب ہے جہاں پر حملے کی وارننگ اسرائیلی فوج نے جاری کی تھی۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم نکلتے، وہاں حملہ ہو گیا۔‘

  2. کراچی میں امریکی قونصلیٹ پر حملے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج, ریاض سہیل، بی بی سی اردو کراچی

    کراچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں امریکی قونصل خانے پر حملے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں ناملعوم افراد کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔

    ایف آئی آر کے مطابق اتوار کو امریکن قونصلیٹ کراچی کے باہر احتجاج کے دوران فائرنگ اور ہنگامہ آرائی کے نتیجے میں کم از کم نو افراد ہلاک جبکہ 31 زخمی ہوگئے تھے۔

    ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ واقعہ یکم مارچ 2026 کو صبح تقریباً ساڑھے دس بجے پیش آیا۔

    تھانہ ڈاکس کی حدود میں مائی کلاچی روڈ پر قونصل خانے کے گیٹ نمبر چار کے قریب 150 سے 200 افراد پر مشتمل ایک ہجوم جمع ہوا، جو مبینہ طور پر ایرانی رہبرِ اعلیٰ کی موت کے خلاف احتجاج کر رہا تھا۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ یہ مظاہرین ڈنڈوں، لاٹھیوں اور اسلحے سے لیس تھے اور نعرے بازی کر رہے تھے۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق ہجوم میں شامل بعض شرپسند عناصر نے اچانک فائرنگ شروع کر دی اور قونصلیٹ کی عمارت کو نقصان پہنچانے اور دیوار پھلانگنے کی کوشش کی۔ اس دوران فائرنگ اور بھگدڑ کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

    ایف آئی آر کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ ڈاکس نند لال نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کی۔

    Karachi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پولیس حکام کے مطابق جسپتال سے موصول اطلاعات کے مطابق اس واقعے میں نو افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر نوجوان شامل ہیں، جبکہ 31 زخمیوں کا علاج جاری ہے۔

    ہلاک ہونے والوں میں ساجد علی، خاور عباس، محمد عدیل عباس، محمد علی، کاظم حسین زیدی، عدیل عباس، عاصم عباس، مبارک شاہ، محمد عباس، محمد شاہ اور عامر شامل ہیں۔

    تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ مکمل تصدیق اور کوائف کی جانچ کا عمل جاری ہے۔

    ایف آئی آر میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 147، 148، 149، 324، 302، 427، 395، 353، 186 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 شامل کی گئی ہیں۔

    پولیس کے مطابق مشتعل افراد فرار ہوتے ہوئے ایک سرکاری سب مشین گن اور میگزین بھی چھین کر لے گئے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کی جا رہی ہے تاکہ ملوث افراد کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جا سکے۔

    یاد رہے کہ اتوار کے روز امریکی قونصلیٹ اور اطراف کے علاقے میں ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور سو کے قریب زخمی ہوگئے تھے۔

    اس کے بعد علاقے ایس ایس پی امجد شیخ کو عہدے سے ہٹادیا گیا جبکہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او ڈاکس تھانہ کو معطل کردیا گیا تھا۔

  3. بحرینی فوج کا 73 ایرانی میزائل اور 91 ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ

    بحرین کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سنیچر سے اب تک 73 ایرانی میزائلوں اور 91 ڈرونز کو تباہ کیا ہے۔

    خیال رہے بحرین پر متعدد حملے ہو چکے ہیں، جس سے ملک میں قائم ایک امریکی بحری اڈے کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

  4. متحدہ عرب امارات نے 172 ایرانی میزائلوں کو تباہ کیا: وزارتِ دفاع

    متحدہ عرب امارات

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ سنیچر کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے ردِعمل میں خطے میں ایرانی حملوں کے دوران اس کے فضائی دفاعی نظام نے 172 میزائلوں کو تباہ کیا ہے۔

    وزارتِ دفاع کے ایک ترجمان کے مطابق یہ مجوعی طور پر 186 میزائل تھے، جن میں سے 13 سمندر میں گرے اور ایک متحدہ عرب امارات کی علاقائی حدود میں گرا۔

    ترجمان کے مطابق اس کی فورسز نے 812 ایرانی ڈرونز دیکھے، جن میں 755 کو تباہ کیا گیا اور 57 ملک میں گِرے۔

    متحدہ عرب امارات نے آٹھ کروز میزائل تباہ کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے لیکن ترجمان کے مطابق ’اس سے کچھ نقصان ہوا، تین اموات ہوئیں اور کچھ لوگوں کو معمولی زخم آئے۔‘

  5. قطر نے دو ایرانی لڑاکا طیارے کیوں تباہ کیے؟, باربرا پلیٹ اُشر، دوحہ

    قطر

    ،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا ہے کہ گذشتہ روز دو ایرانی لڑاکا طیاروں کو مار گرائے جانے سے پہلے تمام قوانین پر عملدرآمد کیا گیا تھا۔

    منگل کو ایک پریس بریفنگ کے دوران بی بی سی کے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایرانی ’پائلٹس کو مطلع کیا گیا تھا کہ وہ قطر کی فضائی حدود میں داخل ہو گئے ہیں اور اس وقت ہمیں لگا کہ وہ قطر کے لیے خطرہ ہیں اور ان کی منزل دوحہ ہے۔‘

    ’ان جہازوں کو خلیج کے سمندر کے اوپر تباہ کیا گیا تھا۔‘

    تاہم ماجد الانصاری کا کہنا تھا کہ انھیں ان جہازوں کے پائلٹس کے حوالے سے کوئی علم نہیں ہے۔

    خیال رہے گذشتہ روز قطر کی وزارتِ دفاع نے دو ایرانی لڑاکا طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

    قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو ممکنہ دِ عمل دینے پر ’تمام آپشن قیادت کے پاس ہیں۔ لیکن ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ایسے حملوں کا جواب دیا جائے گا۔‘

  6. ’میں متحدہ عرب امارات کی بہت شکر گزار ہوں‘: جب لڑاکا طیاروں نے مسافر جہاز کو باحفاظت ملک سے نکالا

    زوئی جیکسن

    اگلے کچھ گھنٹوں میں زوئی جیکسن کی پرواز دبئی سے مانچسٹر ایئرپورٹ پر اُتر جائے گی لیکن ان کا کہنا ہے کہ انھیں متحدہ عرب امارات سے باہر نکالنے کا آپریشن بہت ’خاموشی‘ سے کیا گیا تھا۔

    جب انھوں نے بی بی سی سے بات کی اس وقت ان کا جہاز یونان کی فضائی حدود میں تھا۔

    وہ گذشتہ ہفتے سے دبئی میں ایئرپورٹ بند ہونے کے سبب وہاں پھنسی ہوئی تھیں، لیکن گذشتہ رات اچانک انھیں ہوٹل کے کمرے میں ایک فون آیا اور انھیں کہا گیا کہ انھیں ’ابھی‘ ہوٹل سے نکلنا ہوگا۔

    اچانک ہی انھیں کاروں میں میں بٹھایا گیا اور خالی ایئرپورٹ میں لاکر وی آئی پی ایریا میں بٹھا دیا گیا۔

    ذوئی کہتی ہیں کہ انھیں ’معلوم ہی نہیں تھا‘ کہ کیا ہو رہا ہے، لیکن پھر انھیں جہاز میں بٹھا دیا گیا۔

    وہ کہتی ہیں کہ متحدہ عرب امارات کے لڑاکا طیاروں نے ان کے جہاز کی حفاطت کی تھی۔

    زوئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں متحدہ عرب امارات کی بہت شکر گزار ہوں، ایئرلائنز اور اس کے عملے کی بہت مشکور ہوں۔ ان کا عملہ بہت ہی بہادر ہے۔‘

  7. ایران پر حملہ کر کے نیتن یاہو نے غزہ سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کی کوشش کی: پاکستانی وزیرِ دفاع کا الزام

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران پر حملہ کر کے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے غزہ سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کی کوشش کی ہے۔

    منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’بین الاقوامی میڈیا کی توجہ اب ایران پر مرکوز ہے، جس سے نیتن یاہو کو خاموشی سے غزہ اور غرب اردن میں قتل و غارتگری کا موقع مل گیا ہے۔‘

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’نیتن یاہو کے ذاتی شیطانی مقاصد نے فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کو انسانی تاریخ کے سب سے بڑے المیے میں دھکیل دیا ہے۔‘

  8. سیٹلائٹ تصاویر میں ایرانی جوہری مرکز کو ہونے والا نقصان واضح

    نطنز

    ،تصویر کا ذریعہVantor

    بی بی سی ویریفائی نے نطنز میں ایران کے جوہری مرکز کی سیٹلائٹ ٹصاویر کا تجزیہ کیا ہے، جس سے یہ معلوم ہوا کہ یہاں موجود تین عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    یہ تصاویر وینٹر نامی انٹیلیجنس کمپنی نے پیر کو جاری کی تھیں۔

    ونٹر نے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ تینوں عمارتیں زیرِ زمین ’افزودگی مرکز اور گاڑیوں اور اہلکاروں کے داخلی اور خارجی راستوں سے جُڑی تھیں۔‘

    اس سے قبل انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے بھی ایسا ہی بیان جاری کیا تھا اور کہا تھا کہ ان حملوں کے بعد ’کوئی ریڈیولوجیکل نتائج متوقع نہیں ہیں۔‘

    سیٹلائٹ تصاویر میں نطنز جوہری مرکز میں گذشت برس امریکی حملے کے نتیجے میں ہونے والا نقصان بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

  9. ’یہاں واپس نہ آئیں‘: اسرائیلی فوج نے لبنان میں 80 قصبوں اور دیہاتوں پر حملوں کی وارننگ جاری کر دی

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیلی فوج نے لبنان کے متعدد شہروں اور قصبوں کو خالی کرنے کی وارننگ جاری کر دی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اسرائیلی فوج کے ترجمان نے متعدد قصبوں اور شہروں کی ایک فہرست جاری کی اور رہائشیوں کا کہا کہ: ’ہم آپ کو کہتے ہیں کہ یہاں واپس نہ آئیں۔‘

    اسرائیلی فوج کے اس پیغام میں ان علاقوں کے رہائشیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھر خالی کریں اور فہرست میں درج مقامات سے کم از کم ایک ہزار میٹر دور چلے جائیں۔

    اسرائیلی فوج کے ترجمان نے خبردار کیا کہ جو لوگ حزب اللہ کے ’عناصر اور مراکز‘ کے قریب ہوں گے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہوگا۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کی گئی فہرست میں 80 سے زیادہ دیہات اور قصبے موجود ہیں، جن میں البیاضہ، المنصوری اور یتر بھی شامل ہیں۔

  10. اسرائیلی فوج کا ایران میں صدارتی دفتر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج نے ایران میں صدارتی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے دفاتر پر متعدد بم گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ٹیلی گرام پر ایک پیغام میں اسرائیلی ڈیفینس فورسز (آئی ڈی ایف) کا کہنا تھا کہ اس کی فضائیہ نے ایرانی حکومت کی قیادت کے کمپاؤنڈ پر حملہ کیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایک عسکری تربیت گاہ اور ’حکومت کے دیگر انفراسٹرکچر‘ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

  11. ’جارحیت کا جواب دینے کا حق رکھتے ہیں‘: سعودی عرب کی ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ’ایرانی حملے‘ کی مذمت

    سعودی عرب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنریاض میں امریکی سفارتخانے کی ایک تصویر

    سعودی عرب نے دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ’ایرانی حملے‘ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’تمام بین الاقوامی روایات اور قوانین کی خلاف ورزی‘ قرار دیا ہے۔

    منگل کو سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’اس ایرانی غیراخلاقی رویے کا دبارہ دُہرایا جانا اس خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل دے گا۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی حکام کو معلوم ہے کہ سعودی عرب نے واضح کیا تھا کہ اس کی زمینی اور فضائی حدود کو ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

    سعودی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت اپنی ’سکیورٹی، علاقائی تحفظ، شہریوں کے تحفظ اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق رکھتی ہے، جس میں جارحیت کو جواب دینا بھی شامل ہے۔‘

  12. تہران بازار ’ملبے کا ڈھیر‘ بن چکا ہے: ایرانی صحافی نے دارالحکومت میں کیا دیکھا؟

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران میں موجود صحافی محمد خطیبی نے بی بی سی ورلڈ سروس کو بتایا ہے کہ ’یہ صرف فوج پر نہیں بلکہ عام شہریوں پر بھی ایک منظم حملہ ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ سنیچر کے بعد دارالحکومت تہران کا ’ہر حصہ‘ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی زد میں آیا ہے۔

    خطیبی کے مطابق ان حملوں میں مواصلاتی ٹاورز، نشریاتی ادارے اور تہران کے بازار کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جو کہ اب ’ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔‘

    جب ان سے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت پر ردِ عمل کے بارے میں پوچھا گیا تو خطیبی نے کہا کہ کچھ ’چھوٹے گروہ‘ جشن منا رہے تھے، لیکن بڑے پیمانے پر کوئی بدامنی دیکھنے میں نہیں آئی۔

    وہ یہ بھی کہتے ہیں ’ایران کے باہر موجود علیحدگی پسند اور اپوزیشن گروہ‘ جلد ہی ایسے مظاہروں کی کال دیں گے جیسے احتجاجی مظاہرے جنوری میں دیکھے گئے تھے۔

    خطیبی نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں پر تبصرہ کرنے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’حکومت کی تبدیلی ہی اصل منصوبہ تھا، جوہری مسئلہ تو صرف ایک بہانہ تھا۔‘

  13. ’امریکہ کے سخت ترین حملے ابھی باقی ہیں‘

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ایران کے خلاف کارروائی کب تک جاری رہے گی۔

  14. ایران آپریشن پوری طاقت سے جاری رہے گا: اسرائیلی وزیرِ دفاع

    اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ ان کی فضائیہ نے تہران میں حکومتی اہداف کو ’شدید طاقت‘ سے نشانہ بنایا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ایران کی میزائل حملے کرنے کی صلاحیتوں کو بھی ’کم‘ کیا ہے اور یہ آپریشن ’پوری طاقت سے جاری رہے گا۔‘

  15. ایران میں امریکہ، اسرائیل کے حملوں میں 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں: ہلال احمر, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں اب تک 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب امریکہ میں موجود انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ھرانا کا کہنا ہے کہ اب تک ان حملوں میں 176 بچوں سمیت 742 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    ایران کے پارلیمنٹ کے ہیلتھ کمیشن کی رکن فاطمہ محمد بیگی نے پیر کو امریکہ اور اسرائیل پر ملک میں نو ہسپتالوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ اسرائیلی فوج نے تہران میں گاندھی ہسپتال پر حملے کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ حملے ’کا ہدف ہسپتال نہیں تھا۔‘

  16. عمان کی بندرگاہ پر ڈرون حملہ

    عمان

    ،تصویر کا ذریعہUGC

    عمان میں دقم کی بندرگاہ پر ایک تیل کی ٹنکی کو ایک ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

    ملک کی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق ’اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان پر قابو پا لیا گیا ہے اور اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘

    اطلاعات کے مطابق گذشتہ ہفتے بھی اسی بندرگارہ کو ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

    دوسری جانب پیر کو کچھ تنصیبات پر حملے کے بعد قطر میں ایل این جی کی پروڈکشن کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔ سعودی عرب نے بھی اپنی سب سے بڑی ریفائنری میں پروڈکشن بند کر دی ہے۔

  17. مناب میں سکول پر حملہ: ہلاک ہونے والی طالبات کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہISNA

    ایران کے شہر مناب میں میزائل حملے کا نشانہ بننے والے ایک سکول کی طالبات کی نماز جنازہ مقامی حکام کی موجودگی میں ادا کر دی گئی ہے۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق سنیچر کی صبح مناب میں شجرہ طیبہ ایلیمنٹری سکول ایک میزائل حملے کا نشانہ بنا۔

    مناب کے پراسیکیوٹر ابراہیم طاہری کے مطابق لڑکیوں کے اس سکول میں مرنے والے افراد کی تعداد 168 جبکہ 96 زخمی ہیں۔

    ابراہیم طاہری کے مطابق مرنے اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر طلبہ شامل تھیں۔

    ایران امریکہ اور اسرائیل کو اس ذمہ دار ٹھراتا ہے تاہم امریکی سیکرٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ جانتے بوجھتے ہوئے کسی سکول کو نشانہ نہیں بنا سکتا تاہم امریکی ایجنسیاں اس بات کا تعین کرنے کے لیے تحقیق کر رہی ہیں کہ آیا یہ ہمارے حملے کا نتیجہ تھا۔

  18. ٹرمپ کے ایران پر حملے میں برطانیہ کے کردار پر سوال

    امریکہ ایران جنگ، برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے میں برطانیہ کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔

    ’دا سن‘ اخبار کے ساتھ بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ برطانوی ’وزیراعظم نے مدد نہیں کی۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے ایسا دیکھنا پڑے گا۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے برطانیہ کی جانب سے ایسا دیکھنے کو ملے گا۔‘

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’یہ دیکھ کر بہت دکھ ہوا کہ یہ رشتہ پہلے جیسا نہیں۔‘

    سوموار کے روز برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے کہا تھا کہ وہ فضائی حملوں کے ذریعے حکومت کی تبدیلی پر یقین نہیں رکھتے۔

    یاد رہے کہ برطانیہ نے ابتدا میں امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے کے لیے برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن پھر ’دفاعی‘ حملوں کے لیے اپنے اڈے کھول دیے۔

    ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ’فرانس بہت اچھا رہا۔ سب ممالک بہت اچھے رہے۔ برطانیہ باقی ممالک سے خاصا مختلف رہا۔‘

    ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے برطانوی وزیراعظم کے چیف سیکرٹری نے کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کا تعلق اب بھی اہم ہے۔

    ڈیرن جونز نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں یہ سمجھ سکتا ہوں کہ صدر ٹرمپ اس بات سے مطمئن نہیں کہ ہم فضائی حملوں کے پہلے مرحلے میں ان کے ساتھ نہیں تھے۔‘

    انھوں نے کہا کہ برطانیہ اس وقت تک اپنی مسلح افواج کو احکامات جاری نہیں کرتا جب تک کہ اس کے پاس کوئی ٹھوس قانونی جواز، واضح لائحہ عمل اور ملکی مفاد نہ ہو۔

    ڈیرن جونز نے مزید کہا کہ امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات ’آپریشنل طور پر‘ وہی ہیں کیونکہ ان کی فوجیں ’ابھی‘ مل کر کام کر رہی ہیں۔

  19. حزب اللہ کا تین اسرائیلی فوجی اڈوں پر حملے کا دعویٰ

    ایران کی حمایت یافتہ عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے اسرائیل کے تین فوجی اڈوں پر حملہ کیا ہے۔

    ٹیلی گرام پر تین مختلف پوسٹس میں حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس نے گولان کی پہاڑیوں میں موجود نافہ اڈے جبکہ شمالی اسرائیل میں میرون اور رمات ڈیوڈ فضائی اڈے کو ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے اس دعوے پر ابھی تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

  20. تہران سے زوردار دھماکوں کی آوازیں، بیروت میں دھوئیں کے بادل

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

    دوسری جانب بی بی سی کو لبنان سے تصاویر موصول ہوئی ہیں، جس میں دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافات سے دھوئیں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل ہی اسرائیلی فوج نے بیروت اور تہران میں دوبارہ فضائی حملے شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    بیروت
    بیروت