ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملے: ’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہو‘, غنچے حبیبی آزاد، بی بی سی فارسی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میں ایران پر تازہ حملوں کے بعد سے ہی مقامی لوگوں سے بات کر رہی ہوں۔ عمید نامی ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ ایران میں لوگ بےچینی کا شکار ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ یہ صورتحال کب تک چلے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے سوچا تھا کہ وہ خامنہ ای کی طرح کے کچھ عہدیداروں کو ہدف بنائیں گے اور پھر یہ حملے بند ہو جائیں گے۔‘
عمید مزید کہتے ہیں کہ ’سڑکوں پر اب سکیورٹی فورسز کی موجودگی زیادہ ہے لیکن سڑکیں خالی ہیں۔ کچھ دکانیں بند ہیں، خاص طور پر وہ جو متاثرہ علاقوں میں واقع ہیں۔ میں نے آج بھی ابھی تہران میں دھماکوں کی آواز سنی تھیں۔‘
پویا نامی ایک شخص نے مجھے بتایا کہ حملوں کی شروعات کی بعد سے ان کے شہر پردیس میں اشیا کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔ ان کے مطابق آلو اور چاول کی قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔
ایرانی شہر کرج میں مقیم شایان کہتے ہیں کہ ان کے لیے انٹرنیٹ استعمال کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ’ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے۔‘
’میں نے آج کوئی دھماکہ نہیں سُنا، ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی ہے۔‘
’ہم اپنا علاقہ چھوڑنے کی تیاری کر رہے تھے کیونکہ ہمارا گھر اس مقام کے قریب ہے جہاں پر حملے کی وارننگ اسرائیلی فوج نے جاری کی تھی۔ لیکن اس سے پہلے کہ ہم نکلتے، وہاں حملہ ہو گیا۔‘
















