آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کارلوس غصن: امریکی شہریوں نے نِسان کے سابق سربراہ کے فرار میں کردار تسلیم کر لیا
ایک امریکی شہری اور اس کے بیٹے نے نِسان کے سابق سربراہ کارلوس غصن کو سنہ 2019 میں جاپان سے فرار ہونے میں مدد دینے سے متعلق اپنا کردار تسلیم کر لیا ہے۔
امریکہ کی سپیشل فورسز کے 60 سالہ سابق ملازم مائیکل ٹیلر اور ان کے 28 سالہ بیٹے پیٹر کو امریکہ سے ان دعؤوں کی بنیاد پر جاپان کے حوالے کیا گیا تھا کہ انھوں نے کارلوس غصن کو اپنے ایک سامان والے صندوق میں اس وقت نجی طیارے میں فرار ہونے میں مدد دی جب ان کا ٹرائل شروع ہونے والا تھا۔
نجی سکیورٹی کے ماہر امریکی شہری مائیکل ٹیلر اور ان کے بیٹے نے جاپان حوالگی سے قبل ایک ماہ تک قانونی جنگ لڑی۔ مگر اس کے بعد امریکہ کی سپریم کورٹ نے ان دونوں کو رواں برس مارچ میں جاپانی حکام کے حوالے کرنے کا فیصلہ سنایا۔
جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں اس مقدمے سے جڑے وکیلوں نے باپ بیٹے کی طرف سے ٹرائل سے قبل ہی اعتراف جرم کے بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق جاپان میں سزاؤں کی شرح 99 فیصد ہے۔
ٹوکیو کی ایک عدالت میں باپ بیٹے نے کہا کہ استغاثہ نے فرد جرم میں جو حقائق بیان کیے ہیں وہ انھیں تسلیم کرتے ہیں۔ اقبال جرم پر اب ان دونوں کو تین سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جب ٹوکیو کی ٹرائل کورٹ نے امریکی شہری اور ان کے بیٹے سے پوچھا کہ جو کچھ استغاثہ نے فرد جرم میں کہا ہے کیا اس میں کچھ غلط ہے تو اس پر دونوں نے نفی میں جواب دیا۔
واضح رہے کہ استغاثہ نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ ان دونوں باپ بیٹے نے کارلوس غصن کو سنہ 2019 میں مغربی جاپان کے کینسائی ایئرپورٹ سے لبنان فرار ہونے میں مدد دی تھی اور اس کے بدلے دونوں نے 13 لاکھ ڈالر وصول کیے۔
امریکی تفتیش کاروں نے کارلوس کے فرار کو حالیہ تاریخ کا ایک بدترین مگر منظم فرار قرار دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کارلوس کیسے فرار ہوئے؟
نسان کے سابق سربراہ اس وقت ایک عالمی مفرور بن چکے ہیں جو اب لبنان میں اپنے بچپن کے گھر میں رہ رہے ہیں۔ خیال رہے کہ لبنان اور جاپان کی آپس میں مجرموں کی حوالگی سے متعلق کوئی معاہدہ نہیں ہے۔
جس وقت کارلوس غصن فرار ہوئے وہ اس وقت ضمانت پر تھے۔ غصن کو اُس برس اپریل میں نوے لاکھ ڈالر کی ضمانت پر سخت شرائط کے ساتھ رہا کیا گیا تھا جن میں سے ایک ان کے بیرون ملک سفر کرنے پر پابندی بھی تھی۔ ان کی ٹوکیو میں رہائش کے ارد گرد ویڈیو کیمرے لگے ہوئے تھے جہاں ان کی 24 گھنٹے نگرانی ہوتی تھی۔ ان پر ٹیلی فون اور کمپیوٹر استعمال کرنے کی بھی پابندی تھی۔
انھوں نے اپنے پاسپورٹ اپنے وکلا کے حوالے کر رکھے تھے اور دو راتوں سے زیادہ اپنی رہائش سے باہر جانے کی صورت میں انھیں حکام سے اجازت لینی پڑتی تھی۔
ایک لبنانی چینل ایم ٹی وی نے دعویٰ کیا تھا کہ کارلوس غصن ٹوکیو میں اپنی رہائش گاہ سے نیم فوجی دستوں کی مدد سے موسیقاروں کے ایک بینڈ کے ساتھ فرار ہوئے۔‘
کہا جاتا ہے کہ بینڈ نے ان کے گھر میں پرفارم کیا اور پرفارمنس ختم ہوتے ہی 65 سالہ غصن ایک بڑے میوزیکل انسٹرومنٹ (آلے) کے ڈبے میں گھس گئے جسے جلدی جلدی مقامی ایئرپورٹ لے جایا گیا۔ اگر یہ سچ ہے تو سفر پانچ فٹ چھ انچ کے غصن کے لیے ایک مشکل سفر تھا۔
ایم ٹی وی کے مطابق وہ وہاں سے ترکی گئے جہاں سے ایک نجی طیارے کے ذریعے وہ لبنان پہنچے۔ ایم ٹی وی نے اپنے دعووں کے ساتھ کوئی شواہد فراہم نہیں کیے تھے۔
کارلوس غصن کا مقدمہ
کارلوس غصن جن کی مالی ساکھ بارہ کروڑ امریکی ڈالر بتائی جاتی ہے، سنہ 2018 میں اپنی گرفتاری تک دنیا میں گاڑیاں بنانے کی صنعت میں ایک بہت طاقتور شخصیت سمجھے جاتے تھے۔ وہ مالیاتی بے ضابطگیوں کے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔
ان پر شروع ہونے والے مقدمے میں دنیا بھر میں دلچسپی لی گئی اور جاپان کے عدالتی نظام کے نقائص پر تنقید بھی کی گئی۔
’جاپان میں میرے سامنے دو ہی آپشنز تھے، مرجاتا یا بھاگ جاتا‘
لبنان میں پناہ لینے کے بعد کارلوس نے کہا تھا کہ انھیں جاپان میں حبس بے جا میں رکھا گیا تھا جہاں ان کے پاس صرف دو ہی آپشنز تھے ’مر جاؤں یا بھاگ جاؤں‘۔
ترکی کی ایک عدالت نے کارلوس کو ترکی کی ایک طیارے بنانے والی کمپنی ایم این جی کے جیٹ میں جاپان سے فرار ہونے میں مدد دینے پر دو پائلٹس کو بھی سزا سنائی ہے۔
کارلوس کو نومبر 2018 میں پہلی بار مالی بدعنوانی کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔ مبینہ طور پر کارلوس نے 2015 تک پانچ سال، اپنے پیکج کو خفیہ رکھا تھا۔
کیرول غصن کا کردار
اخبار دی وال سٹریٹ جرنل کے مطابق نِسان کے سابق سی ای او کے ٹوکیو سے لبنان فرار کی تیاری کا منصوبہ کئی ہفتوں میں تیار کیا گیا تھا۔
اخبار نے کئی غیر تصدیق شدہ ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس پلان کو کامیاب بنانے کے لیے ٹیم بڑی احتیاط سے بنائی گئی تھی۔ اخبار کے مطابق جاپان میں ان کے ساتھیوں نے کارلوس غصن کو ایک نجی جیٹ کے ذریعے استنبول روانہ کیا۔ وہاں سے انھوں نے اپنا سفر جاری رکھا اور 30 دسمبر کی صبح بیروت پہنچ گئے۔