آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’صبا قمر نے حامی بھری تو اندازہ ہو گیا کہ ڈرامہ ہٹ ہو گا‘: ’معمہ‘ کی کہانی خود ایک معمہ کیوں بن گئی
- مصنف, عمیر علوی
- عہدہ, صحافی
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
ایک اکیلی عورت، جس کا شوہر جیل میں ہے، جو اپنے گھر کا ایک حصہ صرف شادی شدہ افراد کو کرائے پر دیتی ہے، جو کھانے میں مبینہ طور پر کچھ ایسا ملا کر اپنے کرائے داروں کو کھلاتی ہے کہ کرایہ دار مکان مالکن پر عاشق ہو جاتا ہے اور جو فارغ وقت میں اپنے کرائے داروں کے ساتھ ساتھ ملازموں کی بھی جاسوسی کرتی ہے۔۔۔
یہ کسی انگریزی ناول یا فلم کی کہانی نہیں بلکہ ایک پاکستانی ڈرامے ’معمہ‘ کی کہانی ہے جو اس وقت ہم ٹی وی پر نشر کیا جا رہا ہے۔
تقریباً 21 اقساط گزر جانے کے بعد بھی معمہ اس وقت ناظرین کی توجہ کا مرکز کیوں بنا ہوا ہے؟ سوشل میڈیا صارفین کی نظر میں اس غیر روایتی کہانی کے ساتھ ساتھ ڈرامے میں اور بھی بہت کچھ ہے جو دیکھنے والوں کی دلچسپی برقرار رکھے ہوئے ہے۔
صبا قمر کا شمار پاکستان کی اُن اداکاراؤں میں ہوتا ہے جن کی کسی پراجیکٹ میں موجودگی اس کی کامیابی کی ضمانت ہوتی ہے۔
حال ہی میں انھوں نے ’کیس نمبر 9‘ میں ایک ایسی ریپ وکٹم کا کردار ادا کیا جو اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتی ہے، اسی طرح ’پامال‘ میں انھوں نے ایک ایسی عورت کے کردار میں جان ڈالی جس کے شوہر کے کنٹرولنگ رویے نے اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔
ان دونوں ڈراموں کے بعد ’معمہ‘ میں جہاں آرا کا کردار ایک الگ ہی نوعیت کا ہے۔
اس کردار میں ناظرین کے مطابق نہ صرف وہ گلیمرس نظر آ رہی ہیں بلکہ اُن کی اداکاری بھی قابل تعریف ہے۔ آواز کے اُتار چڑھاؤ سے یکدم موڈ بدل جانا، سبھی اس کردار کو دلچسپ بناتا ہے۔
ڈرامے کی سٹار کاسٹ بھی کافی بڑی ہے۔ جہاں آرا کا کردار تو اس میں صبا قمر بخوبی نبھا رہی ہیں، ان کے ساتھ ساتھ اس میں نوجوان اداکارعثمان مختار، نبیل زبیری، علی انصاری، انوشے عباسی اور نمرہ شاہد بھی ہیں۔ جبکہ سینیئر اداکار انجم حبیبی، سید جبران ، اسما عباس اور محمد احمد بھی موجود ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کہانی جہاں آرا کے کردار کے گرد گھومتی ہے جو ایک ’بددماغ شخص‘ سے شادی کے بعد اپنے گھر والوں سے دور ہو جاتی ہیں۔ جب ایک قتل کے الزام میں اُن کے شوہر کو جیل ہو جاتی ہے تو وہ گھر میں نچلے حصے کو کرائے پر دیتی ہیں اور وہاں سے ملنے والے کرائے سے اپنا گزر بسر کرتی ہیں۔
لیکن ملازموں کی ہر وقت جاسوسی کرنا، کرائے داروں پر ایک پُراسرار کمرے سے بیٹھ کر نظر رکھنا اور بعد میں ان کے درمیان دراڑ ڈال کر طلاق کروانے کے پیچھے ’ججی‘ کا کیا مقصد ہے، یہی وہ معمہ ہے جس کے حل کا ناظرین کو ہر ہفتے انتظار رہتا ہے۔
’صبا قمر نے حامی بھری تو اندازہ ہو گیا تھا کہ ڈرامہ ہٹ ہو گا‘
بیشتر ناظرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈرامہ عام روایتی کہانیوں سے کافی ہٹ کر ہے۔ تو کیا یہ بات درست ہے کیونکہ اس میں بظاہر وہ سب کچھ ہے جو عام پاکستانی ڈراموں میں ہوتا ہے، جیسا کہ ساس بہو کے درمیان خراب تعلقات، شادی شدہ مرد کی زندگی میں دوسری عورت کی موجودگی اور گھریلو تشدد وغیرہ۔
معمہ کو لکھا ہے عمران نذیر نے جو اس سے قبل پنجرہ، رسمِ دنیا اور کشف جیسے ہٹ ڈرامے تحریر کر چکے ہیں۔
بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ڈرامے کی کامیابی کے پیچھے پوری ٹیم کا ہاتھ ہے جس میں سرفہرست صبا قمر اور پراجیکٹ ہیڈ فیصل منظور ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جب بھی کوئی پراجیکٹ کامیاب ہوتا ہے تو اس کے پیچھے بہت سارے لوگوں کی محنت ہوتی ہے. معمہ کی کامیابی کی عمارت بھی چار ستونوں پر کھڑی ہے: پرفارمنس، ڈائریکشن، پروڈکشن اور سکرپٹ۔‘
’سب سے زیادہ نمبر میں صبا قمر اور فیصل منظور کو دیتا ہوں۔ صبا قمر نے اپنی پرفارمنس سے اسے کامیاب کیا۔ اور فیصل منظور نے ان چاروں شعبوں میں محنت کی اور دن رات ایک کر دیے۔ وہ نہ ہوتے تو یہ پراجیکٹ اتنا کامیاب نہ ہوتا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ جب وہ ڈرامہ لکھ رہے تھے تو اُن کی خواہش تھی کہ جہاں آرا کا کردار صبا قمر کریں۔ جب انھیں پراجیکٹ ہیڈ نے بتایا کہ صبا کو ان کی سکرپٹ پسند آ گئی ہے تو انھیں یقین ہو گیا تھا کہ ان کا ڈرامہ ’ضرور کامیاب ہو گا۔‘
صبا قمر کی اداکاری پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس کردار کو ان سے بہتر کوئی نہیں نبھا سکتا تھا۔
’انھوں نے نہ صرف اس کردار کو بلکہ اس سکرپٹ کو اون کیا اور اپنی تمام تر تخلیقی صلاحیتیں استعمال کرتے ہوئے جہاں آرا عرف ججی کے کردار کو امر کر دیا۔'
ڈرامہ سیریل معمہ کی کامیابی میں جہاں سکرپٹ کا عمل دخل ہے وہیں اس کی پروڈکشن بھی کسی فلم سے کم نہیں۔
فیصل منظور خان جو گذشتہ کئی برسوں سے ٹی وی پروڈکشن سے وابستہ ہیں، اس ڈرامے کے پراجیکٹ ہیڈ ہیں اور اس کی کامیابی پر کافی خوش ہیں۔
بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کہانیاں ’ہمیشہ ایک سی ہوتی ہیں۔ بس ان میں جدت کے کچھ نئے پہلو ہونے چاہییں۔ معمہ میں اسی بات کو مدنظر رکھا گیا جس کی وجہ سے انھیں دورانِ شوٹنگ ہی اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ ڈرامہ ضرور چلے گا۔‘
رائٹر عمران نذیر کی طرح انھوں نے بھی صبا قمر ہی کو اس کی کامیابی کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سکرپٹ ’صبا قمر کے لیے ہی لکھا گیا تھا۔ یہ ناظرین کو شاید اس لیے نیا نیا سا لگ رہا ہے کیوںکہ اس میں جیسا کہانی کا موڈ تھا اسے ویسا ہی اسے شوٹ کیا گیا۔‘
’اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنا مقبول ہو گا‘
ڈرامے میں جہاں صبا قمر کا جہاں آرا کا کردار ناظرین کو پسند آ رہا ہے وہیں اداکار سید جبران کی بھی لوگ تعریف کر رہے ہیں۔
وہ معمہ میں جہاں آرا کے شوہر سرمد کا کردار نبھا رہے ہیں جن کے ماضی اور حال دونوں کے بارے میں ابھی تک ناظرین صرف اندازے ہی لگا رہے ہیں۔
سرمد سے جہاں آرا کی شادی کیوں ہوئی، وہ اس وقت جیل میں کیوں ہیں اور انھوں نے کس کا قتل کیا تھا اور کیا اس قتل میں اصل ہاتھ جہاں آرا کا تھا؟ یہ وہ سوالات ہیں جو اس کردار سے جڑے ہوئے ہیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سید جبران کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ جب بھی کوئی کردار کریں تو وہ پچھلے کردار سے مختلف ہو۔ اس ڈرامے میں جہاں انھیں ایک بددماغ شوہر کے روپ میں دکھایا گیا ہے وہیں اس کردار کی ڈیویلپمنٹ اور معمے نے بھی ان کو اس کی جانب کھینچا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’جب اس ڈرامے کا سکرپٹ میرے پاس آیا تو ساری کاسٹنگ ہو چکی تھی۔ صرف سرمد کا کردار ہی رہتا تھا جسے جب میں نے پڑھا تو مجھ میں بھی تجسس پیدا ہوا۔‘
’مرکزی کردار کے ساتھ اس کا آرک اچھا ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا اس پر حاوی ہونا اور پھر جیل چلے جانا، ان سب میں پرفارمنس کا مارجن بہت تھا۔ آگے بھی اس کردار کا گراف بالکل ہی الگ نظر آئے گا۔‘
انھوں نے ڈرامے کی مقبولیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ’بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنا مقبول ہو گا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’بطور اداکار جب ہم کسی ڈرامے کا حصہ ہوتے ہیں تو ہمیں اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ ہٹ ہو گا یا نہیں، بس دل و جان سے کام کرتے ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ عزت رکھ لے۔‘
’معمہ کی کہانی اٹکی ہوئی ہے‘
پاپ کلچر کمنٹیٹر رائے محمد اذلان کے خیال میں معمہ ایک اچھا سائیکلوجیکل ڈرامہ بن سکتا تھا جس کی کہانی ایک ایسی خاتون کے گرد گھومتی ہے جو اخلاقی سرحدوں کے درمیان کھڑی ہے لیکن ’جو آؤٹ پٹ آیا ہے اس میں شاک ویلیو، سنسنی اور سطحی قسم کی پراسراریت غالب ہے۔‘
بی بی سی اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ ڈرامے میں سسپنس کو بطور ’گِمک‘ یعنی چال کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
’ہر قسط کا اختتام ایک کلف ہینگر پر ہوتا ہے لیکن اگلی ہی قسط میں اس سسپنس کا انجام تسلی بخش نہیں ہوتا اور یہی اس ڈرامے کی سب سے بڑی خرابی ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ڈرامے کی کہانی ’ایک ہی جگہ اٹکی ہوئی ہے۔ ناظرین اس انتظار میں رہتے ہیں کہ اب جہاں آرا کا ماضی کُھل کر سامنے آئے گا، لیکن اتنے میں کہانی میں کوئی ایسا موڑ آ جاتا ہے کہ آپ اس میں مصروف ہو جاتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ڈرامہ آگے نہیں بڑھ رہا اور لگ رہا ہے جیسے رائٹر پلاٹ کو کسی مضبوط بنیاد پر رکھنے کے بجائے کالے جادو اور پراسراریت کو بطور شارٹ کٹ استعمال کر رہے ہیں۔‘
رائے محمد اذلان کے خیال میں جہاں آرا ’اگر ویجلانٹی یعنی خواتین کی محافظ ہے یا کسی بدلے کی آگ میں جھلستی ہوئی عورت ہے، تو اب تک 20 اقساط کے بعد پتا چل جانا چاہیے تھا کہ ایسا کیوں ہے۔‘
’اس کو مختلف دکھانے کے لیے اسے تضادات کا مجموعہ بنا دیا گیا ہے۔ کسی لمحے وہ بندوں کا دل لبھا رہی ہوتی ہے تو کبھی ان کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہوتی ہے۔ اس کو دیکھ کر تو یہی لگتا ہے کہ تحریر کی سمت واضح نہیں۔‘
انھوں نے ججی کے کردار کا کھانوں میں مصالحوں کے استعمال اور گھر کے نچلے حصے میں ’میجکل مرر‘ لگانے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’ابھی تک بتایا بھی نہیں گیا کہ وہ کیسے سب کے اوپر نظر رکھتی ہے۔ ان چیزوں کے بغیر بھی ڈرامہ آگے بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اس وقت ہر قسط کے بعد کہانی وہیں کی وہیں کھڑی ہوتی ہے۔‘
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ صبا قمر کا کردار اس ڈرامے میں اتنا ’طاقتور ہے کہ علی انصاری، نمرہ شاہد، انوشے عباسی اور عثمان مختار جیسے اداکاروں کو بہت زیادہ آگے آنے کا موقع ہی نہیں مل رہا۔‘
’بے وفائی والی بات کو اتنی زیادہ مرتبہ استعمال کیا گیا ہے کہ اب وہ اپنا معنی کھو چکی ہے۔ ڈرامے کی پیس کہانی کو طوالت دینے کی وجہ سے آہستہ ہو گئی ہے۔ کئی سین زبردستی طویل کیے گئے ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ طوالت ڈرامے کی کہانی پر کوئی احسان نہیں کر رہی۔ بعض وقت تو سوشل میڈیا پر جو مداح جو تھیوری لکھتے ہیں وہ کہانی سے زیادہ دلچسپ معلوم ہوتی ہے۔‘