آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نسان کے سابق سربراہ کارلوس غصن مفرور: غصن کے فرار کا سفر ’بلٹ ٹرین پر شروع ہوا‘
جاپان گاڑیاں بنانے والی کمپنی کے سابق سربراہ کارلوس غصن کی حوالگی کے لیے لبنان پر زور دے رہا ہے۔
لبنان عمومی طور پر اپنے شہریوں کو دوسرے ملکوں کے حوالے نہیں کرتا لیکن جاپان کا کہنا ہے کہ وہ ان کی ملک بدری کی درخواست کریں گا۔
اطلاعات کے مطابق غصن 29 دسمبر کو اپنے گھر سے نکل کر بلٹ ٹرین کے ذریعے اوساکا پہنچے، اس کے بعد انھیں ایک بکسے میں بند کر کے ترکی جانے والی ایک پرواز پر چڑھا دیا گیا۔
غصن نومبر 2018 میں بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار ہونے تک نسان کمپنی کے سربراہ تھے۔ ان کو ضمانت کے دوران اپنی بیوی سے بھی ملنے کی اجازت نہیں تھی۔
اس بارے میں
لیکن سنہ 2019 کے آخری ایام میں وہ اپنی ضمانت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک نجی طیارے میں ایک بکس میں بند ہو کر سوار ہونے میں کامیاب ہو گئے اور جاپان سے ترکی پہنچ گئے جہاں سے وہ لبنان چلے گئے۔ ان کی بیوی وہاں پہلے سے موجود تھیں۔ غصن کے پاس لبنان کی شہریت بھی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جاپانی میڈیا کے مطابق سکیورٹی کیمروں میں ریکارڈ ہونے والے مناظر میں 29 دسمبر کو مقامی وقت کے مطابق دو بج کر 30 منٹ پر 65 برس کے غصن کو ٹوکیو میں اپنے گھر سے نکلتے ہوئے دیکھا گیا۔
اطلاعات کے مطابق وہ ٹوکیو ہوٹل میں دو افراد سے ملے جن کے ساتھ وہ شہر کے شیناگاوا سٹشین پہنچے اور اوساکا جانے والی بلٹ ٹرین پر سوار ہو گئے۔ اوساکا پہنچنے کے بعد تینوں افراد ہوائی اڈے کے قریب ایک ہوٹل میں داخل ہوگئے۔
غصن کو ہوٹل سے باہر نکلتے ہوئے نہیں دیکھا گیا جبکہ ان کے ہمراہ دو افراد دو بڑے بڑے بکسوں کو اٹھائے ہوٹل سے باہر نکلتے ہوئے سکیورٹی کیمروں میں نظر آئے۔
امریکہ کے اخبار وال سٹریٹ جرنل نے اطلاع دی ہے کہ غصن کو ترکی جانے والی ایک نجی پرواز پر موسیقی کے آلات لے جانے والے ایک بکس میں بند کر کے پہنچا دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس بکسے کے نیچے چھید کر دیے گئے تھے تاکہ گوشن کو سانس لینے میں دشواری پیش نہ آ سکے۔
اخبار کے مطابق ایئرپورٹ پر تعینات عملے نے اس بکسے کو طیارے پر لے جانے سے پہلے چیک نہیں کیا۔
جاپان کی وزارتِ انصاف نے کہا ہے کہ غصن کے ملک سے نکلنے کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔
ملک کے وزیرِ انصاف مساکو موری نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کا خیال ہے کہ غصن نے جاپان سے نکلنے کے لیے غیر قانونی راستہ اختیار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ملک کے امیگریشن کے ادارے کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ وہ ہوائی اڈوں پر تلاشی کا عمل مزید سخت کر دیں۔
جاپان سے نکلنے کے بعد سے غصن نے ذرائع ابلاغ کے کسی بھی ادارے سے بات نہیں کی ہے تاہم انھوں نے ایک بیان جاری کیا تھا اور اب توقع کی جا رہی ہے کہ وہ بدھ کو پریس کانفرنس کریں گے۔
گزشتہ ہفتے ایک مختصر بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ انھوں نے جاپان سے نکلنے کے لیے تنہا ہی تمام انتظامات کیے اور اس میں ان کی بیوی اور دیگر رشتہ داروں کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔
غصن اپنے خلاف لگائے گئے بدعنوانی کے الزامات کی تردید کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے ’جاپان میں عدل کا نظام منصفانہ نہیں ہے‘۔