آئی سی سی کی جانب سے پوسٹ کیے جانے والے خاکے میں پاکستان کی عدم موجودگی پر شائقین کا سوشل میڈیا پر ردعمل

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ICC
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) پر ماضی میں پاکستانی مداحوں کی جانب سے انڈیا کی جانب مبینہ جھکاؤ کے الزامات لگتے رہے ہیں، جس میں بگ تھری نامی تنازع بھی شامل ہے۔
تاہم گذشتہ رات آئی سی سی نے ایک مرتبہ پھر خود پر ان نوعیت کے الزامات کی ایک نئی لہر کو دعوت دی اور اس کی وجہ بنی ایک خاکہ جو کہ آئی سی سی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کیا گیا۔
خوبصورت گرافکس سے بنے ہوئے اس خاکے میں ٹی 20 کھیلنے والی مختلف ٹیموں کے کھلاڑیوں کی عکاسی کی گئی ہے، مگر اس خاکے میں جس ملک کو جگہ نا مل سکی وہ ہے پاکستان۔
ذرا ایک مرتبہ پھر اس خاکے کو غور سے دیکھیے اور بتائیے کہ آپ کون کون سی ٹیمیں پہچان سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ICC
ڈیو ویب نامی خاکہ نگار کے بنائے گئے اس گرافک میں 15 ٹیموں کی نمائندگی ہے جبکہ کوئی پاکستانی کھلاڑی اس میں شامل نہیں ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ انڈین ٹیم کو اس خاکے میں مرکزی جگہ دی گئی ہے۔
اور یہی وہ وجہ تھی جس پر آئی سی سی اور خاکہ نگار کو سوشل میڈیا پر تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور پاکستانی تو پاکستانی، کئی انڈین صارفین نے بھی اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ آئی سی سی کی ٹی 20 رینکنگ میں پاکستانی کرکٹ ٹیم فی الوقت نمبر چار پر ہے۔
راحیل نامی صارف نے آئی سی سی کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ ایسی کوئی پوسٹ کیسے منظور کر سکتے ہیں جس میں ایک ایسی بڑی ٹیم کی نمائندگی نہیں، ایسی ٹیم جو ایک ٹی 20 ورلڈ کپ کو چھوڑ کر باقی تمام میں کم از کم سیمی فائنلز تک ضرور پہنچی ہے۔‘
راحیل نے اسے عمل کو ’گری ہوئی حرکت‘ قرار دیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ra_heals
داؤد چیمہ نامی صارف کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کی جانب سے یہ خاکہ شیئر کرنے کا مطلب ہے کہ پاکستان کے بغیر بھی سب ٹھیک ہے۔
اس خاکے کے منظر عام پر آنے کے بعد چند پاکستانی حلقوں کی جانب سے ایک مرتبہ پھر یہ الزامات شد و مد کے ساتھ عائد کیے جا رہے ہیں کہ آئی سی سی کی پالیسیاں انڈیا کے زیرِ اثر ہیں اور یہ انڈین کرکٹ کی زیادہ حمایت کرتی ہے۔
اسی تناظر میں جہاں کئی لوگ اس حوالے سے آئی سی سی پر تنقید کرتے نظر آئے، تو وہیں کچھ لوگوں نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے آئی سی سی کو انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے بجائے انڈین کرکٹ کونسل ہی قرار دے ڈالا۔
اور ایسی ٹویٹس کے نیچے پھر انڈین اور پاکستانی صارفین کے درمیان خوب بحث جاری رہی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@CheemaDaud
ایک صارف نے پاکستان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ آئی سی سی کی ہر ٹرافی جیتنے والی ٹیم کو ’انڈین کرکٹ کونسل‘ نے اس خاکے میں شامل نہیں کیا۔
تاہم ہمانشو نامی ایک صارف نے اس پر کہا کہ ’یہ انڈین کرکٹ کونسل نہیں بلکہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ہے۔‘
اب یہ تو کرکٹ کے ہر مداح کو معلوم ہو گا ہی کہ آئی سی سی میں آئی انڈین کے لیے ہے یا انٹرنیشنل کے لیے، تاہم الفاظ سے کھیلنے کا یہ سلسلہ بہرحال جاری رہا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@HassanEmpire007
بات جب کرکٹ کی ہو تو پاکستان اور انڈیا کے درمیان کوئی نمائشی یا گروپ سطح کا میچ بھی ورلڈ کپ کے فائنل جتنا سنسنی خیز ہو جاتا ہے اور دونوں ملکوں کے تماشائیوں کے درمیان گھروں سے لے کر دفاتر تک اور ٹی وی سے لے کر سوشل میڈیا تک جنگ کا سا سماں پیدا ہو جاتا ہے۔
تاہم اس خاکے پر کئی انڈین صارفین بھی پاکستانی مداحوں کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے دکھائی دیے۔
ڈاکٹر عظمت خان نامی ایک صارف نے لکھا کہ بہت بُری بات ہے کہ اس میں کوئی پاکستانی کھلاڑی شامل نہیں۔ ان کے جواب میں ایک انڈین صارف وکرم وشیشت نے لکھا کہ ’سچ بات ہے، (بابر) اعظم کو (اس خاکے میں) ہونا چاہیے تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@DrAzmatKhan3
وویک شرما نامی ایک صارف نے لکھا کہ اختلافات اپنی جگہ، مجھے لگتا ہے کہ بابر اعظم کو اس میں ہونا چاہیے تھا۔
انھوں نے مزید لکھا کہ وہ یہ بات سمجھتے ہیں کہ یہ تصویر آئی سی سی اہلکاروں نے نہیں بنائی، تاہم انصاف کا تقاضہ یہ تھا کہ اسے یہاں اشاعت کے لیے منظور نہ کیا جاتا۔ انھوں نے کہا کہ اس خاکے میں متحدہ عرب امارات اور نیپال تک شامل ہیں مگر پاکستان نہیں، اور یہ منصفانہ نہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ArnabJr
محمد عثمان نامی صارف نے لکھا کہ وہ آئی سی سی کی جانب سے کسی پاکستانی کھلاڑی کو نہ دکھائے جانے پر مایوس ہوئے ہیں، جس پر وویک نامی صارف کی طرح وبھور رائے نے بھی اس جانب توجہ دلائی کہ یہ تصویر آئی سی سی نے نہیں بنائی بلکہ آزادانہ طور پر بنایا گیا ایک خاکہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Muhamma47046025
اور چونکہ آئی سی سی اپنی ٹویٹ میں خاکہ نگار ڈیو ویب کو ٹیگ کر چکا تھا، اس لیے کئی لوگوں نے اُن کی پروفائل پر جا کر اُن کی توجہ اس جانب دلائی اور پاکستان کو شامل نہ کرنے پر ان پر تنقید کی۔
ہارون احمد نے ڈیو ویب کی ٹویٹ کے جواب میں پاکستانی کھلاڑی بابر اعظم کی ٹی 20 رینکنگ پوسٹ کی۔
واضح رہے کہ بابر اعظم آئی سی سی کی ٹی 20 رینکنگ میں سرِفہرست بلے باز ہیں جو اس وقت تو ٹی 20 میں نمبر ون بیٹسمین ہیں، مگر اس سے پہلے ون ڈے رینکنگ میں بھی زیادہ سے زیادہ نمبر دو اور ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر پانچ کا درجہ حاصل کر چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@haroonahmadsays
اس کے جواب میں بالآخر ڈیو ویب نے لکھا کہ گرافک بناتے وقت ان کے سامنے کئی لیئرز تھیں جس کی وجہ سے وہ نادانستہ طور پر اس سے صرفِ نظر کر گئے۔
انھوں نے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ اس خاکے میں ترمیم کر رہے ہیں۔












