رہائی پانے والے طالبان قیدی: ’جنگ یا امن کا انتخاب قیادت کے کہنے پر کریں گے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
- مصنف, خدائے نور ناصر
- عہدہ, بی بی سی، اسلام آباد
افغان حکومت کی جانب سے رہا کیے جانے والے طالبان قیدیوں کا کہنا ہے کہ رہائی کے بعد وہ امن سے رہیں گے یا دوبارہ بندوق اٹھائیں گے، یہ ان اُن کی قیادت کے فیصلے پر منحصر ہے اور وہ اب بھی اُن کے کہنے پر لبیک کہیں گے۔
افغان حکومت نے منگل کو بگرام اور پل چرخی سمیت ملک کی دیگر جیلوں سے طالبان کے 900 قیدی رہا کیے، جن میں سے 600 کے قریب صرف بگرام جیل سے رہا ہوئے۔
اس سال 28 فروری کو دوحہ میں ہونے والے امریکہ-طالبان امن معاہدے کے بعد پہلی مرتبہ ایک دن میں اتنی زیادہ تعداد میں طالبان قیدی رہا ہو گئے ہیں۔
افغان حکومت رہا ہونے والے قیدیوں سے بیانِ حلفی لیتی ہے کہ وہ دوبارہ بندوق نہیں اُٹھائیں گے اور رہا ہونے والے تمام طالبان قیدی اس حلفیہ بیان پر دستخط بھی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم منگل کو بگرام جیل سے رہا ہونے والے بیشتر طالبان قیدیوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ رہا ہونے کے بعد بھی وہ امن اور جنگ کے راستے کا انتخاب قیادت کے کہنے پر ہی کریں گے۔
ان رہا ہونے والوں میں ایک محمد رسول نامی طالب بھی تھے جن کا تعلق صوبہ قندوز سے ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ آٹھ سال سے قید میں ہیں جن میں سے پانچ سال اُنھوں نے بگرام جیل میں قید گزاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اُنھوں نے بتایا ’آٹھ سال پہلے مجھے اپنے گھر سے گرفتار کیا گیا جس کے بعد تین سال دو مختلف جیلوں میں گزارے جبکہ پانچ سال یہاں بگرام میں گزارے۔‘
اس سوال کے جواب میں کہ رہائی کے بعد وہ مستقبل میں کیا کریں گے؟ اُن کا کہنا تھا کہ ’ابھی تک تو میں جیل کے دروازے سے باہر ہی نہیں گیا ہوں، جب باہر جاؤں گا اور حالات دیکھوں گا تو پھر ہی کوئی بات کرسکتا ہوں۔‘
’ہم نے ہمیشہ سے اپنی قیادت کی اطاعت کی ہے تو امن یا جنگ کا فیصلہ قیادت کے کہنے پر ہی کروں گا۔‘
تاہم اُن کے مطابق وہ ذاتی طور پر امن کو ترجیح دیں گے کیونکہ تمام افغان عوام کی یہی خواہش ہے۔
بیشتر رہا ہونے والے طالبان قیدی یہ نہیں مان رہے تھے کہ اُنھیں جنگ کے میدان یا پھر حملوں کے دوران گرفتار کیا گیا بلکہ اس کے برعکس وہ یہ بتا رہے تھے کہ وہ اپنے گھروں سے ہی گرفتار ہوئے ہیں۔
بی بی سی پشتو کی نامہ نگار شازیہ حیا طالبان قیدیوں کی رہائی کے وقت بگرام جیل میں موجود تھیں۔ شازیہ حیا کے مطابق رہا ہونے والے اکثر قیدی نوجوان اور وہ قیدی تھے جنھوں نے اپنی قید کا زیادہ عرصہ گزار لیا تھا۔
انھوں نے بتایا ’اگرچہ ایک خاتون ہونے کے ناطے اکثر طالب قیدی مجھ سے بات کرنے سے کتراتے تھے لیکن پھر بھی بعض قیدیوں نے مجھ سے بات کی اور کوئی بھی یہ نہیں مان رہا تھا کہ اُنھیں جنگ کے دوران گرفتار کیا گیا۔‘
طالب ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ وہ بھی بہت جلد اتنے تناسب کے ساتھ حکومت کے قیدی رہا کریں گے۔
دوحہ میں ہونے والے امریکہ-طالبان امن معاہدے کے مطابق بین الافغان مذاکرات سے پہلے ہی افغان حکومت پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کرے گی جبکہ طالبان حکومت کے ایک ہزار قیدیوں کو رہا کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اُن کی پہلے دن سے یہی خواہش رہی ہے کہ قیدیوں کی رہائی جلد از جلد ہو تاکہ بین الافغان مذاکرات جلد شروع ہوں۔
اس سے پہلے عید سے ایک دن قبل طالبان نے عید کے تین دن کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا جس کے جواب میں افغان حکومت نے بھی تین دن تک جنگ بندی کا اعلان کیا۔
دونوں جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد عید کے پہلے دن افغان صدر اشرف غنی نے دو ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا، جس کے بعد منگل کو 900 طالبان قیدی مختلف جیلوں سے رہا ہوئے۔
تاہم افغان نیشنل سیکورٹی کونسل کے ترجمان جاوید فیصل کا کہنا ہے کہ باقی طالبان قیدیوں کی رہائی طالبان کی جانب سے پرتشدد واقعات میں کمی اور جنگ بندی میں توسیع کی صورت میں ہوگی۔
کابل میں منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ اگر طالبان تین روزہ جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کریں، تو اُن کے مزید قیدی بھی جلد رہا ہوجائیں گے، جس کے بعد بین الافغان مذاکرات بھی جلدی شروع ہوجائیں گے۔
کابل میں افغان حکام کے مطابق اب تک 1900 طالبان قیدی افغان حکومت کی جانب سے جبکہ 260 کے قریب حکومتی قیدی طالبان کی جانب سے رہا کیے گئے ہیں۔











