’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘ رکھنے والے افغان طالبان کے پاس کون سے ہتھیار ہیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی ایک ار پھر انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے جب افغانستان کی جانب سے اس کی حدود میں پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں جمعے اور جمعرات کی درمیانی شب پاکستان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیانات میں میں طالبان فورسز کی جانب سے متعدد پاکستانی چیک پوسٹس کو تباہ کرنے، کچھ کو قبضے میں لینے اور متعدد فوجی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔
افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کارروائیوں میں پاکستانی فوج کے 55 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔
اس جواب میں پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان میں کابل، پکتیکا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاع اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ افغان طالبان نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں جانی نقصان نہیں ہوا۔
پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے مطابق کہ طالبان حکومت کی فورسز کو چترال، خیبر، مہمند، کُرم اور باجوڑ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے سخت ردِعمل دیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں طالبان کے 133 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔














