پاکستان کا افغانستان میں ’29 مقامات پر‘ فضائی حملوں کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری لڑائی میں امریکہ مداخلت کر سکتا ہے لیکن ’میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے۔‘

خلاصہ

  • پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے جمعے کی شب افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف مزید فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں جبکہ دونوں اطراف سے سرحد پار فائرنگ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں
  • امریکی صدر ٹرمپ کے مطابق وہ اس لڑائی میں مداخلت کر سکتے ہیں ’لیکن میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے‘
  • پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ یہ ’اعلان جنگ نہیں‘ مگر افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی
  • اب تک پاکستان اور افغانستان نے اِن جھڑپوں میں اپنے 12، 12 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جبکہ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کی سرحدی چوکیوں کو تباہ کرنے، اُن پر قبضہ کرنے اور ایک دوسرے کے درجنوں فوجیوں کی ہلاکت کے دعوے کیے ہیں
  • افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’ہم ابھی بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں‘
  • ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اُن کا ملک پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کروانے کے لیے تیار ہے
  • اقوامِ متحدہ اور مسلم ممالک کے رہنماؤں نے افغانستان اور پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری کریں اور تحمل کا مظاہرہ کریں

لائیو کوریج

  1. ’گوریلا جنگ کا وسیع تجربہ‘ رکھنے والے افغان طالبان کے پاس کون سے ہتھیار ہیں اور کیا وہ پاکستان کے خلاف روایتی جنگ کے متحمل ہو سکتے ہیں؟

    افغان طالبان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی ایک ار پھر انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے جب افغانستان کی جانب سے اس کی حدود میں پاکستانی فضائی حملوں کے جواب میں جمعے اور جمعرات کی درمیانی شب پاکستان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا گیا۔

    افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیانات میں میں طالبان فورسز کی جانب سے متعدد پاکستانی چیک پوسٹس کو تباہ کرنے، کچھ کو قبضے میں لینے اور متعدد فوجی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

    افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی کارروائیوں میں پاکستانی فوج کے 55 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس جواب میں پاکستان نے ایک بار پھر افغانستان میں کابل، پکتیکا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاع اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ افغان طالبان نے ان حملوں کی تصدیق کی ہے تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں جانی نقصان نہیں ہوا۔

    پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے مطابق کہ طالبان حکومت کی فورسز کو چترال، خیبر، مہمند، کُرم اور باجوڑ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے سخت ردِعمل دیا جا رہا ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں طالبان کے 133 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

  2. جرات کے ساتھ ’جارحیت‘ کا جواب دیں گے: سابق افغان صدر

    حامد کرزئی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے کابل، قندھار اور پکتیکا میں پاکستانی حملوں کی مذمت کی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’افغان اپنے مکمل اتحاد سے اپنی سرزمین کا دفاع کریں گے اور جرات کے ساتھ جارحیت کا جواب دیں گے۔‘

  3. پاکستانی فوجی کی سرحدی پوسٹس پر دوبارہ کارروائیاں شروع کر دی ہیں: ترجمان افغان طالبان

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ کابل، قندھار اور ملک کے دوسرے صوبوں میں پاکستانی فضائی حملوں کے بعد طالبان کی فورسز نے ایک مرتبہ پھر پاکستانی فوج کے خلاف کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

    جمعے کی صبح ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فوج کی چوکیوں پر ’جوابی کارروائیاں‘ قندھار اور ہلمند صوبوں کی جانب سے کی جا رہی ہیں۔

    خیال رہے اس سے قبل طالبان کی وزارتِ دفاع نے کہا تھا کہ اس کی فورسز کی جانب سے حملے رات 12 بجے طالبان کے نائب امیر کے احکامات پر بند کر دیے گئے تھے۔

    نوٹ: افغان طالبان کے مرکزی ترجمان کی جانب سے یہ پوسٹ اب ایکس سے ڈیلیٹ کر دی گئی ہے۔

  4. پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان جھڑپوں کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images

    پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کی فورسز کے درمیان جھڑپیں جمعرات کی رات کو شروع ہوئی تھیں اور دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں تاحال کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

    • دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید اس وقت بڑھی جب جمعرات کی رات کو افغانستان میں طالبان کی حکومت نے 21 فروری کے حملوں کے جواب میں سرحدی علاقوں میں پاکستانی پوسٹس کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا۔
    • پاکستان نے ان ’بلا اشتعال‘ حملوں کے جواب میں افغانستان پر جوابی حملے کیے، جو حکام کے مطابق تاحال جاری ہیں۔
    • پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق کابل، پکتیکا اور قندھار میں پاکستان نے افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔
    • پاکستان کے وزیرِ اطلاعات کا دعویٰ ہے کہ اب تک پاکستان کے حملوں میں افغان طالبان کے 133 اہلکار ہلاک اور 200 سے زیادہ ہلاک ہوچکے ہیں۔
    • دوسری جانب افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں پاکستانی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان میں کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔
    • افغانستان میں طالبان کی وزارتِ دفاع نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فورسز کے حملوں میں 55 پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ متعدد کو یرغمال بنالیا گیا ہے۔
    • طالبان کی وزارتِ دفاع کے مطابق ان کی جانب سے حملے رات کو 12 بجے نائب امیر کے احکامات پر بند کر دیے گئے تھے۔
    • پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان کو ’کھلی جنگ‘ کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ ان کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔
  5. افغان طالبان کی کابل، پکتیکا اور قندھار میں پاکستانی حملوں کی تصدیق

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی طرف سے دارالحکومت کابل کے کچھ مقامات، پکتیکا اور قندھار میں بمباری کی گئی ہے۔

    تاہم انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

  6. ’آپریشن غضب للحق‘ میں اب تک افغان طالبان کے 133 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں: وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ

    پاکستانی حکومت نے افغانستان میں کی جانے والی کارروائیوں کو ’آپریشن غضب للحق‘ کا نام دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج کی کارروائیوں میں اب تک افغان طالبان حکومت کے 133 اہلکار ہلاک اور 200 زخمی ہو چکے ہیں۔

    ایکس پر اپنے بیان میں وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے افغانستان میں کابل، پکتیکا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی کارروائیوں میں افغان طالبان کے دو کور ہیڈکوارٹر، دو اسلحے کے ڈپو، ایک لاجسٹک گودام، تین بٹالین ہیڈکوارٹر، دو سیکٹر ہیڈکوارٹر اور 80 سے زیادہ ٹینکس تباہ کیے ہیں۔

    بی بی سی ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔ تاہم وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جوابی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔

  7. صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا، اب کھلی جنگ ہوگی: پاکستانی وزیرِ دفاع کا افغان طالبان کو پیغام

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے‘ اور اب ’کھلی جنگ‘ ہوگی۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں انھوں نے افغان طالبان پر ’ساری دنیا کے دہشتگردوں کو افغانستان میں اکٹھا‘ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ کابل کی عبوری حکومت نے ’دہشتگردی کو ایکسپورٹ‘ کیا ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان نے ’اپنے عوام کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر دیا اور خواتین کو جو حقوق اسلام دیتا ہے وہ بھی چھین لیے۔‘

  8. طالبان حکومت ’مجرم گروہ‘، ٹی ٹی پی کے ذریعے پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے: صدر آصف زرداری کا الزام

    صدر آصف زرداری

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستانی صدر آصف زرداری نے افغان طالبان حکومت کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک نے سفارتی ذرائع کے استعمال اور دوست ممالک کی معاونت سے اس ’مجرم گروہ‘ کو ’راہِ استدلال‘ پر لانے کی سنجیدہ کوشش کی مگر کوئی مثبت پیش رفت نہ ہو سکی۔

    ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر آصف زرداری نے الزام عائد کیا کہ پچھلے پانچ برسوں سے افغان طالبان کی حکومت پاکستان کے خلاف کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ذریعے ’دہشتگردی کی کارروائیوں میں مصروف ہے۔‘

    پاکستانی صدر نے خبردار کیا کہ اگر خونریزی کا سلسلہ جاری رہا تو کوئی بھی ذمہ دار عناصر ان کے ملک کی رسائی سے باہر نہیں ہوگا۔

  9. سرحدی جھڑپوں میں آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے، رات 12 بجے حملے روک دیے گئے تھے: طالبان وزارتِ دفاع

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images

    افغانستان میں طالبان کی وزارتِ دفاع نے اپنے آٹھ جنگجوؤں کی ہلاکت اور 11 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

    طالبان کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’چار گھنٹوں کی جھڑپوں کے بعد 55 پاکستانی فوجی اہلکار ہلاک ہوئے، جن کی لاشیں طالبان کے پاس ہیں جبکہ کچھ اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا گیا۔‘

    اس سے قبل پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے جوابی حملوں میں 72 افغان طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔

    بی بی سی ان دعوؤں کی آزدانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    اپنے بیان میں افغانستان میں طالبان کی وزارتِ دفاع کا مزید کہنا تھا کہ آج کے حملے کچھ دن قبل پاکستان کی جانب سے کیے گئے حملوں کا جواب تھا۔

    یاد رہے پاکستانی نے 21 فروری کو افغانستان میں شدت پسندوں کے ساتھ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور 80 سے زیادہ عسکریت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

    افغان طالبان کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ ان کی فورسز نے ’منصوبے کے مطابق تمام اہداف حاصل کر لیے ہیں اور جنگ رات بجے کے قریب افغانستان میں طالبان کے نائب امیر کے احکامت پر روک دی گئی تھی۔‘

  10. ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں، جارحیت کا منھ توڑ جواب دیا جائے گا: وزیرِ اعظم شہباز شریف

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ان کی طرف سے ملک کے دفاع پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور ہر ’جارحیت کا منھ توڑ جواب‘ دیا جائے گا۔

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کے دفتر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان نے ہمیشہ امن کو فروغ دیا ہے تاہم ملکی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی اور پاکستان کی فوج ہر جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔‘

    وزیرِ اعظم شہباز شریف کی جانب سے بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سرحدی جھڑپیں جاری ہیں۔

    اپنے بیان میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوجی کسی بھی اندرونی اور بیرونی چیلنج سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

  11. جوابی حملوں میں 72 افغان طالبان ہلاک، 120 زخمی: پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان کا دعویٰ

    افغان طالبان

    ،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images

    پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی نے دعویٰ کیا ہے کہ ’بلا اشتعال‘حملوں کے بعد پاکستان اب تک افغان طالبان کے 72 اہلکاروں کو ہلاک اور 120 کو زخمی کر چکا ہے۔

    ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طرف سے افغان طالبان کی 16 پوسٹس تباہ کر دی گئی ہیں، جبکہ سات کو قبضے میں لے لیا گیا ہے۔

    ان کے مطابق پاکستان نے اب تک افغان طالبان کا ایک بڑا اسلحے کا ڈپو، ایک بٹالین ہیڈکوارٹر اور سیکٹر ہیڈکوارٹر بھی تباہ کر دیا ہے۔

    اس سے قبل افغان حکام نے بھی پاکستان کی متعدد پوسٹس کو تباہ کرنے اور قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کے علاوہ طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے حملوں میں 55 پاکستانی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

    بی بی سی اردو فریقین کے ان تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  12. شکست دشمن کا مقدر ہے: پاکستانی وزیرِ دفاع کا افغان طالبان کے ساتھ جھڑپوں پر بیان

    خواجہ آصف

    ،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ملک کی فوج افغان طالبان کی ’جارحیت‘ کا جواب دے رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’شکست دشمن کا مقدر ہے۔‘

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پیغام میں پاکستان کے وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ ’اچھا ہو کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا اور وفاق اور دوسرے صوبوں کے ساتھ شانہ بشانہ دفاع وطن میں روزِ روشن کی طرح شریک ہو۔‘

  13. پاکستان کے خلاف کارروائیاں منصوری اور خالد بن ولید کور نے کی ہیں: افغان طالبان ترجمان

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images

    افغانستان میں طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کا کہنا ہے کہ سرحد پر پاکستانی پوسٹس پر کارروائیاں ان کی منصوری کور اور خالد بن ولید کور نے کی ہیں۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انھوں نے پاکستانی فوجی کی متعدد پوسٹس کو تباہ کرنے اور کچھ پر قبضہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ طالبان فورسز کی کارروائی میں 55 پاکستانی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ بی بی سی اردو ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں 36 افغان طالبان کے اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم بی بی سی اردو ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    عطا اللہ تارڑ نے تصدیق کی ہے کہ افغان طالبان کے حملوں میں دو پاکستانی سکیورٹی اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں۔

  14. پاکستان کا افغان طالبان کے 36 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ، دو سکیورٹی اہلکاروں کی موت کی تصدیق

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images

    پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فوج کی کارروائیوں میں افغان طالبان کے 36 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

    اپنے ایک بیان میں انھوں نے تصدیق کی کہ افغان طالبان کے ساتھ سرحدی جھڑپوں میں پاکستانی فوج کے دو اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ تین زخمی ہیں۔

    خیال رہے جمعرات کو افغان طالبان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دونوں ممالک کی سرحد پر پاکستانی پوسٹس پر حملوں کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی جانب سے پاکستان کی متعدد پوسٹس کو قبضے میں لیا گیا ہے اور سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    پاکستان کے وزیرِ اطلاعات کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان، افغانستان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ کی کاروائیوں کا بھرپور و مؤثر جواب دیا جا رہا ہے اور جاتا رہے گا۔

  15. افغان طالبان کی ’جارحیت‘ کے جواب میں انھیں ’بھاری نقصان‘ پہنچایا گیا ہے: ترجمان پاکستانی وزیرِ اعظم

    مشرف زیدی

    ،تصویر کا ذریعہFile Photo: Getty Images

    پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیرملکی میڈیا مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ سرحدی جھڑپوں میں کسی بھی پاکستانی پوسٹ کو نقصان نہیں پہنچا ہے اور نہ کسی پر قبضہ ہوا ہے۔

    انھوں نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ پاکستان نے سرحد پر افغان طالبان کی ’جارحیت‘ کے جواب میں انھیں ’بھاری نقصانات‘ پہنچائے ہیں۔

    خیال رہے اس سے قبل افغانستان میں طالبان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ طالبان فورسز کی کارروائی میں متعدد پاکستانی پوسٹس کو تباہ کیا گیا ہے، کچھ کو قبضے میں لیا گیا ہے اور متعدد پاکستانی اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

    تاہم مشرف زیدی نے ان بیانات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اب تک نہ کو پاکستانی فوجی پکڑا گیا ہے اور نہ ہی کسی اہلکار کی جان گئی ہے۔

    ’پاکستان کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کا فوری اور مؤثر ردِعمل دیا جائے گا۔‘

  16. پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کے بارے میں اب تک ہم کیا جانتے ہیں؟

    پاکستان اور افغان طالبان دونوں نے سرحدی علاقوں میں ایک دوسرے کے بھاری نقصانات کرنے کے دعوے کیے ہیں۔

    اب تک ہم سرحدی جھڑپوں کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

    • جمعرات کی رات کو افغانستان میں طالبان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
    • ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ افغان طالبان نے پاکستان کی متعدد پوسٹس اپنے قبضے میں لے لی ہیں اور ان کی کارروائیوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
    • طالبان کے بیانات منظرِ عام پر آنے کے بعد پاکستانی حکومت نے سرکاری طور پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان اور افغانستان سرحد پر افغان طالبان حکومت کی ’بلا اشتعال کارروائی‘ کا ’فوری اور مؤثر‘ ردِ عمل دیا گیا ہے۔
    • پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کے مطابق طالبان حکومت کی فورسز کو چترال، خیبر، مہمند، کُرم اور باجوڑ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے سخت ردِعمل دیا جا رہا ہے۔
    • وزارتِ اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق افغان طالبان کو شدید جانی نقصان ہوا ہے اور ان کی متعدد پوسٹس تباہ کر دی گئی ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
    • دوسری جانب پاکستان میں عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے چترال سیکٹر میں ایک اور باجوڑ سیکٹر میں افغان طالبان کی دو چیک پوسٹس کو تباہ کر دیا ہے۔
  17. افغان طالبان کی ’بلا اشتعال کارروائی‘ کا ’فوری اور مؤثر‘ ردِعمل دیا گیا، متعدد چیک پوسٹس تباہ: پاکستان کا دعویٰ

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہFile Photo: Getty Images

    پاکستان حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان سرحد پر افغان طالبان حکومت کی ’بلا اشتعال کارروائی‘ کا ’فوری اور مؤثر‘ ردِ عمل دیا گیا ہے۔

    جمعرات کو پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ افغان طالبان نے خیبر پختونخوا میں پاکستان اور افغانستان سرحد کے متعدد مقامات پر ’بلا اشتعال فائرنگ‘ کی ہے، جس کا جواب پاکستانی سکیورٹی فورسز نے دیا ہے۔

    خیال رہے کچھ دیر قبل افغان طالبان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی فورسز نے پاکستانی چیک پوسٹس کو نشانہ بنایا ہے اور متعدد پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کیا ہے۔

    پاکستانی وزارتِ اطلاعات کے مطابق کہ طالبان حکومت کی فورسز کو چترال، خیبر، مہمند، کُرم اور باجوڑ میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کی طرف سے سخت ردِعمل دیا جا رہا ہے۔

    وزارتِ اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق افغان طالبان کو شدید جانی نقصان ہوا ہے اور ان کی متعدد پوسٹس تباہ کر دی گئی ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان میں عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے چترال سیکٹر میں ایک اور باجوڑ سیکٹر میں افغان طالبان کی دو چیک پوسٹس کو تباہ کر دیا ہے۔

  18. چمن سلنڈر دھماکے میں سات بچے ہلاک، 17 افراد زخمی: حکام

    بلوچستان کے افغانستان سے ملحقہ سرحدی شہر چمن میں گیس سلنڈر کے دھماکے میں کم از کم سات بچے ہلاک اور خواتین اور بچوں سمیت 17 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

    ہلاک اور زخمی ہونے والے بچے افطاری کے لیے لسی لینے کے لیے ایک گھر میں جمع ہوئے تھے۔

    چمن پولیس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ کار یزات پولیس سٹیشن کی حدود میں طورپُل کے قریب ایک گھر سے بچے افطاری کے لیے لسی لینے جاتے تھے۔

    انھوں نے بتایا کہ ’آج بھی یہ بچے لسی لینے کے لیے گھر میں جمع ہوئے تھے کہ شام پانچ بجے کے قریب گھر میں موجود گیس سلنڈر زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ دھماکے سے گھر کے دو کمرے منہدم ہو گئے جس کے سبب بچے اور گھر کے بعض افراد دب گئے۔

    انھوں نے بتایا کہ دھماکے کے باعث بچوں سمیت زخمی ہونے والے دیگر افراد کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چمن منتقل کیا گیا ہے۔

    فون پر رابطہ کرنے پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چمن کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد اویس نے بتایا کہ مجموعی طور پر اس گیس سلنڈر کے دھماکے میں 23 افراد زخمی ہوئے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں 7 بچوں کی موت ہوئی، جن کی عمریں دس سال کے لگ بھگ تھیں۔

  19. طالبان کا سرحد پر پاکستانی فوج کے مراکز اور تنصیات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ, عزیز اللہ خان، بی بی سی اردو پشاور

    افغانستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان میں طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی سرحدی فورسز کی طرف سے پاکستان اور افغان سرحد پر پاکستانی فوج کے مراکز اور تنصیبات پر ’وسیع‘ کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیانات میں میں طالبان فورسز کی جانب سے متعدد پاکستانی چیک پوسٹس کو تباہ کرنے، کچھ کو قبضے میں لینے اور متعدد فوجی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ بی بی سی ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    طالبان حکام کے بیان پر پاکستان نے تاحال سرکاری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا ہے۔

    تاہم پاکستان میں باڑہ اور تیراہ کے علاقوں کے لوگوں نے بی بی بی سی اردو کو بتایا کہ آوازیں دور تک سنی جا رہی ہیں۔

    لوئر کرم اور صدہ کے قریب پاک افغان سرحدی علاقے سے ملک عنایت نامی پاکستانی شہری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ’ڈیڑھ، دو گھنٹے سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں لیکن اب تک آبادی کی طرف کوئی گولہ نہیں گِرا ہے اور نہ ہی کوئی نقصان ہوا ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ان کے علاقے کا نام الوری ہے اور سرحد کے قریب علاقوں میں لوگ خوفزدہ ہیں۔

    خیال رہے پاکستان نے 21 فروری کو افغانستان کے اندر شدت پسندوں کے ساتھ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ پاکستان میں عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور نام نہاد دولت اسلامیہ کے ٹھکانوں پر حملوں میں 80 سے زیادہ عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

    دوسری جانب افغانستان نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کے ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری مارے گئے تھے۔

    طالبا نے یہ بھی تنبیہ کی تھی کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔

  20. ژوب میں آپریشن کے دوران 10 شدت پسند ہلاک: پاکستانی فوج

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع ژوب میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کے دوران 10 شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 25 فروری کو ضلع ژوب میں سکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کیا جو کہ 24 فروری کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے تسلسل میں تھا۔

    اس کے مطابق آپریشن کے دوران فورسز نے متعدد راستوں پر شدت پسندوں کا سراغ لگا کر ان کے ٹھکانوں کو موثر انداز میں نشانہ بنایا اور فائرنگ کے تبادلے کے دوران 10 شدت پسند ہلاک ہوئے۔ فوج کے مطابق ہلاک ہونے والے شدت پسندوں کا تعلق ’فتنہ الخوارج‘ سے تھا۔ یہ اصطلاح عام طور پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ کارروائی کے دوران ’دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔‘

    بیان میں مزید بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والے عناصر علاقے میں ’متعدد دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث تھے، علاقے میں دیگر ممکنہ خطرات کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن آپریشنز جاری رہیں گے۔‘

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ قومی ایکشن پلان کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسداد دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے ’بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔‘