یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
28 فروری کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری لڑائی میں امریکہ مداخلت کر سکتا ہے لیکن ’میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے۔‘
یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا ہے۔
28 فروری کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں:
پاکستانی وزیرِ اعظم کے ترجمان مشرف زیدی کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے خلاف ’اعلان جنگ کرنے کی ضرورت نہیں‘ تاہم سرحد پار کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ’افغان طالبان اور دہشتگرد گروہوں کے درمیان تعلق ختم نہیں ہو جاتا۔‘
الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران وزیر اعظم کے ترجمان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا پاکستان نے افغانستان کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا ہے؟ یاد رہے کہ پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغانستان کو ’کھلی جنگ‘ کی دھمکی دی ہے۔
اس بارے میں مشرف زیدی کا کہنا تھا کہ ’ہمیں جنگ کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ جنگ نہیں ہے۔ جنگ دو ملکوں کے درمیان ہوتی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اپنی ضرورت کے مطابق اقدامات کر رہا ہے تاکہ پاکستانی سرزمین اور پاکستان کے عوام۔۔۔ کا افغان سرزمین سے آنے والی دہشتگردی سے دفاع کیا جا سکے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں پاکستان مخالف شدت پسندی کو افغان طالبان کی عبوری حکومت کی حمایت حاصل ہے۔
اس سوال پر کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد کیسے بحال ہو گا، مشرف زیدی نے کہا کہ ’ہم اعتماد قائم نہیں کریں گے بلکہ آگ کی دیوار تعمیر کریں گے تاکہ اپنی سرزمین اور عوام کو تحفظ دے سکیں۔‘
انھوں نے کہا کہ افغان طالبان اور انڈیا کو اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستانی وزیر اعظم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبان کو دوحہ معاہدے کی شرائط پوری کرنا ہوں گی جن میں درج ہے کہ شدت پسندوں کی جانب سے اس کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں کی جائے گی۔
مشرف زیدی نے یہ بھی کہا کہ اگر افغان طالبان اپنی سرزمین پر شدت پسندی کے ٹھکانوں کو ختم نہیں کریں گے تو یہ کام پاکستان کرے گا۔ ’ہم یہ (کارروائیاں) جاری رکھیں گے جب تک افغان طالبان اور دہشتگرد گروہوں کے درمیان تعلق ختم نہیں ہو جاتا۔‘
امریکی محکمۂ خارجہ میں سیاسی امور کی سیکریٹری ایلیسن ہوکر کا کہنا ہے کہ ’امریکہ طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کرتا ہے۔‘
ایکس پر ایک پیغام میں ہوکر کا کہنا تھا کہ ان کی جمعے کی شب پاکستانی سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ سے گفتگو ہوئی ہے جس دوران انھوں نے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں جانوں کے ضیاع پر ہمدردی ظاہر کی ہے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ ’ہم صورتحال کی قریب سے نگرانی کر رہے ہیں اور طالبان کے حملوں کے خلاف پاکستان کے حق دفاع کی حمایت کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہX

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس کا کہنا ہے کہ جمعے کی شب شدت پسندوں کی جانب سے پشاور سمیت صوبے بھر کے مختلف تھانوں اور چوکیوں پر حملے کیے گئے جن میں ایک ہیڈ کانسٹیبل اور ایک عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔
ایک بیان میں پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب پشاور کے علاقے بڈھ بیر میں ایک تھانے پر ’دستی بم پھینکا گیا جس کے نتیجے میں روزنامچہ میں موجود ہیڈ کانسٹیبل فیصل زخمی ہوا‘۔ جبکہ تھانہ متنی کی حدود میں بھی ’دستی بم حملے میں ایک شہری زخمی ہوا۔‘
ان کے مطابق خیبر اور متنی کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں نے پولیس کی تنصیبات پر ’ہینڈ گرینیڈ اور چھوٹے بڑے ہتھیاروں سے حملے کیے۔‘ جبکہ شدت پسندوں نے بنوں میں تھانہ منڈان کی حدود میں واقع پی پی کنگر پل پر ’مختلف سمتوں سے سنائپر رائفلز کے ذریعے حملہ کیا۔‘
اس کا مزید کہنا ہے کہ تھانہ ڈومیل کی چوکی کاشو پل پر بھی حملہ کیا گیا جہاں پولیس کی ’جوابی کارروائی کی‘ اور فائرنگ ’15 منٹ تک جاری رہی۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ ضلع خیبر کے علاقے باڑہ میں تکیہ پولیس چیک پوسٹ پر ’نامعلوم شرپسندوں نے دستی بم پھینکا، جس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔‘
خیبر پختونخوا کی پولیس کا کہنا ہے کہ ان سبھی حملوں کو ناکام بنایا گیا ہے اور شدت پسندوں کے خلاف جوابی کارروائی کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے انسپکٹر جنرل ذوالفقار حمید کا کہنا ہے کہ ’یہ شرپسند صرف جھاڑیوں میں چھپ کر وار کرنا جانتے ہیں اور ان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ سامنے آ کر مقابلہ کر سکیں۔ جیسے ہی انھیں پولیس کی جانب سے بھرپور اور آہنی جواب ملتا ہے، یہ بزدلوں کی طرح میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔‘
پاکستان میں کالعدم قرار دیے جانے والے شدت پسند گروہوں ٹی ٹی پی، جماعت الاحرار اور اتحاد المجاہدین نے پاکستان میں حملوں میں تیزی لانے کی دھمکی دی ہے۔
سوشل میڈیا پر ان شدت پسند گروہوں سے منسوب پیغامات گردش کر رہے ہیں جن میں وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہیں اور اپنے جنگجوؤں کو ہدایت دیتے ہیں کہ پاکستان میں حملے تیز کیے جائیں۔
اپنے بیانات میں ان گروہوں نے افغانستان کے ساتھ ہمدردی بھی ظاہر کی ہے۔
پاکستان اور افغانستان نے تاحال ان بیانات پر تبصرہ نہیں کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری لڑائی میں امریکہ مداخلت کر سکتا ہے لیکن ’میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے۔‘
ٹرمپ نے یہ بیان وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرنے کے دوران دیا۔
ایک صحافی نے ان سے سوال کیا تھا کہ ’پاکستان نے افغانستان کے خلاف جنگ شروع کی ہے، کیا انھوں نے آپ سے مداخلت کرنے کی درخواست کی ہے؟‘
اس پر ٹرمپ کا جواب تھا کہ وہ اس لڑائی میں مداخلت کر سکتے ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’آپ کو تو معلوم ہوگا کہ میری پاکستان سے اچھی دوستی ہے۔ ان کا وزیر اعظم عظیم ہے، وہاں عظیم جنرل ہے، عظیم رہنما ہے۔‘
’وہ دو ایسی شخصیات ہیں جن کی میں واقعی بہت عزت کرتا ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اچھا کام کر رہا ہے۔
پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغانستان کے خلاف کارروائیوں کی تفصیلات شیئر کی ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن کے دوران اب تک ’افغان طالبان کی 89 چیک پوسٹیں تباہ، 18 چیک پوسٹوں پر قبضہ، 135 ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔‘
ان کا دعویٰ ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں ’29 مقامات کو فضائی کارروائی میں نشانہ بنایا ہے۔‘
پاکستانی وزیر اطلاعات کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں افغان طالبان کے 297 اہلکار ہلاک اور 450 زخمی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
طالبان کا سرحد پار ’جوابی حملے‘ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
دوسری طرف افغان طالبان کے حکومتی اہلکار کا کہنا ہے کہ جمعے کی شب پاکستان پر حملے دوبارہ شروع کیے گئے ہیں۔
جنوب مشرقی افغانستان میں طالبان کی 203ویں منصوری کمان کے ترجمان عبدالحق فدا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’رمضان کے وقفے کے بعد خوست اور ٹانک میں آپریشن بحال کیا گیا ہے اور لڑائی جاری ہے۔‘
پاکستانی حکام نے تاحال اس پر تبصرہ نہیں کیا۔
خیال رہے کہ طالبان حکومت نے سرحد پار پوسٹوں پر حملوں میں 55 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا تھا۔
بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق جمعے کی شب طورخم سرحد کے مقام پر فائرنگ میں شدت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایک سرکاری اہلکار نے بتایا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے طورخم ایکسپورٹ ٹرمینل سمیت متعدد مقامات کو مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا گیا۔
پلینٹ لیبز سے موصول ہونے والی تازہ سیٹلائٹ فوٹیج کی بدولت افغانستان پر گذشتہ رات پاکستان کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
اگرچہ بی بی سی کو موصول ہونے والی سیٹلائٹ تصاویر کی ریزولیوشن نسبتاً کم ہے (یعنی کوالٹی کچھ بہت زیادہ اچھی نہیں ہے)، لیکن کابل میں دو مقامات اور قندھار اور گردیز میں کئی مقامات پر پہنچنے والے نقصان کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
کابل میں ہونے والا نقصان پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے جاری کی گئی فوٹیج سے مطابقت رکھتا ہے، جس میں شہر کے مشرقی علاقے میں تقریباً 400 میٹر کے فاصلے پر واقع دو عمارتوں پر حملے ہوتے دکھائے گئے ہیں۔

اس طرح افغانستان کے جنوب مشرقی شہر گردیز میں ایک فوجی اڈے میں واقع چار عمارتوں پر (آگ سے) جھلسنے کے نشانات اور نقصانات دیکھے جا سکتے ہیں۔
ناسا سے موصول ہونے والے ڈیٹا میں بھی اس مقام پر رات کے وقت ہیٹ سگنیچر ریکارڈ کیا گیا، جو اس مقام پر بڑے پیمانے پر آگ لگنے کے امکان کو ظاہر کرتا ہے۔
سیٹلائیٹ تصاویر کے مطابق قندھار، جو طالبان کا ایک تاریخی گڑھ ہے، میں واقع ایئرپورٹ سے 4.5 کلومیٹر جنوب مشرق میں دو مقامات کو پہنچا نقصان دیکھا جا سکتا ہے۔
بی بی سی ویریفائی ماہرین کے ساتھ مل کر یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہاں جن دو مقامات پر حملہ ہوا ہے وہاں کیا کیا جا رہا تھا، یعنی اس مقام پر کون سی عمارتیں تھیں اور انھیں کس لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔

خوست میں طالبان کے حکومتی اہلکاروں نے بی بی سی کو تصدیق کی کہ پاکستانی جانب سے حملے آج جمعے کی شام دوبارہ حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔
افغانستان میں طالبان حکومت کے جنوب مشرقی زون میں 203ویں منصوری کور کے ترجمان عبدالحق فدا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’رمضان کے وقفے کے بعد خوست اور ٹانک میں آپریشن دوبارہ شروع ہو گیا ہے اور لڑائی جاری ہے۔‘
عبدالحق فدا سے قبل خوست کے گورنر کے ترجمان مستغفر گرباز نے بھی میڈیا کو بھیجے گئے ایک پیغام میں حملوں کے آغاز کے بارے میں اعلان کیا ہے۔
انھوں نے لکھا کہ ’ایک بار پھر، صوبہ خوست کے زازئی میدان اور علیشیر اور تیریز اضلاع میں سرحد کے ساتھ پاکستانی فوجی حکومت کی چوکیوں پر افغان فورسز کے جوابی حملوں کی ایک نئی لہر شروع ہو گئی ہے۔‘
پاکستان نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
پاکستان کے افغانستان پر حملوں کی اصل ویڈیوز کے ساتھ ساتھ پرانی ویڈیوز اور تصاویر بھی گردش کر رہی ہیں جنہیں غلط طور پر نئی دکھایا جا رہا ہے۔
مثال کے طور پر ایک تصویر، جس میں دن کے وقت پاکستان کے لڑاکا جہاز کا جلتا ہوا ملبہ دکھایا گیا ہے، کئی اکاؤنٹس نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر پوسٹ کی ہے اور اس نے لاکھوں ویوز حاصل کیے ہیں۔ لیکن یہ تصویر موجودہ افغانستان کے ساتھ تنازع سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ گذشتہ برس کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہX
ہم نے یہ بات ریورس امیج سرچ کے ذریعے معلوم کی، جو ایک اہم طریقہ ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ کوئی تصویر پہلے کب اور کہاں آن لائن شائع ہوئی ہے۔ اس تصویر کا سب سے پرانا ورژن ہمیں مئی 2025 میں ملا۔
اسی طرح ایک ویڈیو بھی بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کابل پر بڑا دھماکہ اور دھوئیں کا بادل اٹھتا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ریورس امیج سرچ سے پتا چلتا ہے کہ یہ فوٹیج دراصل 2003 میں عراق کے دارالحکومت بغداد پر فضائی حملوں کی ایک طویل ویڈیو کا حصہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہFacebook

،تصویر کا ذریعہX/Telegram
پاکستان کے وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ ملک افغانستان کے ساتھ ’کھلی جنگ‘ میں ہے، کیونکہ گذشتہ رات فضائی حملے کیے گئے۔
بی بی سی ویریفائی نے ویڈیوز کی جگہ معلوم کی ہے جن میں افغانستان کے صوبے قندھار اور پکتیا میں حملے دکھائے گئے ہیں۔
پاکستانی حکومت کی جانب سے جاری فضائی فوٹیج میں احمد شاہ بابا انٹرنیشنل ایئرپورٹ (قندھار شہر کے قریب) کے پاس ایک گولہ بارود کے ڈپو پر بڑا دھماکہ دکھایا گیا ہے۔ ہم نے ویڈیو میں موجود ڈپو کی چار عمارتوں کو سیٹلائٹ تصاویر سے ملا کر اس جگہ کی تصدیق کی۔
ایک اور ویڈیو، جو سوشل میڈیا پر شیئر ہوئی ہے، میں پکتیا کے ارگون ضلع میں طالبان کے فوجی اڈے سے دھواں اٹھتا دکھائی دیتا ہے۔ ہم نے اس جگہ کی تصدیق سڑکوں اور سامنے موجود نمایاں عمارت کو سیٹلائٹ تصاویر سے ملا کر کی۔
پاکستانی فورسز نے گذشتہ رات کابل کے قریب ایک فوجی اڈے پر بھی حملہ کیا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکہ، برطانیہ اور چین نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔
حفاظتی خطرات کے باعث امریکی محکمۂ خارجہ نے اسرائیل میں موجود امریکی مشن سے غیر ہنگامی نوعیت کے امریکی سرکاری اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کے انخلا کی اجازت دے دی۔
سکیورٹی واقعات کے جواب میں اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے امریکی سفارت خانہ مزید پابندیاں لگا سکتا ہے یا اپنے اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ کو اسرائیل کے بعض علاقوں، یروشلم کے قدیم شہر اور مغربی کنارے کا سفر کرنے سے روک سکتا ہے۔ لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ جب تک کمرشل پروازیں دستیاب ہیں، وہ اسرائیل چھوڑنے پر غور کریں۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کے بعد بھی غیر یقینی کی سی صورتحال ایسی ہے کہ امریکہ کے بعد چین نے بھی اپنے شہریوں کو ایران کا سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے اور وہاں موجود افراد کو جلد از جلد نکلنے کی ہدایت کی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق یہ اقدام سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر کیا گیا ہے۔ یہ اعلان اُس وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
یہ طرح کے بیانات عام طور پر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دے رہی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کسی ملک میں غیر یقینی یا خطرناک حالات پیدا ہو جائیں۔
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت ناجائز، غیر قانونی اور خلاف اسلام ہے۔ جمعے کی شام یک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے اقدامات پر عالمی سطح پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے جو بین الاقوامی اور اسلامی قوانین کی بھی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات کے مطابق افغانستان میں دہشتگردوں کو تربیت دی جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس رجیم سے افغانستان میں خواتین، بچے اور اقلیتیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔
ان کے مطابق افغان رجیم کی کابینہ میں کوئی خاتون شامل نہیں ہے اور ملک میں لڑکیوں کو 13 برس کے بعد تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ انھوں نے الزام عائد کیا کہ طالبان خواتین کو ان کا بنیادی حقِ تعلیم اور نمائندگی دینے سے انکار کر رہے ہیں۔
ان کے مطابق اس نظام میں غلامی کی جھلک موجود ہے جو اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ عطا تارڑ کے مطابق ایسی خبریں سامنے آئی ہیں کہ وہاں عدالتوں میں بھی حیثیت دیکھ کر سزائیں دی جاتی ہیں۔
’طالبان امن پر یقین نہیں رکھتے اور ان کی پالیسیاں خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ@SpoxCHN_MaoNing
چین کے دفتر خارجہ کی ترجمان نے کہا ہے کہ چین کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تنازع پر گہری تشویش ہے اور وہ جانی نقصان پر افسردہ ہے۔
ترجمان نے کہا کہ چین دونوں فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں، اختلافات اور تنازعات کو مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور لڑائی کو جلد از جلد ختم کریں۔
ترجمان نے کہا کہ چین اپنے چینلز سے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کرتا آیا ہے اور بیجنگ اب بھی تعلقات میں بہتری اور کشیدگی میں کمی کے لیے تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
چین نے پاکستان اور افغانستان سے کہا ہے کہ ’دونوں ممالک میں موجود چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ@SpoxCHN_MaoNing

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ 26 فروری کی شب افغانستان سے ہونے والے ’دہشت گرد‘ حملوں اور طالبان حکومت کی اشتعال انگیز کارروائیوں کے جواب میں پاکستان کی مسلح افواج نے ٹھوس اور مؤثر آپریشنز کیے ہیں۔
بیان کے مطابق ان کارروائیوں میں دہشت گرد تنظیموں اور ان کے لاجسٹک مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بھاری نقصان پہنچا ہے۔
ترجمان وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ اقدامات پاکستان کے شہریوں اور خطے کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں اور یہ بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اگر طالبان حکومت یا کسی دہشت گرد گروہ نے مزید اشتعال انگیزی کی تو پاکستان بھرپور اور فیصلہ کن جواب دے گا۔
پاکستان نے واضح کیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے اور کئی بار سیاسی و سفارتی زرائع سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی، لیکن طالبان حکومت اور انڈیا کی پشت پناہی سے دہشت گرد حملے بڑھتے گئے۔
وزارتِ خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ طالبان حکومت پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ دہشت گرد گروہوں کی حمایت ختم کرے اور عملی اقدامات کرے۔
پاکستان نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ ملک اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPMO
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جمعہ کی دوپہر پاکستان فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا ہے جہاں انھیں عسکری قیادت کی جانب سے افغانستان سے متعلق صورتحال پر مفصل بریفنگ دی گئی ہے۔
وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق اس موقع پر شہباز شریف نے شرپسندی پر مبنی کارروائیوں کے لیے زیرو ٹالرنس اپنانے کی ہدایت کی ہے۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ’افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی کے لیے سرکاری سطح پر استعمال ہونے والی اصطلاح) کی پاکستان کے خلاف کاروائیاں ناقابل قبول ہیں۔‘
وزیرِ اعظم نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواج پاکستان ملک کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں اور پاکستان کسی بھی جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کرنا بخوبی جانتا ہے۔
اعلامیے کے مطابق وزیرِ اعظم شہباز شریف نے افغان طالبان رجیم کے سرحدی علاقوں میں حملوں کو پسپا کرنے اور بھرپور جوابی کارروائیاں کرنے پر افواج پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ پوری قوم وطن کی حفاظت کے لیے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
گذشتہ رات ہونے والے شدید سرحدی جھڑپوں کے بعد اب افغانستان کے صوبوں خوست، پکتیا، پکتیکا، ننگرھار اور کنڑ میں صورتحال نسبتاً پُرامن ہے اور براہ راست جھڑپیں نہیں ہو رہی ہیں تاہم سرحد پار فائرنگ کے واقعات جمعہ کے روز بھی پیش آتے رہے ہیں۔
کنٹر میں موجود ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کے روز صوبے کے سرحدی اضلاع شولتن، دانگام اور ناری میں سرحد پار فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
ذرائع نے افغانستان میں طالبان اہلکاروں اور عام شہریوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے تاہم ان کی تعداد کے بارے میں تاحال معلوم نہیں ہو سکا ہے۔
جمعہ کے روز صوبہ ننگرہار میں بھی براہ راست جھڑپوں کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہیں، تاہم طورخم سرحد کے نزدیک فائرنگ کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ طورخم سرحد کے نزدیک پاکستان سے نکالے گئے افغان پناہ گزینوں کا بڑا کیمپ موجود ہے اور طالبان حکام کے مطابق اس کیمپ میں موجود پناہ گزینوں کو گذشتہ رات ہی وہاں سے نقل مکانی کا کہہ دیا گیا تھا۔
اسی طرح جمعہ کے روز خوست، پکتیا اور پکتیکا میں بھی براہ راست جھڑپیں نہیں ہوئی ہیں تاہم ذرائع کے مطابق سرحد پار فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ خوست میں طالبان عبوری حکومت کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کیا اور قوم سے متحد رہنے کی اپیل کی۔
اگرچہ طالبان حکام نے اس کی تاحال تصدیق نہیں کی ہے مگر چند ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فضائیہ نے جمعہ کی صبح پکتیا کے ضلع سروبی میں فضائی حملہ کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTaliban
طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ جب بھی افغانستان پر حملہ ہوا تو افغان حکومت نے ہمیشہ بات چیت اور افہام و تفہیم کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی، لیکن ہر بار حملے دہرائے گئے۔ ہم نے صرف اپنے دفاع کا جائز حق استعمال کیا اور کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا۔
جمعے کو کابل میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ہم اب بھی بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ہم اپنے پڑوسیوں اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے اور مثبت تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم ہمسایوں اور عالمی برادری کو بارہا یقین دلاتے رہے ہیں کہ ’افغانستان کی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی اور ہم اب بھی اس عزم پر قائم ہیں۔ ہماری خارجہ پالیسی باہمی احترام پر مبنی ہے، اور ہم کسی کے ساتھ نقصان یا دشمنی کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتے۔‘
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اندرونی تنازع سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے اوریہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔
اُن کے بقول تقریباً 20 برس سے پاکستان میں ٹی ٹی پی اور اور پاکستانی فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ سنہ 2007 میں ٹی ٹی پی نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں اپنی موجودگی کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد پاکستان نے وہاں کئی فوجی آپریشن کیے، جن میں سے نمایاں آپریشن ضرب عضب تھا جو سنہ 2014 میں شروع ہوا تھا۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ طالبان تقریباً چار سال سے افغانستان میں برسراقتدار ہیں، اس لیے پاکستان کے لیے اب اپنے پرانے اور گھریلو مسائل کو افغانستان پر تھوپنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

،تصویر کا ذریعہAPP
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے جمعے کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان سے جھڑپوں میں اب تک 12 پاکستانی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں، 27 زخمی ہیں جبکہ ایک سپاہی لاپتہ ہے۔
فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستانی فوج کی فوری اور مؤثر کارروائی میں 274 افغان رجیم کے اہلکار مارے گئے اور 400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ افغان طالبان نے پاکستان میں 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائر کیے اور ریڈ کیے۔ یہ سب ایک عالمی سطح پر ’دہشتگرد تنظیم قرار دی گئی تنظیم‘ ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر کیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی میں افغانستان کی 73 پوسٹیں مکمل تباہ کی جا چکی ہیں۔ ترجمان کے مطابق ’18 پوسٹیں ہمارے قبضے میں ہیں جبکہ 115 ٹینک، بکتربند گاڑیاں تباہ کی جا چکی ہیں۔‘
بی بی سی آزادانہ طور پر ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
فوجی ترجمان نے کہا کہ پاکستانی افواج نے 21 اور 22 فروری کی شب کو ٹی ٹی پی کے خلاف ’افغانستان کے اندر ٹھکانوں کو بہت احتیاط سے نشانہ بنایا تھا، جسے بنیاد بنا کر پھر ’دہشتگرد تنظیموں کی ماسٹر کاپی‘ افغان طالبان نے ایک نام نہاد ایکشن لیا۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان نے ٹی ٹی پی کے خلاف جتنے بھی 22 مقامات پر حملے کیے وہاں کسی عام شہری کا نقصان نہیں ہوا۔ ترجمان کے مطابق کابل، قندھار اور پکتیکا پر کیے جانے والے حملوں میں کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ ’دہشتگردوں کی پناہ گاہیں اور اسلحہ ڈپو تباہ‘ کیے گئے۔
ایک سوال کے جواب میں فوجی ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم اور سول لیڈرشپ کے حکم کے مطابق یہ آپریشن جاری رہے گا اور ہم مطلوبہ اہداف حاصل کر رہے ہیں۔
پاکستانی فوج کے ترجمان نے ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا ہے کہ افغان رجیم کو پاکستان اور دہشتگرد گروہوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ترجمان نے کہا کہ ہمارا انتخاب بہت واضح ہے اور وہ ہے پاکستان، اس کی سکیورٹی اور عوام کا تحفظ اور ناموس ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں اور تصادم کوئی نئی بات نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے مابین گذشتہ برس بھی کئی روز تک لڑائی رہی تھی جسے دوست ممالک کی مداخلت کے بعد روک دیا گیا تھا۔
گذشتہ برس اکتوبر میں دونوں ممالک نے جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ لیکن اس کے باوجود حالیہ عرصے میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں پر اسلام آباد نے اس کے تانے بانے افغانستان سے ملنے کا الزام عائد کیا تھا۔
جمعرات کی شب شروع ہونے والے نئے تنازع کے دوران فریقین نے ایک دوسرے کو بھاری جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اب افغان طالبان حکومت کے خلاف ’کھلی جنگ‘ ہو گی۔
دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کی تاریخی جڑیں کیا ہیں اور نئے سرے سے لڑائی کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں؟
ایک پیچیدہ تاریخ
سنہ 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا سے کابل میں سابق حکومت تواتر کے ساتھ پاکستان پر یہ الزام عائد کرتی تھی کہ وہ افغان فورسز کے خلاف کارروائیوں کے لیے افغان طالبان کی مدد کرتا ہے۔
پاکستان نے اُس وقت افغان طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعلق کو مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔
پاکستان نے 2020 میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان طے پانے والے دوحہ معاہدے میں بھی سہولت کار کا کردار ادا کیا تھا۔ اس کے بعد افغانستان سے امریکہ کے انخلا کی راہ ہموار ہوئی تھی۔
پاکستان اُن چند ممالک میں سے بھی ایک تھا، جنھوں نے 1996 اور 2001 کے درمیان افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے دوران اس حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔
لیکن دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی نے یہ طاہر کیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات انتہائی نازک ہیں۔
پاکستان کا الزام ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان پر حملے کرتی ہے اور افغان طالبان اُنھیں روکنے کے لیے کچھ نہیں کر رہے۔
سابق پاکستانی سفارت کار مسعود خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ’افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو اُمید تھی کہ ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کو ماضی کی طرح افغان طالبان کی حمایت حاصل نہیں ہو گی اور سرحد پر حالات بہتر ہوں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘
صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان طالبان روایتی حکومت نہیں ہے۔ وہ ایک ایسے گروہ کے طور پر اقتدار میں آئے ہیں جو تاریخی طور پر ٹی ٹی پی سے جڑے ہوئے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے یہ توقع کرنا کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کو افغانستان سے ختم کر دیں گے یا نکال دیں گے، تو یہ ایک غیر حقیقی توقع ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گذشتہ سال اکتوبر میں افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے نئی دہلی کا دورہ کرتے ہوئے پاکستان کے حریف انڈیا کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کیے تھے۔
گذشتہ سال اکتوبر میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے افغانستان پر ’دہلی کے لیے پراکسی جنگ لڑنے‘ کا الزام لگایا تھا۔
انڈیا نے افغانستان کے اندر کسی بھی پاکستان مخالف عناصر کی حمایت سے مسلسل انکار کیا ہے۔ لیکن سمیع یوسفزئی کہتے ہیں کہ انڈیا اور افغانستان کے مابین گرمجوشی ایک طرح سے پاکستان کی ’علامتی شکست‘ تھی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ انڈیا خطے میں سرمایہ کاری کے لیے کوشاں ہے جبکہ طالبان خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات قائم کرکے اپنی تنہائی ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان کی افغانستان کے ساتھ 2600 کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ اسے ڈیورنڈ لائن کے نام سے بھی جانا جاتا ہے اور اس کا تعین 1893 میں برٹش راج کے دوران کیا گیا تھا۔
افغانستان اور سرحد کے دونوں اطراف بسنے والے لاکھوں پشتون ڈیورنڈ لائن کو متنازع سمجھے جاتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا اس سے بھی تعلق ہے۔
پاکستان ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد قرار دیتا ہے جبکہ افغان طالبان پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کچھ علاقوں کو افغانستان میں ضم کرنے کی بات کرتے ہیں۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی ایک وجہ ڈیورنڈ لائن سے جڑا تنازع بھی ہے۔