یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جارہا۔ 26 نومبر کی خبروں کے لیے یہاں کلک کریں:
انڈین وزیرِ اعظم کا اسرائیلی پارلیمان سے خطاب: نریندر مودی کی غزہ امن عمل کی حمایت، ہولوکاسٹ تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار
انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے غزہ امن منصوبے کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے نہ صرف خطے میں امن قائم کرنے بلکہ مسئلہ فلسطین بھی حل کرنے میں مدد ملے گی۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ نریندر مودی ’صرف ایک دوست نہیں، بلکہ بھائی ہیں۔‘
خلاصہ
- انڈین وزیرِ اعظم کا اسرائیلی پارلیمان سے خطاب: نریندر مودی کی غزہ امن منصوبے کی حمایت، ہولوکاسٹ تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار
- انچسٹر کی مسجد میں دورانِ تراویح 'کلہاڑی کے ساتھ داخل ہونے والا' شخص گرفتار، برطانوی وزیر اعظم کا اظہار تشویش
- امید ہے مذاکرات کے نتیجے میں واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے میں مدد ملے گی: ایرانی صدر
- لاہور میں بسنت کے دوران 17 افراد ہلاک ہوئے: محکمہ داخلہ پنجاب
لائیو کوریج
انڈین وزیرِ اعظم کا اسرائیلی پارلیمان سے خطاب: نریندر مودی کی غزہ امن منصوبے کی حمایت، ہولوکاسٹ تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار

،تصویر کا ذریعہReuters
انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے غزہ امن منصوبے کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ اس سے نہ صرف خطے میں امن قائم کرنے میں مدد ملے گی بلکہ مسئلہ فلسطین بھی حل ہو گا۔
انڈین وزیرِ اعظم جو کہ دو روزہ دورے پر بدھ کے روز یروشلم پہنچے ہیں اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) سے خطاب کرنے والے پہلے انڈین رہنما ہیں۔
بی بی سی ہندی کے مطابق، اپنی تقریر کے دوران، نریندر مودی نے حماس کے سات اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ’انڈیا اس وحشیانہ دہشت گردانہ حملے میں تمام جانوں کے ضیاع پر سوگوار ہے اور متاثرہ افراد کے غم میں برابر کا شریک ہے۔‘
انڈین وزیر اعظم نے کہا کہ ’شہریوں کے قتل کو کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ انڈیا اسے سمجھ سkتا ہے کیوں کہ ’ممبئی حملے میں اسرائیلی شہری سمیت ہمارے بے گناہ شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔‘
اسرائیلی پارلیمان سے تقریر کرتے ہوئے انھوں نے ہولوکاسٹ کو دنیا کی تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیا۔
انڈیا اور اسرائیل کی ہزاروں سال پرانی تہذیبوں کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ انڈیا کی عوام اسرائیل کی کامیابیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
اسرائیل کے ساتھ اپنے خصوصی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے نریندر مودی کا کہنا تھا کہ وہ 17 ستمبر 1950 کو پیدا ہوئے تھے، یہ وہی دن ہے جب انڈیا نے اسرائیل کو تسلیم کیا تھا۔
’صرف دوست نہیں، بھائی ہیں‘
اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کنیسٹ میں وزیر اعظم مودی کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے عزیز دوست، مجھے آج آپ کے یہاں آنے سے بہت خوشی ہوئی ہے۔‘
انھوں نے نریندر مودی کو اسرائیل کا ایک قریبی دوست، انڈیا-اسرائیل شراکت داری کا عظیم حامی، اور عالمی سطح پر ایک عظیم رہنما قرار دیا۔
’میں یہ کہنے کی جسارت کرتا ہوں کہ آپ نہ صرف ایک دوست ہیں، بلکہ ایک بھائی ہیں۔‘
اسرائیلی وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کے پچھلے دورے سے اب تک انڈیا اور اسرائیل کے درمیان تجارت دوگنی جبکہ باہمی تعاون تین گنا بڑھ چکا ہے۔
انڈین وزیرِ اعظم کے دورے کے موقع پر اسرائیلی پارلیمان کو انڈیا کے پرچم کے رنگوں سے سجایا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
حکومت ٹیکسوں میں کمی لانے پر غور کر رہی ہے: وزیراعظم شہباز شریف, سارہ حسن، صحافی

،تصویر کا ذریعہPM Office
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے بروقت اور جامع اقتصادی اصلاحات ناگزیر ہیں جس کے لیے وفاق، صوبوں اور تمام ریاستی اداروں کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کرنا ہو گا۔
اسلام آباد میں پاکستان گورننس فورم سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں نافذ ٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات حکومت کی ترجیح ہے۔
انھوں نے کہا کہ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں براہِ راست (ڈائریکٹ) ٹیکسوں میں کمی پر غور کر رہی ہے تاکہ کاروباری برادری کو ریلیف ملے جبکہ بالواسطہ ٹیکسوں کی مکمل وصولی یقینی بنائی جائے گی۔
انھوں نے کہا کہ اگرچہ جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی کی شرح میں بہتری آئی ہے مگر آمدن بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دو برس قبل ملک شدید مالی دباؤ کا شکار تھا، تاہم اجتماعی کاوشوں سے میکرو اکنامک استحکام کا حصول ممکن ہوا ہے اور مہنگائی کی شرح اور شرح سود میں کمی ہوئی ہے۔
انھوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں برآمدات خاص کر آئی ٹی کے شعبے میں اضافے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی، زراعت، معدنیات، لائیو سٹاک اور ڈیری فارمنگ جیسے شعبوں میں بے پناہ ترقی کے مواقع موجود ہیں، جن سے مستفید ہو کر معاشی شرح نمو تیز کی جا سکتی ہے۔
توانائی کے شعبے پر بات کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دو سال میں بجلی کی قیمت میں 8 سے 9 روپے فی یونٹ کمی کی گئی ہے، تاہم 200 ارب روپے سالانہ بجلی چوری ایک بڑا چیلنج ہے جس پر قابو پانا ضروری ہے۔
انھوں نے کہا کہ شفافیت اور کارکردگی بڑھانے کے لیے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن اور پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ جیسے بعض سرکاری اداروں کو ختم کیا گیا تاکہ قومی خزانے پر بوجھ کم کیا جا سکے۔
امید ہے مذاکرات کے نتیجے میں واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے میں مدد ملے گی: ایرانی صدر

،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ ایران امریکہ مذاکرات کے تیسرے دور کے نتیجے میں واشنگٹن کے ساتھ کشیدگی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
بی بی سی عربی کے مطابق، ایرانی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ انھیں مذاکرات سے اچھی امیدیں ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایرانی حکومت رہبرِ اعلیٰ کی رہنمائی میں اس راہ پر چل رہی ہے تاکہ اس کشمکش کی صورتحال سے نکلا جا سکے۔
ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی مذاکرات میں شرکت کے لیے جنیوا روانہ ہو گئے ہیں۔
عمان کے زیر قیادت ثالثی کی کوششوں میں ہو رہے مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات سے شروع ہو رہا ہے۔ مذاکرات کا پہلا دور 6 فروری کو مسقط میں اور دوسرا 17 فروری کو جینیوا میں ہوا تھا۔
مانچسٹر کی مسجد میں دورانِ تراویح ’کلہاڑی کے ساتھ داخل ہونے والا‘ شخص گرفتار، برطانوی وزیر اعظم کا اظہار تشویش

،تصویر کا ذریعہRichard Stead/BBC
برطانیہ کے شہر مانچسٹر کی ایک مسجد میں نمازِ تراویح کے دوران چاقو اور کلہاڑی لے کر داخل ہونے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دوسرے مشتبہ شخص کی تلاش جاری ہے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
منگل کے روز مقامی وقت کے مطابق تقریباً رات آٹھ بج کر 40 منٹ پر پولیس کو وکٹوریہ پارک، رشولم میں اپر پارک روڈ پر واقع مانچسٹر سینٹرل مسجد میں دو آدمی مشکوک افراد کی موجود کی اطلاع دی گئی تھی۔
گریٹر مانچسٹر پولیس کا کہنا ہے کہ 40 سال سے زائد عمر کے ایک شخص کو جارحانہ ہتھیار اور کلاس بی منشیات رکھنے کے شبہ میں گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ پولیس دوسرے شخص کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
مانچسٹر سے رکن اسمبلی افضل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ انتہائی دائیں بازو کے سیاستدانوں کا مسلمانوں کو قربانی کا بکرا بنانے کا نتیجہ ہے۔ ’یہ سیدھا سیدھا اسلامو فوبیا ہے۔‘
افضل خان کا کہنا ہے کہ وہ پولیس اور مسجد کی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم اور وزیر اعظم سر کیئر سٹارمر کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
واقعے کے متعلق مسجد انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جیکٹ پہنے ہوئے ایک سفید فام شخص ایک بڑا بیگ اٹھائے اس وقت مسجد میں داخل ہوا جب نمازی تراویح کی نماز ادا کر رہے تھے۔ مشتبہ شخص کے ہمراہ ایک سیاہ فام آدمی بھی تھا۔
مسجد کے رضاکاروں کو سفید آدمی کے بیگ کے اندر کلہاڑی دکھائی دی جس کے بعد وہ اسے ایک علیحدہ کمرے میں لے گئے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس کے بیگ سے چاقو اور ہتھوڑے سمیت دیگر ہتھیار بھی برآمد ہوئے۔ اس وقت مسجد میں تقریباً 2000 نمازی موجود تھے۔
سپرنٹنڈنٹ سائمن نسیم کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی دھمکی دی گئی۔
اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل جان ویبسٹر کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص نے مبینہ طور پر دعویٰ کیا تھا کہ وہ عمارت پر کام کرنے کے لیے مسجد میں موجود تھا، لیکن مسجد کے عملے کو اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔
’انھوں نے بجا طور پر اپنے شک کا اظہار کیا اور پولیس کو بلایا۔‘
’تاہم، ہم اس مشکوک رویے کی وجہ سے انھیں لاحق اس تشویش کو سمجھتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہHandout
پولیس کا کہنا ہے کہ دوسرے شخص کی تلاش کے لیے سی سی ٹی وی اور باڈی کیم فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں۔
پولیس کا مزید کہنا ہے کہ وہ کاؤنٹر ٹیررازم پولیسنگ نارتھ ویسٹ کے افسران کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں تاہم انھوں نے تاحال اس واقعے کو دہشتگردی قرار نہیں دیا ہے جس پر مسجد انتظامیہ کی جانب سے سوال اٹھایا جا رہا ہے۔
مسجد کے ترجمان حماد خان کا کہنا ہے کہ وہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ پولیس اس واقعے کو دہشت گردی کیوں نہیں قرار دے رہی ہے۔
’دو افراد ایک بیگ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے جس میں کئی ہتھیار تھے - ایک کلہاڑی، ایک ہتھوڑا اور متعدد چاقو۔
’آپ کو پوچھنا ہوگا کہ ان کا مقصد کیا تھا؟ میں سمجھ نہیں سکتا کہ اس کو دہشت گردی کے واقعے کے طور پر کیوں لیا جا رہا ہے۔‘
برطانوی وزیرِ اعظم کا مانچسٹر واقعے پراظہارِ تشویش
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پیغام میں برطانوی وزیر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کے متعلق سن کر انھیں ’تشویش‘ ہوئی ہے۔
’میں جانتا ہوں کہ ایسے واقعے کا رمضان کے دوران ہونا، جو امن اور غور و فکر کا وقت ہے، مسلم برآبادی کے لیے پریشانی کا باعث ہو گا۔‘
لاہور میں بسنت کے دوران 17 افراد ہلاک ہوئے: محکمہ داخلہ پنجاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پنجاب کے محکمہ داخلہ نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا ہے کہ رواں مہینے تین روزہ بسنت کے دوران صوبائی دارالحکومت میں 17 اموات سامنے آئی تھیں۔
لاہور ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شہر میں بسنت کےدوران کرنٹ لگنے سے تین، درخت سے گرنے سے دو اور چھتوں سے گِر کر 12 افراد ہلاک ہوئے۔
واضح رہے لاہور میں اس چھ، سات اور آٹھ فروری کو بسنت منائی گئی تھی۔
علاقائی تنازع میں اردن کی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دیں گے: شاہ عبداللہ دوم, بی بی سی مانیٹرنگ

،تصویر کا ذریعہPetra
اردن کے شاہ عبداللہ دوم کا کہنا ہے کہ ان کا ملک کسی علاقائی تنازع میں اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی یا استعمال کی اجازت نہیں دے گا۔
اردن کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق عمان میں پریس ایسوسی ایشن کونسل کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ عبداللہ دوم کا کہنا تھا کہ ’عمان اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دے گا اور نہ ہی اسے جنگ میں استعمال ہونا دیا جائے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اردن کے شہریوں کا تحفظ ان کی اوّلین ترجیح ہے۔
بی بی سی مانیٹرنگ کے مطابق شاہ عبداللہ دوم نے مزید کہا کہ کشیدگی بڑھنے سے روکنے کے لیے مذاکرات اور سیاسی حل کا ہی استعمال کرنا پڑے گا۔
خیال رہے اس سے قبل اردن کی حکومت نے کہا تھا کہ اس نے ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے لیے اسرائیل کو اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت نہیں دی تھی۔
خیبر پختونخوا میں افغان شہری سمیت 26 اور بلوچستان میں آٹھ شدت پسند مارے گئے: پاکستانی فوج

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی فوجی کا کہنا ہے کہ اس نے منگل کو چار مختلف کارروائیوں میں خیبر پختونخوا میں 26 جبکہ بلوچستان کے علاقے سمبازا میں ایک کارروائی کے دوران آٹھ شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔
بدھ کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجی اہلکاروں نے شمالی وزیرستان میں پاک افغان سرحد سے ملک میں داخل ہونے والے شدت پسندوں کے گروہ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک شدت پسند ہلاک ہوا۔
پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والا شخص افغان شہری تھا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں لکی مروت میں تین، بنوں میں 10 اور شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں 12 شدت پسند ہلاک ہوئے۔
پاکستانی فوج کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سمبازا میں بھی ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں 10 شدت پسندوں کو ہلاک کیا ہے۔
کیا مودی کا دورہ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں انڈیا کی ترجیحات کا امتحان ہے؟, نیکیتا یادو اور ابھیشک دے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈین وزیرِاعظم نریندر مودی دو روزہ دورے پر اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔ غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ اُن کا اسرائیل کا پہلا دورہ ہے۔
اس دورے کے دوران مودی اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کریں گے اور وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیلی صدر سے ملاقات کریں گے۔ اُن کے شیڈول میں فلسطینی قیادت سے کوئی ملاقات شامل نہیں ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک دفاع، ٹیکنالوجی اور تجارت کے شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔ یہ تعلقات مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد گذشتہ ایک دہائی میں نمایاں طور پر بڑھے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ انڈیا کی خارجہ پالیسی کا امتحان بھی ہو گا کیونکہ نئی دہلی کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے ساتھ ساتھ مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی تعلقات میں توازن قائم رکھنا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے مودی کے دورے کو ’تاریخی‘ قرار دیا ہے۔
انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ’اسرائیل اور انڈیا کے درمیان تعلق ایک طاقتور اتحاد ہے۔ ہم جدت، سلامتی اور مشترکہ سٹریٹجک وژن کے شراکت دار ہیں۔ ہم مل کر ان ممالک کا محور بنا رہے ہیں جو استحکام اور ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔‘
مودی نے بھی جواب میں کہا کہ انڈیا ’اسرائیل کے ساتھ دیرپا دوستی کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، جو اعتماد، جدت اور امن و ترقی کے مشترکہ عزم پر قائم ہے۔‘
بین الاقوامی امور کے ماہر ہرش وی پنت کہتے ہیں کہ ’انڈیا یہ دکھانا چاہتا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنی شراکت داری کے لیے پُرعزم ہے، لیکن ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں اپنی ترجیحات کا توازن قائم رکھنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔‘
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مودی کے دورے کا اصل فوکس دوطرفہ تعلقات پر ہو گا جبکہ خطے میں موجودہ کشیدگی پر بات چیت ممکنہ طور پر بند دروازوں کے پیچھے ہی ہو گی۔ یہ توقعات کے مطابق ہے کیونکہ نئی دہلی ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی دیگر ممالک کے ساتھ بھی مضبوط تعلقات رکھتا ہے۔
آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے مشرقِ وسطیٰ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کبیر تنجا کہتے ہیں کہ ’انڈیا نے سنہ 1988 میں فلسطین کے ساتھ تعلقات قائم کیے تھے۔ سیاسی طور پر جو کچھ کیا جا سکتا تھا، وہ بڑی حد تک ہو چکا ہے۔ انڈیا کی دیرینہ پالیسی کے مطابق، علاقائی تنازعات کا حل خود خطے کو تلاش کرنا چاہیے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’جس طرح انڈیا اپنے معاملات میں بیرونی مداخلت کی توقع نہیں کرتا، اسی اصول کو وہ مشرقِ وسطیٰ پر بھی لاگو کرتا ہے۔‘
تنقید کے باوجود، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دورہ انڈیا کی طویل مدتی سٹریٹجک سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ تنجا کے مطابق مودی کا دورہ ’زیادہ تر دوطرفہ ضروریات سے متاثر ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’انڈیا کی مقامی دفاعی ٹیکنالوجی کئی شعبوں میں اب بھی پیچھے ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب جنگیں زیادہ خودکار اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہو رہی ہیں۔ پاکستان اور چین کے ساتھ کشیدگی کے پیش نظر انڈیا کے پاس یہ رعایت موجود نہیں کہ وہ بہترین ٹیکنالوجی حاصل نہ کرے، اور اسرائیل اس ضرورت کو بخوبی پورا کر سکتا ہے۔‘
تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی استحکام انڈیا کے وسیع تر مفادات کے لیے ’انتہائی اہم‘ ہے، جن میں رابطے اور توانائی کی سلامتی شامل ہیں۔
مودی اگرچہ انڈیا، اسرائیل تعلقات کی تعریف کریں گے، لیکن وہ اس بات کا بھی خیال رکھیں گے کہ انڈیا کے ان دیرینہ تعلقات کو نقصان نہ پہنچے جو مشرقِ وسطیٰ کے ان ممالک کے ساتھ ہیں جو اسرائیل کے ناقد ہیں۔
افغانستان کرکٹ ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ پائبز کون ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان کرکٹ بورڈ نے رچرڈ پائبز کو ٹیم کا نیا کوچ مقرر کر دیا ہے۔
کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ رچرڈ پائبز افغانستان کے دورہ سری لنکا سے قبل ٹیم کو جوائن کریں گے۔
خیال رہے ان کی تقرری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گذشتہ ہفتے جوناتھن ٹروٹ کی بطور کوچ مدت ختم ہوئی تھی۔
رچرڈ پائبز کون ہیں؟
ریچرڈ پائبز 1964 میں برطانیہ میں پیدا ہوئے تھے اور وہ ایک بین الاقوامی شہرت یافتہ معروف ٹرینر ہیں، جنھوں نے اپنے کوچنگ کیریئر میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
پائبز نے بطور کھلاڑی 1986 میں سفوک کی جانب سے صرف ایک لسٹ اے میچ کھیلا تھا، تاہم بعد میں وہ انجری کی وجہ سے بطور کھلاڑی کرکٹ نہیں کھیل سکے۔
لیکن وہ اس سے قبل کوچ کے طور پر کئی عہدوں پر کام کر چکے ہیں۔
انھوں نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ کم عمری میں ایک کار حادثے کے بعد بھی دورانِ کھیل کئی مرتبہ زخمی ہوئے، جس کے باعث انھیں مجبوراً کھیل چھوڑ کر کوچنگ کی تعلیم حاصل کرنا پڑی۔
رچرڈ پائبز ماضی میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے کوچ بھی رہ چکے ہیں۔
انھوں نے سنہ 2013 سے 2019 تک چھ سالوں کے دوران ویسٹ انڈیز کرکٹ کے لیے ڈائریکٹر آف کرکٹ، ہیڈ آف کیپیسٹی ڈیولپمنٹ اور ہیڈ کوچ کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔
رچرڈ پائبز نے جنوبی افریقی ڈومیسٹک اور کمرشل مقابلوں میں نو چیمپیئن شپ جیت کر ایک ریکارڈ قائم کیا ہے اور وہ دو مرتبہ ساؤتھ افریقن کوچ آف دی ایئر کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں۔
افغانستان کرکٹ بورڈ کے مطابق پائبز نے انفرادی کھلاڑیوں کی تربیت پر بھی کام کیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر متعدد کھلاڑیوں کی ترقی میں بھی ان کا اہم کردار رہا ہے۔
وزیرِاعظم نریندر مودی نے اسرائیل کے حوالے سے انڈیا میں دہائیوں سے رائج سفارتی روایات کیوں توڑیں؟, رجنیش کمار، بی بی سی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر انڈیا کی خارجہ پالیسی کی بات کی جائے تو وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کے حوالے سے بہت سے سابقہ روایات کو توڑنے کا ثبوت دیا ہے۔ انڈیا کی تاریخ میں کسی بھی وزیرِاعظم نے اسرائیل کے ساتھ اپنی اتنی کُھلی وابستگی ظاہر نہیں کی، جتنی وزیر اعظم مودی نے کی ہے۔
17 ستمبر 1950 کو انڈیا نے اسرائیل کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا تھا لیکن اس کے باوجود سنہ 2017 تک کسی بھی انڈین وزیرِاعظم نے اسرائیل کا دورہ نہیں کیا۔
جولائی 2017 میں، یعنی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے تقریباً 76 برس بعد، نریندر مودی پہلے وزیرِاعظم بنے جنھوں نے اسرائیل کا دورہ کیا اور اس طرح انھوں نے ایک دہائیوں پرانی خارجہ پالیسی سے متعلق روایت کا خاتمہ کیا۔
مودی نے سنہ 2017 میں اسرائیل کا دورہ کرتے ہوئے انڈیا کی سابقہ سفارتی روایت کو نظرانداز کیا اور فلسطینی اتھارٹی کو مکمل طور پر نظرانداز کیا۔ اس دورے میں نہ تو فلسطین کی حمایت کا کوئی ذکر ہوا اور نہ ہی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی بات کی گئی، جو پہلے ہر انڈین وزیر اعظم کی خارجہ پالیسی کا لازمی حصہ ہوا کرتی تھی۔
انڈیا اور اسرائیل دونوں جدید ریاستوں کے طور پر دوسری عالمی جنگ کے بعد برطانوی سلطنت کے زوال کے دوران وجود میں آئے۔ تاہم انڈیا نے بوجوہ ابتدا میں اسرائیل سے فاصلہ رکھا۔
یاد رہے کہ انڈیا نے اسرائیل کے قیام کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ انڈیا کی جانب سے اسرائیل کو سنہ 1950 میں تسلیم کر لیا گیا تھا لیکن سنہ 1992 میں پی وی نرسمہا راؤ نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر کے اسرائیل کی عالمی تنہائی کو ختم کرنے میں مدد کی۔
اس کے بعد طویل خاموشی رہی اور سنہ2014 میں انڈیا کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی آئی، جب پہلی بار کسی ایک جماعت (بی جے پی) نے انتخابات کے نتیجے میں واضح اکثریت حاصل کی۔
اس کے نتیجے میں نریندر مودی کو اسرائیل کے حوالے سے آزادانہ فیصلے کرنے کا موقع ملا اور اب وہ اس آزادی کو استعمال کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
مودی کا اسرائیل کا دوسرا دورہ آٹھ برس بعد ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران پر امریکی حملے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی خطے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے جبکہ سعودی عرب اور پاکستان نے چند ماہ بعد تاریخی دفاعی معاہدہ کیا ہے۔
اس پس منظر میں مودی کا اسرائیل کا حالیہ دورہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی کے دورے کو وسیع تر خطے کے واقعات سے جوڑنا درست نہیں بلکہ یہ ایک دوطرفہ تعلقات پر مبنی اقدام ہے۔ تاہم یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ مودی کے ادوار میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں نمایاں قربت آئی ہے۔
دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے سینٹر فار ویسٹ ایشین سٹڈیز سے منسلک ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد مدثر قمر کہتے ہیں کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت بہت کچھ ہو رہا ہے، جہاں اسرائیل کئی پہلوؤں سے تنہا نظر آتا ہے۔ بظاہر دیکھنے میں وزیرِاعظم مودی کا دورہ وقت کے اعتبار سے مختلف ہونا چاہیے تھا، لیکن میری رائے میں یہ دورہ مکمل طور پر دوطرفہ ہے اور اسے دیگر واقعات سے جوڑنا مناسب نہیں ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے اسرائیل کے ساتھ قربت میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ اسی دورانیے میں خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے۔ انڈیا کو اپنی سلامتی سے متعلق خدشات لاحق ہیں اور اسرائیل اس کے ایک اہم شراکت دار کے طور پر اُبھر کر سامنے آیا ہے۔‘
انڈیا کی اسرائیل کے حوالے سے اصل مشکل عرب دنیا رہی ہے لیکن سنہ 1978 کے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے بعد جب کچھ عرب ممالک نے اسرائیل سے تعلقات قائم کیے تو انڈیا کی پالیسی بھی بدلنے لگی۔
سنہ 1992 میں انڈیا نے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کیے، جس کے بعد دفاع، زراعت اور انسدادِ دہشت گردی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون تیزی سے بڑھا۔
امریکی میڈیا نے سنہ 2017 میں لکھا کہ انڈیا نے ہمیشہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو کم نمایاں رکھا تاکہ ملک میں بسنے والے 17 کروڑ مسلمانوں کو ناراض نہ ہو جائیں۔ لیکن مودی، جو ایک ہندو قوم پرست رہنما ہیں، اس معاملے میں زیادہ فکر مند نہیں دکھائی دیتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا اور اسرائیل کے درمیان قربت کی ایک بڑی وجہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ خدشات اور جدید ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔ اسرائیل اسلحہ فروخت کرنے پر آمادہ ہے اور انڈیا اسے خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اس طرح دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تجارت نے تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔
ابتدائی دہائیوں میں انڈیا کے بائیں بازو کے رہنما اسرائیل کے لیے نرم گوشہ نہیں رکھتے تھے۔ نہرو نے سنہ 1917 کے بالفور اعلامیے کی مخالفت کی تھی جس میں برطانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کے لیے علیحدہ وطن کی راہ ہموار کی تھی۔ لیکن وقت کے ساتھ انڈیا کی پالیسی بین الاقوامی عوامل اور داخلی سیاست کے تحت بدلتی رہی۔
انڈیا کے وزیرِ اعظم دو روزہ دورے پر اسرائیل پہنچ گئے

،تصویر کا ذریعہ@Narendramodi/X
انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی دو روزہ سرکاری دورے پر اسرائیل پہنچ گئے ہیں، جہاں وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ نے ان کا استقبال کیا۔

،تصویر کا ذریعہ@Narendramodi/X
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم مودی کا کہنا تھا کہ ’میں دوطرفہ بات چیت اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والے مفید نتائج کا منتظر ہوں، جو انڈیا اور اسرائیل دوستی کو مزید مضبوط بنائیں گے۔‘
بلوچستان میں پُرتشدد واقعات میں تین سکیورٹی اہلکاروں سمیت نو افراد ہلاک: حکام

،تصویر کا ذریعہAsad Baloch
بلوچستان کے دو اضلاع میں تشدد کے دو مختلف واقعات میں تین سیکورٹی اہلکاروں سمیت کم ازکم نو افراد ہلاک اور چار افراد زخمی ہوگئے ہیں۔
ہلاک ہونے والوں میں چھ عام شہری بھی شامل ہیں، جن کو ایران سے متصل سرحدی ضلع کیچ میں نشانہ بنایا گیا۔
بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں دونوں واقعات کی مذمت کی گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔
سکیورٹی اہلکاروں کو کہاں نشانہ بنایا گیا؟
سیکورٹی اہلکاروں کو افغانستان سے ملحقہ سرحدی شہر چمن کے قریب نشانہ بنایا گیا۔
کوئٹہ ڈویژن میں انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک سینیئر اہلکار نے چمن کے قریب سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اہلکار روغانی روڈ سے ایک گاڑی میں گزر رہے تھے جب نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔
سینیئر اہلکار کے مطابق حملے میں تین اہلکار مارے گئے جبکہ ایک زخمی ہوگیا۔
ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی لاشوں اور زخمی اہلکار کو طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
انتظامیہ کے اہلکار کا کہنا تھا کہ حملے کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہوسکے ہیں، جبکہ واقعے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAsad Baloch
چمن میں اس واقعے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے، تاہم ماضی میں اس نوعیت کے حملوں کی ذمہ داری کالعدم مذہبی عسکریت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں۔
عام شہریوں کی ہلاکت
چھ افراد کی ہلاکت کا واقعہ ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میں پیش آیا۔
تربت میں پولیس کے ایک اہلکار ظہیر احمد نے بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک گھر کو نشانہ بنایا ہے۔
مکران ڈویژن میں انتظامیہ کے ایک اور سینیئر اہلکار نے نام نہ ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس علاقے میں نامعلوم افراد نے عبدالحمید نامی شخص کے گھر کو بھاری اسلحہ سے نشانہ بنانے کے علاوہ بھی فائرنگ کی ہے۔
اہلکار کا کہنا تھا کہ اس حملے میں ایک خاتون سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے، جبکہ تین افراد زخمی ہوگئے۔
اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔
اس حملے کے حوالے سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں بعض لاشیں جلی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں، جبکہ ایک لاش کے پاس جلا ہوا اسلحہ بھی دکھائی دیتا ہے۔
ویڈیوز میں گھر کے صحن کے بھی بعض حصے جلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
بی بی سی آزاد ذرائع سے ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کرسکا ہے۔
انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ واقعے کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں، تاہم انھوں نے ابتدائی شواہد کے حوالے سے اسے ٹارگٹڈ کلنگ کا واقعہ قرار دیا ہے۔
مہناز ضلع کیچ کے ہیڈ کوارٹر تربت سے ایران کے سرحد کی جانب 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس علاقے میں طویل عرصے سے کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیمیں سرگرم عمل ہیں۔
ان واقعات کی بازگشت منگل کو بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں سنائی دی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، سپیکر عبدالخالق اچکزئی اور سینیئر وزیر میر ظہور بلیدی کے علاوہ دیگر اراکین نے ان واقعات کی مذمت کی۔
عدالت نے پی ٹی آئی کارکن حیدر سعید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا

،تصویر کا ذریعہHaider Saeed/Facebook
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے کارکن حیدر سعید کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
این سی سی آئی اے نے عدالت سے حیدر سعید کا آٹھ روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا تھا، تاہم جوڈیشل مجسٹریٹ عباس شاہ نے اس استدعا کو مسترد کر دیا۔
حیدر سعید کیخلاف ایف آئی آر اگست 2025 میں دائر کی گئی تھی۔ یہ ایف آئی آر عمران خان کی رہائی اور احتجاج کے حوالے سے ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر درج کی گئی تھی۔
خیال رہے کہ یہ وہی حیدر سعید ہیں جنھوں نے گذشتہ روز ایکس پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو پمز ہسپتال سے لے واپس لے جایا جا رہا ہے۔
بی بی سی اردو اس ویڈیو کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا ہے۔
عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے: سپریم کورٹ میں درخواست دائر, شہزاد ملک، بی بی سی نیوز اردو

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک رُکن اسمبلی نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی آنکھ کی بیماری کے حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے رہنما کو اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔
پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی سردار لطیف کھوسہ نے اپنی درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کو ہسپتال منتقل کرکےماہر امراض چشم کے ذریعے ان کی آنکھ کا معائنہ کروایا جائے۔
اس درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور عاصم یوسف کو بھی عمران خان تک رسائی دی جائے۔
اس سے قبل عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کو عمران خان کی صحت کے بارے میں سخت تشویش لاحق ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پمز میں جن ڈاکٹروں نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا ہے وہ میڈیا پر آکر گفتگو کیوں نہیں کرتے اور عمران خان کی صحت کے بارے میں کیوں نہیں بتاتے؟
انھوں نے کہا کہ عمران خان کی صحت کے بارے میں فیصلہ کرنا پارٹی کا نہیں بلکہ ان کے خاندان کا اختیار ہے۔
علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ مستقبل میں عمران خان کی صحت کے معاملے کوئی بھی فیصلہ ان کے خاندان کی اجازت کے بغیر نہیں ہوگا۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ وہ پارٹی کے معاملات میں مداخلت نہیں کر رہیں بلکہ یہ ان کے بھائی کی صحت کا سوال ہے۔
سابق وزیرِ اعظم کی بہن کہتی ہیں کہ عمران خان کی صحت سے متعلق ان کی جماعت نے جو بھی فیصلہ کیا اسے عمران خان خاندان سے چھپایا گیا۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ انھیں وزیر داخلہ محسن نقوی کے ذریعے معلوم ہوا کہ بیرسٹر گوہر جیل جار ہے ہیں لیکن بیرسٹر گوہر نے انھیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا۔
انھوں نے کہا کہ وزیر داخلہ نے گفتگو کے دوران الزام عائد کیا کہ وہ ( علیمہ خان) عمران خان کے علاج میں رکاوٹ ہیں لیکن پارٹی کی جانب سے اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
چین کے ساتھ بڑھتی کشیدگی: جاپان نے تائیوان کے قریب جزیرے پر میزائل نصب کرنے کا اعلان کر دیا, شائمہ خلیل، بی بی سی نیوز ٹوکیو

،تصویر کا ذریعہFile photo: Getty Images
ایک ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے جاپان کے وزیرِ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ وہ مارچ 2031 تک تائیوان کے قریب واقع اپنے دور دراز مغربی جزیرے پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تعینات کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
یہ پہلی بار ہوا ہے کہ جاپان نے سنہ 2022 میں پہلے اعلان کے بعد یوناگونی جزیرے پر میزائل تعیناتی کے لیے کوئی واضح ٹائم لائن دی ہو۔
چین خود مختار تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے اور اس کے ساتھ ’دوبارہ اتحاد‘ کے لیے طاقت کے استعمال کے امکان کو رد نہیں کرتا۔
جزیرہ یوناگونی تائیوان کے ساحل سے صاف موسم میں نظر آتا ہے کیونکہ یہ اس سے صرف 110 کلومیٹر (68 میل) کے فاصلے پر واقع ہے۔
گذشتہ برس نومبر سے ٹوکیو اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی اس وقت سے عروج پر ہے جب جاپانی وزیرِ اعظم سانائے تاکائچی نے یہ اشارہ دیا تھا کہ تائیوان پر حملے کی صورت میں جاپان اپنی سیلف ڈیفنس فورس کو متحرک کر دے گا۔
جاپان کے وزیرِ دفاع شنجیرو کوئزومی نے منگل کے روز یوناگانی جزیرے پر میزائلوں کی تنصیب کی ٹائم لائن کا اعلان اس وقت کیا تھا جب چین نے قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے 20 جاپانی کمپنیوں اور اداروں پر برآمدی پابندیاں عائد کی تھیں۔
کوئزومی نے کہا کہ یوناگونی کو درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں سے لیس کیا جائے گا، جو آنے والے طیاروں اور میزائلوں کو روک سکیں گے۔
تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت کے ساتھ جاپانی ساختہ میزائل نظام بیک وقت 100 تک اہداف کا سراغ لگا سکتا ہے اور ایک ہی وقت میں 12 اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
چین نے ابھی تک کوئزومی کے اعلان پر ردِعمل نہیں دیا ہے۔ لیکن جب کوئزومی نے نومبر میں یوناگونی کا دورہ کیا تھا تو بیجنگ نے کہا تھا کہ جاپان ’علاقائی کشیدگی پیدا کرنے اور عسکری تصادم کو ہوا دینے‘ کی کوشش کر رہا ہے۔
اس پیش رفت کے چند ہی دنوں بعد چین نے اس جزیرے کے قریب ڈرونز کو متحرک کر کے اپنا غصہ ظاہر کیا تھا، جس کے جواب میں جاپان کو اپنے لڑاکا طیاروں کو متحرک کرنا پڑا تھا۔
گذشتہ دہائی کے دوران جاپان نے پُرسکون سمجھے جانے والے یوناگونی جزیرے کو ایک فوجی چیک پوسٹ میں میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں سے ساحلی علاقوں کی نگرانی کی جاتی ہے اور یہاں جاپان کی سیلف ڈیفنس فورس کے تقریباً 160 اہلکار تعینات ہیں۔
ایک الیکٹرانک وارفیئر یونٹ، جو دشمن کی مواصلاتی نظام اور ریڈار کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوگا، مالی سال 2026 میں وہاں قائم کیا جائے گا۔
جاپانی وزیرِ دفاع کوئزومی کا کہنا ہے کہ یوناگونی جزیرے پر میزائل یونٹ کی تعیناتی کا وقت تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔
ترکی میں ایف 16 طیارہ گرنے سے ترک فضائیہ کے پائلٹ ہلاک

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ترکی کے شہر بالیکسیر میں پیش آنے والے ایک حادثے میں ترک فضائیہ کے ایک پائلٹ میجر ابراہیم بولات ایف 16 لڑاکا طیارہ گرنے کے نتیجے میں جان کی بازی ہار گئے۔
یہ ایف 16 طیارہ ازمیر استنبول شاہراہ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔
وزارتِ دفاع کے مطابق طیارے سے رات 00:56 کے بعد ریڈیو رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
حادثے کے بعد طیارے کا ملبہ ازمیر استنبول ہائی وے پر بھی بکھر گیا، جس کے باعث شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔ شدید بارش کے باوجود ابتدائی گھنٹوں میں امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔ بالیکسیر کے گورنر اسماعیل اوستاؤغلو کے مطابق حادثہ ایک مشن فلائٹ کے دوران پیش آیا۔
ترک مسلح افواج گذشتہ تقریباً چار دہائیوں سے ایف-16 طیارے استعمال کر رہی ہیں۔ یہ طیارے 1987 میں ترک فضائیہ کے بیڑے میں شامل ہونا شروع ہوئے تھے اور اس وقت اندازاً 240 سے 250 کے درمیان لڑاکا طیارے فعال سروس میں موجود ہیں۔
ترکی میں پاکستان کے سفارتخانے نے اسے ایک المناک حادثہ قرار دیتے ہوئے پاکستانی عوام کی جانب سے سوگوار خاندان، ترک مسلح افواج اور ترک عوام سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
پاک انڈیا تنازع پر ٹرمپ: ’اگر میں مداخلت نہ کرتا تو تین کروڑ پچاس لاکھ لوگ مر چکے ہوتے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیٹ آف دی یونین سے خطاب میں ایک بار پھر پاک انڈیا کے مابین مئی کے تنازع پر بیان دیا ہے۔
امریکی پارلیمنٹ (کانگریس) سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑ جاتی، وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا کہ اگر میں مداخلت نہ کرتا تو تین کروڑ پچاس لاکھ لوگ مارے جاتے۔
اپنے خطاب کے دوران ٹرمپ نے دوسرے ممالک میں تنازعات کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ انھوں نے اپنے عہدے کے پہلے 10 مہینوں میں ’آٹھ جنگیں‘ ختم کیں۔
عمران خان سے ملاقات کی درخواست پر سماعت اور سہیل آفریدی کا چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے شکوہ

،تصویر کا ذریعہscreen grab
وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سے ملاقات نہیں ہوتی اس لیے انھوں نے آج اوپن کورٹ میں چیف جسٹس سے بات کرنے کی کوشش کی ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے شکوہ کیا کہ ’میں رمضان میں روزے کی حالت میں روسٹرم پر گیا اور چیف جسٹس کو سلام کیا مگر انھوں نے سلام کا جواب بھی نہیں دیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم دکھانا چاہتے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف احتجاجی یا انتشاری سیاست نہیں کرتی، ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ہم تمام آپشنز استعمال کرنے کے بعد پر امن احتجاج کرتے ہیں جو ہمارا حق ہے۔‘
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ’سوا گھنٹہ انتظار کرنے کے بعد چیف منسٹر کو سلام کا جواب تک نہیں دیا گیا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ شوکت خانم ہسپتال کے ڈاکٹرز سے طبی معائنہ کی درخواست جمع کرائی ہے لیکن درخواست ہی نہیں لگی۔
’اسلام آباد ہائی کورٹ ہمارے لیے بند دروازہ ہے، یہاں درخواستیں دائر کر سکتے ہیں لیکن سنوائی نہیں ہوتی‘: سلمان اکرم راجہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو
پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ ہمارے لیے ایک بند دروازہ ہے، یہاں ہم درخواستیں دائر کر سکتے ہیں لیکن اس پر سنوائی نہیں ہوتی۔‘
اسلام آباد ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ عمران خان تک ان کے معالجین کو اور فیملی کی رسائی کی کوششیں کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عدالت نے ہفتہ وار دو ملاقاتوں کا آرڈر کیا، ایک دن وکلا اور ایک دن فیملی سے ملاقات کا دن طے ہوا تھا۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے تو جیل سپریٹنڈنٹ کو ملاقات کرانے کا کہا گیا، ’ہم اسی روز گئے مگر ملاقات نہیں کرائی گئی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی لیکن وہ آج تک نہیں لگی، توہین عدالت کی پرانی درخواستیں لگائی گئیں اور انھیں یک جنبش قلم نمٹا دیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے اپنے ہی آرڈر کی حکم عدولی پر کوئی ایکشن نہیں لیا جس پر سپریم کورٹ جانا پڑا۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ طبی معائنے کے لیے بھی درخواستیں دائر کی گئیں لیکن درخواست پر سماعت نہیں ہو سکی۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ٹوئٹر کے حوالے سے عمران خان کے خلاف ایک کیس سماعت کے لیے مقرر ہے۔ اس کیس کے حوالے سے بھی عدالت نے سابق وزیر اعظم سے میری ملاقات کرنے کی ہدایات جاری کیں اور ’میں نے کہا کہ ملاقات کے بغیر عمران خان کی جانب سے جواب کیسے داخل کرایا جا سکتا ہے؟‘
ان کا کہنا تھا کہ تاہم ’میری ملاقات نہیں کرائی گئی مگر عدالت نے اس کیس میں کاروائی کو آگے بڑھایا۔‘ سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ ’عدالت کہہ رہی ہے کہ آپ ملاقات کے بغیر ہی جواب بھی داخل کریں اور بحث بھی کریں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ کسی بھی فریق کو اس کا موقف بیان کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے چیف منسٹر نے فیصلہ کیا کہ ساڑھے چار کروڑ عوام کے نمائندے کی حیثیت سے کورٹ میں کھڑے ہو کر پوچھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت میں کیسز ختم ہونے پر چیف منسٹر نے اپنی بات کرنے کی کوشش کی لیکن چیف جسٹس اٹھ کر چلے گئے۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم یہاں سے سپریم کورٹ بھی جائیں گے، عمران خان کا مقدمہ قوم اور عوام کو لڑنا پڑے گا۔‘
