لائیو, امریکہ کے ’20 سے زیادہ ایرانی بحری جہازوں‘ پر حملے، پڑوسی ممالک کے خلاف کارروائیوں کے بعد ایرانی صدر کا پیغام

امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے 20 سے زائد ایرانی جہازوں کو یا تو ڈبو دیا ہے یا انھیں نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ہمسایہ خلیجی ممالک سے کہا ہے کہ ایران کے پاس امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

خلاصہ

  • پینٹاگون پریس بریفنگ کے دوران امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے بتایا کہ بحرہند میں ایک ایرانی جنگی جہاز کو تارپیڈو کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تاہم اس جہاز کا نام نہیں بتایا گیا
  • دوسری جانب سری لنکا کی وزارت دفاع کے سیکرٹری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سری لنکا کے قریب ڈوبنے والے ایرانی جہاز پر سوار 80 افراد کی لاشیں مل گئی ہیں
  • ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی تین روزہ آخری رسومات ملتوی کر دی گئی ہیں اور اس حوالے سے کسی نئی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا
  • سعودی عرب کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی جانب سے دارالحکومت ریاض کے جنوب میں دو کروز میزائل ناکام بنا دیے گئے
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اُن کی جانب سے شروع کی جانے والی حالیہ کارروائی کے جواب میں اسرائیل پر حملے کر رہا ہے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اب ایران کے پاس بحریہ ہے نہ فضائیہ اور نہ ہی فضائی دفاعی نظام، تقریباً سب کچھ تباہ ہو گیا‘
  • ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ سنیچر سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں اب تک 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کی تنقید کے بعد سپین امریکی فوج کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ سپین نے اب امریکی فوج کے ساتھ تعاون پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

    ید رہے کہ سپین نے امریکہ کو ایران کے خلاف جاری حملوں کے لیے اپنا فوجی اڈہ استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعد گذشتہ صدر ٹرمپ نے سپین کے ساتھ تمام تجارت کو روکنے کی دھمکی دی تھی۔

    تاہم اب لیویٹ کا کہنا ہے کہ سپین کو ٹرمپ کا واضح پیغام پیغام مل چکا ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ امریکی صدر کو توقع ہے کہ تمام یورپی اتحادی اس آپریشن میں تعاون کریں گے۔

  2. ایرانی رہنماؤں کو امریکہ کے خلاف اپنے جرائم کی قیمت خون سے ادا کرنی پڑ رہی ہے: وائٹ ہاؤس

    کیرولین لیویٹ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران نے خود اس پرتشدد راستے کا انتخاب کیا ہے اور وہ اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔

    بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے واشنگٹن ڈی سی میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ایرانی رہنماؤں کو امریکہ کے خلاف اپنے ’جرائم کی قیمت خون سے ادا کرنی پڑ رہی ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ماضی کے امریکی صدور ایران کے خلاف بہت کمزور تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ ’مین آف ایکشن‘ ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کا کہنا ہے کہ ایران میں امریکی کارروائیوں کا مقصد تہران کے ’جوہری عزائم کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا‘ ہے۔

    لیویٹ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ امن اور سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں، جبکہ ایران نے ’تشدد اور تباہی کا یہ راستہ چنا اور وہ اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔‘

  3. عراق میں بجلی کا مکمل بریک ڈاؤن، امریکی سفارتخانے کی اپنے شہریوں کو ملک سے نکل جانے کی ہدایت

    عراق کی وزارت بجلی کا کہنا ہے کہ پورا ملک بجلی کی مکمل بندش سے متاثر ہے۔

    عراقی نیوز ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق، وزارت کا کہنا ہے کہ ملک کے ’تمام صوبوں میں پاور گرڈ مکمل طور پر بند ہو گئے ہیں۔‘

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، وزارت بجلی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بلیک آؤٹ کی وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    دوسری جانب، بغداد میں واقع امریکی سفارت خانے نے عراق میں موجود تمام امریکی شہریوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جتنی جلدی محفوظ طریقے سے عراق سے نکل سکیں، نکل جائیں۔

    سفارتخانے کا کہنا ہے کہ جب تک حالات ’روانگی کے لیے محفوظ نہ ہوں‘ اس وقت تک وہ کسی محفوظ جگہ پناہ لے لیں۔

  4. تہران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹر سمیت متعدد عمارتوں کو شدید نقصان، نئی سیٹلائیٹ تصاویر جاری, بی بی سی ویریفائی

    پاسدارانِ انقلاب
    ،تصویر کا کیپشنپاسدارانِ انقلاب کے ہیڈکوارٹر کی 27 فروری کو لی گئی تصویر۔

    بی بی سی ویریفائی نے تہران کی سیٹلائٹ تصویروں کا جائزہ لیا ہے جس میں ایرانی دارالحکومت میں اہم عمارتوں کو بڑے پیمانے پر پہنچنے والے نقصانات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

    یہ تصاویر انٹیلیجنس فرم وینٹر نے لی ہیں۔ ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سرکاری تنصیبات جیسے کہ وزارتِ انٹیلیجنس اور صدارتی کمپلیکس پر حملے کیے گئے ہیں، اور ان عمارتوں سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    شہر کے شمال میں واقع پاسداران انقلاب کے ہیڈکوارٹر کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے جہاں کئی عمارتیں یا تو تباہ ہو گئی ہیں یا انھیں نقصان پہنچا ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کے ہیڈکوارٹر
    ،تصویر کا کیپشنپاسدارانِ انقلاب کے ہیڈکوارٹر کی 3 مارچ کو لی گئی تصویر۔

    حکومتی اور فوجی مقامات کے ساتھ ساتھ، تصویروں میں شمالی تہران میں گاندھی ہسپتال کے آس پاس ہونے والے نقصانات کو بھی دکھایا گیا ہے، جہاں ایک گڑھا دکھائی دے رہا ہے جبکہ ایک بڑا ٹرانسمیشن ٹاور بھی گرا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

    سوموار کے روز ہم نے اس ویڈیو کی تصدیق کی تھی جس میں ہسپتال سے بچوں کو بظاہر نکالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ عمارت کے سامنے کے حصے کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

    تہران کا گاندھی ہسپتال
    ،تصویر کا کیپشنتہران کا گاندھی ہسپتال
  5. ایران نے اسرائیل کی جانب مزید میزائل داغے ہیں، اسرائیلی فوج

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ایران کی طرف سے اسرائیل پر مزید میزائل داغے جانے کا پتہ لگایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں کو پناہ گاہوں میں جانے کی ہدایات موصول ہوں، وہ اس پر عمل کریں اور اور جب تک کہ انھیں اجات نہ دی جائے، باہر نہ نکلیں۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دفاعی نظام میزائلوں کو روکنے کے لیے فعال ہیں۔

  6. لبنانی وزارتِ صحت کی اب تک اسرائیلی حملوں میں 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق

    لبنان

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    لبنان کی وزارت صحت کی جانب سے جاری تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق، سوموار سے اب تک لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 72 ہو گئی ہے، جبکہ 437 زخمی ہوئے ہیں۔

    دارالحکومت بیروت میں آج اسرائیلی فضائی حملوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں، جبکہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں رہنے والوں سے فوری طور پر اپنے گھر چھوڑ کر شمال کی جانب نقل مکانی کا کہا ہے۔

    تازہ ترین کشیدگی اس وقت سامنے آئی جب حزب اللہ نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں اور اس کے نتیجے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے جواب میں اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون داغے۔

    اسرائیلی فوج نے اس کے بعد سے لبنان پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں اور لبنان کے جنوب میں فوج داخل کردی ہے، جس سے دسیوں ہزار لبنانی شہری نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔

  7. امریکہ کا 20 سے زائد ایرانی جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

    امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے 20 سے زائد ایرانی جہازوں کو یا تو ڈبو دیا ہے یا انھیں نشانہ بنایا ہے۔

    امریکی فوج کی سینٹرل کمان کی جانب سے یہ دعویٰ امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے بحر ہند میں ایران کے ایک جنگی جہاز کو غرق کر دیا ہے۔

    امریکی سیکرٹری دفاع کا کہنا تھا کہ ایرانی جہاز کو تارپیڈو کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

  8. امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا: ایرانی صدر کا خلیجی ممالک کو پیغام

    ایرانی مسعود

    ،تصویر کا ذریعہIran's Presidential website/WANA/Reuters

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ہمسایہ خلیجی ممالک سے کہا ہے کہ ایران کے پاس امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

    28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد، ایران نے اپنے پڑوسی عرب ممالک پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون فائر کیے ہیں۔

    ایران نے اب تک متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان سمیت خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں اور شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں ایرانی صدر نے پڑوسی ممالک سے کہا ہے کہ ان کی مدد سے ایران نے جنگ سے بچنے کی بہت کوشش کی۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے ایران کے پاس ’اپنے دفاع کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑا۔‘

    ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ خطے کے ممالک کو ہے خطے میں امن کو یقینی بنانا چاہیے۔

  9. خامنہ ای کی ہلاکت کی ’آپ سے بھاری قیمت وصول کی جائے گی‘: علی لاریجانی کی ڈونلڈ ٹرمپ کو دھمکی

    علی لاریجانی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ خامنہ ای کی ہلاکت کی ’آپ سے بھاری قیمت وصول کی جائے گی۔‘

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں لاریجانی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی ’مسخرہ حرکتوں‘ میں آ کر ٹرمپ نے ’امریکی عوام کو ایران کے ساتھ ایک غیر منصفانہ جنگ میں دھکیل دیا ہے۔‘

    انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا کہ ان کے لیے ’اب بھی امریکہ سب سے پہلے ہے یا اسرائیل؟‘

    یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے، اور اس کے بعد سے ملک بھر میں مختلف مقامات کو نشانہ بنانا جاری رکھا ہوا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ جانتا تھا کہ اسرائیل کارروائی کرنے جا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے امریکی افواج پر متوقع ایرانی حملوں کے پیش نظر امریکہ کو پیشگی اقدام اٹھانے۔

  10. شام میں گرنے والے ایرانی میزائل کی تصاویر

    ایرانی میزائل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شام کے شمال مشرقی شہر قماشلی میں گرنے والے میزائل کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔ یہ شہر ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔

    تاحال یہ نہیں معلوم کہ یہ میزائل کب گرا ہے۔ اس سے قبل ترکی نے کہا تھا کہ نیٹو کے فضائی دفاع نے ترکی کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایک ایرانی میزائل کو تباہ کر دیا ہے۔

    ترکی کی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    بیان کے مطابق میزائل کا ’عراق اور شام کی فضائی حدود سے گزر کر ترکی کی فضائی حدود کی طرف آنے کا پتہ چلا۔‘

    ترکی، جو نیٹو کا رکن ملک ہے، نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم تمام فریقین کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے سے گریز کریں جس سے خطے میں تنازعہ مزید پھیل جائے۔‘

    ایرانی میزائل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  11. اسرائیلی فضائیہ کا ایران پر 5000 سے زائد بم گرانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک اس نے ایران پر پانچ ہزار سے زائد بم گرائے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی فضائیہ نے کہا ہے کہ حملوں کا زیادہ تر نشانہ تہران کے آس پاس کا ایریا تھا۔

    دوسری جانب، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ کچھ دیر پہلے ایران کی جانب سے میزائل چھوڑے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق اس کا دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے کے لیے فعال ہے۔

  12. امریکی آبدوز کا ایرانی جنگی جہاز پر تارپیڈو حملہ، پینٹاگون نے ویڈیو جاری کر دی

    ،ویڈیو کیپشنپینٹاگون نے ایرانی جنگی جہاز ڈبونے کی ویڈیو جاری کر دی
  13. کیا دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار آبدوز نے جنگی جہاز ڈبویا ہے؟, ٹاپ ایڈنگٹم، بی بی سی ویریفائی

    آبدوز، آئی این ایس کھکری

    ،تصویر کا ذریعہGoVT OF INDIA

    امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ بحر ہند میں امریکی آبدوز نے تارپیڈو کے ذریعے ایرانی جنگی بحری جہاز ڈبو دیا ہے۔

    ان کا دعویٰ تھا کہ ایسا دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔

    مگر یہ درست نہیں۔

    1982 کی فاکلینڈ جنگ کے دوران جنوبی اٹلانٹک میں برطانوی جوہری صلاحیت کی حامل آبدوز نے دو ٹائیگر تارپیڈو کے ذریعے ارجنٹینا کے واحد جنگی جہاز جنرل بلگرانو کو غرق کیا تھا۔

    اگر حالیہ امریکہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو 1945 کے بعد ایسا پہلا بار ہوگا کہ کسی امریکی آبدوز نے دشمن جہاز گرایا ہو۔

  14. ایران جنگ ابھی ’ختم ہونے سے بہت دور ہے‘, ڈینیئل بش، بی بی سی نامہ نگار، واشنگٹن

    ایران کے ساتھ جنگ ​​کے جلد خاتمے کی امید رکھنے والے امریکی اتحادی اعلیٰ انتظامیہ اور فوجی حکام کی جانب سے آپریشن ’ایپک فیوری‘ پر تازہ پیشرفت سے مایوس ہوں گے۔

    جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بدھ کے روز سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ ایک پریس بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ جنگ ابھی ’ختم ہونے سے بہت دور ہے۔‘

    ڈین کین نے اس حوالے سے کوئی خاص ٹائم لائن نہیں بتائی کہ یہ فوجی آپریشن کتنی دیر تک جاری رہ سکتا ہے لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے ’ایرانی سرزمین پر گہرائی میں جا کر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔‘

    یہ تبصرے اس ہفتے کے شروع میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سیکریٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو کے ان بیانات کے بعد شروع ہوئے جن میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایرانی حکومت کو ابھی سب سے سخت دھچکہ نہیں پہنچایا۔

    امریکی صدر اور دیگر مشیروں نے ایران پر حملے کی متعدد وجوہات پیش کی ہیں لیکن انھوں نے مستقل طور پر یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ جنگ مختصر نہیں ہو گی اور اس ہفتے ان کی تازہ کارروائیوں سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلا۔

    امریکی انتظامیہ نے جس چیز پر توجہ نہیں دی وہ یہ کہ ایک طویل تنازعہ کس طرح باقی خطے پر اثر انداز ہو گا اور اس کے ممکنہ سیاسی نتائج امریکہ کو مقامی سطح پر بھی محسوس ہوں گے۔

    رائے عامہ سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ امریکہ میں بڑے پیمانے پر غیر مقبول ہے۔ یہ جتنی دیر تک جاری رہے گی، مڈ ٹرم الیکشنز کی طرف بڑھنے والے وائٹ ہاؤس اور رپبلکنز کے لیے اتنا ہی زیادہ نقصان ہو گا۔

  15. ایران نے ٹرمپ کو مارنے کی کوشش کی، امریکی سیکریٹری دفاع کا دعویٰ

    امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کا دعویٰ ہے کہ ایران نے امریکی صدر ڈولڈ ٹرمپ کو مارنے کی کوشش کی۔

    امریکی چیئرمین آف جوائنٹ چیفس آف سٹاف ڈین کین کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکہ نے ’صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والے یونٹ کے رہنما کو ہلاک کر دیا۔‘

    سنہ 2024 میں امریکی حکومت نے ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے سے قبل ان کے قتل کی مبینہ سازش کے سلسلے میں ایک افغان شہری اور میبنہ ایرانی شخص کے خلاف الزامات عائد کیے تھے۔

    محکمہ انصاف نے الزام عائد کیا تھا کہ 51 سالہ فرہاد شکیری کو ٹرمپ کو قتل کرنے کا ’منصوبہ بنانے‘ کا کام سونپا گیا تھا۔

    مین ہٹن کی عدالت میں دائر درخواست میں استغاثہ نے الزام لگایا تھا کہ ایران کے پاسداران انقلاب کے ایک اہلکار نے ستمبر میں فرہاد شکیری کو ہدایت کی کہ وہ ٹرمپ کی نگرانی اور قتل کا منصوبہ بنائیں۔

  16. امریکہ نے بحر ہند میں ایران کے جنگی جہاز کو غرق کر دیا: امریکی سیکرٹری دفاع

    امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ

    ،تصویر کا ذریعہPOOL

    امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے بحر ہند میں ایران کے ایک جنگی جہاز کو غرق کر دیا ہے۔

    پینٹاگون کی پریس بریفنگ کے دوران امریکی سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ ایرانی جہاز کو تارپیڈو کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تاہم پیٹ ہیگستھ نے اس ایرانی جہاز کا نام نہیں لیا۔

    دوسری جانب سری لنکا کے سیکرٹری وزیر دفاع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سمندر سے ڈوبنے والے ایرانی جہاز پر سوار 80 افراد کی لاشیں مل گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل ہم نے آپ کو خبر دی تھی کہ سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک ایرانی جہاز ڈوب گیا ہے اور سری لنکن حکام کے مطابق اس پر سوار تقریباً 140 افراد لاپتہ ہیں۔

  17. ’ہمیں کوئی ایرانی جہاز نظر نہیں آیا، وہ ڈوب چکا تھا‘

    ایرانی جہاز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بی بی سی سنہالا نے سری لنکن نیوی سے ایران کے ڈوبنے والے بحری جہاز کی حالت کے بارے میں بات کی ہے۔

    سری لنکن نیوی کے ترجمان کے مطابق جب ان کے جہاز جائے وقوعہ پر پہنچے تو انھیں وہاں صرف چند لائف بوٹس ہی نظر آئیں۔

    ترجمان کے مطابق ’وہاں کوئی ایرانی جہاز نظر نہیں آیا۔ وہ ڈوب چکا تھا۔‘

    واضح رہے کہ سری لنکا کی بحری حدود کے قریب ایرانی جہاز کے ڈوبنے کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہیں لیکن سری لنکن بحریہ نے ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے کہ یہ جہاز کسی آبدوز حملے کا نشانہ بنا۔

  18. نیٹو کے فضائی دفاع نے ترکی کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایرانی میزائل کو تباہ کر دیا

    ترکی کی وزارت دفاع کے مطابق نیٹو کے فضائی دفاع نے ترکی کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایک ایرانی میزائل کو تباہ کر دیا ہے۔

    وزارت دفاع کے بیان کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    بیان کے مطابق میزائل کا ’عراق اور شام کی فضائی حدود سے گزر کر ترکی کی فضائی حدود کی طرف آنے کا پتہ چلا۔‘

    ترکی، جو نیٹو کا رکن ملک ہے، نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم تمام فریقین کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے سے گریز کریں جس سے خطے میں تنازعہ مزید پھیل جائے۔‘

  19. ایرانی بحری جہاز آبدوز حملے کا نشانہ نہیں بنا: ترجمان سری لنکن بحریہ

    سری لنکا میں گالے بندرگاہ کے قریب ایرانی جہاز کے ڈوبنے کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہیں لیکن سری لنکن بحریہ نے ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے کہ یہ جہاز آبدوز حملے کا نشانہ بنا۔

    بی بی سی سے گفتگو میں سری لنکن بحریہ کے ترجمان بدھیکا سمپتھ نے بتایا کہ جہاز کے ڈوبنے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی تاہم یہ کسی سب میرین حملے کا نشانہ نہیں بنا۔

    سری لنکا کے قریب ڈوبنے والے ایرانی جہاز کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    سری لنکا کے قریب ڈوبنے والا ایرانی جہاز ’آئی آر آئی ایس دینا‘ ایران کی بحریہ کے 86ویں بیڑے کا حصہ ہے۔

    یہ جہاز بہت زیادہ بحث میں رہا کیونکہ سنہ 2022 سے 2023 کے دوران ایرانی بحریہ کی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے اس نے دنیا بھر میں 65,000 کلومیٹر کا سفر کیا۔

    یہ مکمل طور پر ایرانی ساختہ جہاز ہے۔ اس کی لمبائی 95 میٹر جبکہ اس کا وزن 1500 ٹن ہے۔

    یہ جہاز نور یا قدر اینٹی شپ میزائل، 76 ایم ایم کی فجر 27 نیوی گن، اور 30 ایم ایم کے ہتھیاروں سے لیس ہے۔

    انڈین بحریہ کی مشرقی کمان کی طرف سے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ یہ جہاز بحری مشق ’آئی آر ایف اینڈ میلان 2026‘ میں حصہ لینے کے لیے پہنچا تھا۔

  20. آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات ملتوی

    ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی سرکاری سطح پر آخری رسومات ملتوی کر دی گئی ہیں۔

    اس سے قبل ایران کے سرکاری میڈیا نے خبر دی تھی کہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ آج تہران میں ادا کی جائے گی جبکہ تین دن تک جاری رہنے والی تقریبات کے بعد اُن کی تدفین کی جائے گی۔

    تاہم اب رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ منتظمین نے کہا ہے کہ مقام کے تعین تک اس تقریب کو ملتوی کیا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سے کسی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔