لائیو, امریکی آبدوز نے بحر ہند میں ایرانی جنگی جہاز ڈبو دیا، پینٹاگون کا ایران کے اندر ’گہرائی میں جا کر‘ حملوں کا منصوبہ

پینٹاگون کی پریس بریفنگ کے دوران امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے بتایا کہ ایرانی جہاز کو تارپیڈو کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تاہم انھوں نے جہاز کا نام نہیں بتایا۔ دوسری جانب سری لنکا کی وزارت دفاع کے سیکرٹری نے بی بی سی کو بتایا کہ سری لنکا کے قریب ڈوبنے والے ایرانی جہاز پر سوار 80 افراد کی لاشیں مل گئی ہیں۔

خلاصہ

  • پینٹاگون پریس بریفنگ کے دوران امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے بتایا کہ بحرہند میں ایک ایرانی جنگی جہاز کو تارپیڈو کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تاہم اس جہاز کا نام نہیں بتایا گیا
  • دوسری جانب سری لنکا کی وزارت دفاع کے سیکرٹری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سری لنکا کے قریب ڈوبنے والے ایرانی جہاز پر سوار 80 افراد کی لاشیں مل گئی ہیں
  • ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی تین روزہ آخری رسومات ملتوی کر دی گئی ہیں اور اس حوالے سے کسی نئی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا گیا
  • سعودی عرب کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کی جانب سے دارالحکومت ریاض کے جنوب میں دو کروز میزائل ناکام بنا دیے گئے
  • اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اُن کی جانب سے شروع کی جانے والی حالیہ کارروائی کے جواب میں اسرائیل پر حملے کر رہا ہے
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ’اب ایران کے پاس بحریہ ہے نہ فضائیہ اور نہ ہی فضائی دفاعی نظام، تقریباً سب کچھ تباہ ہو گیا‘
  • ایران کی ہلالِ احمر سوسائٹی کا کہنا ہے کہ سنیچر سے شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں اب تک 787 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

لائیو کوریج

  1. امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا: ایرانی صدر کا خلیجی ممالک کو پیغام

    ایرانی مسعود

    ،تصویر کا ذریعہIran's Presidential website/WANA/Reuters

    ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ہمسایہ خلیجی ممالک سے کہا ہے کہ ایران کے پاس امریکی اور اسرائیلی حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

    28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد، ایران نے اپنے پڑوسی عرب ممالک پر سینکڑوں میزائل اور ڈرون فائر کیے ہیں۔

    ایران نے اب تک متحدہ عرب امارات، قطر اور عمان سمیت خلیجی ریاستوں میں امریکی فوجی اڈوں اور شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا ہے۔

    ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں ایرانی صدر نے پڑوسی ممالک سے کہا ہے کہ ان کی مدد سے ایران نے جنگ سے بچنے کی بہت کوشش کی۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں نے ایران کے پاس ’اپنے دفاع کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑا۔‘

    ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کی خودمختاری کا احترام کرتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ خطے کے ممالک ک ہے خطے میں امن کو یقینی بنانا چاہیے۔

  2. خامنہ ای کی ہلاکت کی ’آپ سے بھاری قیمت وصول کی جائے گی‘: علی لاریجانی کی ڈونلڈ ٹرمپ کو دھمکی

    علی لاریجانی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ خامنہ ای کی ہلاکت کی ’آپ سے بھاری قیمت وصول کی جائے گی۔‘

    سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں لاریجانی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی ’مسخرہ حرکتوں‘ میں آ کر ٹرمپ نے ’امریکی عوام کو ایران کے ساتھ ایک غیر منصفانہ جنگ میں دھکیل دیا ہے۔‘

    انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ سے سوال کیا کہ ان کے لیے ’اب بھی امریکہ سب سے پہلے ہے یا اسرائیل؟‘

    یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کیے، اور اس کے بعد سے ملک بھر میں مختلف مقامات کو نشانہ بنانا جاری رکھا ہوا ہے۔

    امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ جانتا تھا کہ اسرائیل کارروائی کرنے جا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے امریکی افواج پر متوقع ایرانی حملوں کے پیش نظر امریکہ کو پیشگی اقدام اٹھانے۔

  3. شام میں گرنے والے ایرانی میزائل کی تصاویر

    ایرانی میزائل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شام کے شمال مشرقی شہر قماشلی میں گرنے والے میزائل کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔ یہ شہر ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔

    تاحال یہ نہیں معلوم کہ یہ میزائل کب گرا ہے۔ اس سے قبل ترکی نے کہا تھا کہ نیٹو کے فضائی دفاع نے ترکی کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایک ایرانی میزائل کو تباہ کر دیا ہے۔

    ترکی کی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    بیان کے مطابق میزائل کا ’عراق اور شام کی فضائی حدود سے گزر کر ترکی کی فضائی حدود کی طرف آنے کا پتہ چلا۔‘

    ترکی، جو نیٹو کا رکن ملک ہے، نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم تمام فریقین کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے سے گریز کریں جس سے خطے میں تنازعہ مزید پھیل جائے۔‘

    ایرانی میزائل

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  4. اسرائیلی فضائیہ کا ایران پر 5000 سے زائد بم گرانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فضائیہ کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک اس نے ایران پر پانچ ہزار سے زائد بم گرائے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی فضائیہ نے کہا ہے کہ حملوں کا زیادہ تر نشانہ تہران کے آس پاس کا ایریا تھا۔

    دوسری جانب، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ کچھ دیر پہلے ایران کی جانب سے میزائل چھوڑے گئے ہیں۔

    اسرائیلی فوج کے مطابق اس کا دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے کے لیے فعال ہے۔

  5. امریکی آبدوز کا ایرانی جنگی جہاز پر تارپیڈو حملہ، پینٹاگون نے ویڈیو جاری کر دی

    ،ویڈیو کیپشنپینٹاگون نے ایرانی جنگی جہاز ڈبونے کی ویڈیو جاری کر دی
  6. کیا دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار آبدوز نے جنگی جہاز ڈبویا ہے؟, ٹاپ ایڈنگٹم، بی بی سی ویریفائی

    آبدوز، آئی این ایس کھکری

    ،تصویر کا ذریعہGoVT OF INDIA

    امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ بحر ہند میں امریکی آبدوز نے تارپیڈو کے ذریعے ایرانی جنگی بحری جہاز ڈبو دیا ہے۔

    ان کا دعویٰ تھا کہ ایسا دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔

    مگر یہ درست نہیں۔

    1982 کی فاکلینڈ جنگ کے دوران جنوبی اٹلانٹک میں برطانوی جوہری صلاحیت کی حامل آبدوز نے دو ٹائیگر تارپیڈو کے ذریعے ارجنٹینا کے واحد جنگی جہاز جنرل بلگرانو کو غرق کیا تھا۔

    اگر حالیہ امریکہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو 1945 کے بعد ایسا پہلا بار ہوگا کہ کسی امریکی آبدوز نے دشمن جہاز گرایا ہو۔

  7. ایران جنگ ابھی ’ختم ہونے سے بہت دور ہے‘, ڈینیئل بش، بی بی سی نامہ نگار، واشنگٹن

    ایران کے ساتھ جنگ ​​کے جلد خاتمے کی امید رکھنے والے امریکی اتحادی اعلیٰ انتظامیہ اور فوجی حکام کی جانب سے آپریشن ’ایپک فیوری‘ پر تازہ پیشرفت سے مایوس ہوں گے۔

    جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے بدھ کے روز سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کے ساتھ ایک پریس بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ جنگ ابھی ’ختم ہونے سے بہت دور ہے۔‘

    ڈین کین نے اس حوالے سے کوئی خاص ٹائم لائن نہیں بتائی کہ یہ فوجی آپریشن کتنی دیر تک جاری رہ سکتا ہے لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ نے ’ایرانی سرزمین پر گہرائی میں جا کر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔‘

    یہ تبصرے اس ہفتے کے شروع میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور سیکریٹری آف سٹیٹ مارکو روبیو کے ان بیانات کے بعد شروع ہوئے جن میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے ایرانی حکومت کو ابھی سب سے سخت دھچکہ نہیں پہنچایا۔

    امریکی صدر اور دیگر مشیروں نے ایران پر حملے کی متعدد وجوہات پیش کی ہیں لیکن انھوں نے مستقل طور پر یہ اشارہ بھی دیا ہے کہ جنگ مختصر نہیں ہو گی اور اس ہفتے ان کی تازہ کارروائیوں سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدلا۔

    امریکی انتظامیہ نے جس چیز پر توجہ نہیں دی وہ یہ کہ ایک طویل تنازعہ کس طرح باقی خطے پر اثر انداز ہو گا اور اس کے ممکنہ سیاسی نتائج امریکہ کو مقامی سطح پر بھی محسوس ہوں گے۔

    رائے عامہ سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ امریکہ میں بڑے پیمانے پر غیر مقبول ہے۔ یہ جتنی دیر تک جاری رہے گی، مڈ ٹرم الیکشنز کی طرف بڑھنے والے وائٹ ہاؤس اور رپبلکنز کے لیے اتنا ہی زیادہ نقصان ہو گا۔

  8. ایران نے ٹرمپ کو مارنے کی کوشش کی، امریکی سیکریٹری دفاع کا دعویٰ

    امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کا دعویٰ ہے کہ ایران نے امریکی صدر ڈولڈ ٹرمپ کو مارنے کی کوشش کی۔

    امریکی چیئرمین آف جوائنٹ چیفس آف سٹاف ڈین کین کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ امریکہ نے ’صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والے یونٹ کے رہنما کو ہلاک کر دیا۔‘

    سنہ 2024 میں امریکی حکومت نے ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے سے قبل ان کے قتل کی مبینہ سازش کے سلسلے میں ایک افغان شہری اور میبنہ ایرانی شخص کے خلاف الزامات عائد کیے تھے۔

    محکمہ انصاف نے الزام عائد کیا تھا کہ 51 سالہ فرہاد شکیری کو ٹرمپ کو قتل کرنے کا ’منصوبہ بنانے‘ کا کام سونپا گیا تھا۔

    مین ہٹن کی عدالت میں دائر درخواست میں استغاثہ نے الزام لگایا تھا کہ ایران کے پاسداران انقلاب کے ایک اہلکار نے ستمبر میں فرہاد شکیری کو ہدایت کی کہ وہ ٹرمپ کی نگرانی اور قتل کا منصوبہ بنائیں۔

  9. امریکہ نے بحر ہند میں ایران کے جنگی جہاز کو غرق کر دیا: امریکی سیکرٹری دفاع

    امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ

    ،تصویر کا ذریعہPOOL

    امریکی سیکرٹری دفاع پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ امریکہ نے بحر ہند میں ایران کے ایک جنگی جہاز کو غرق کر دیا ہے۔

    پینٹاگون کی پریس بریفنگ کے دوران امریکی سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ ایرانی جہاز کو تارپیڈو کے ذریعے نشانہ بنایا گیا تاہم پیٹ ہیگستھ نے اس ایرانی جہاز کا نام نہیں لیا۔

    دوسری جانب سری لنکا کے سیکرٹری وزیر دفاع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سمندر سے ڈوبنے والے ایرانی جہاز پر سوار 80 افراد کی لاشیں مل گئی ہیں۔

    واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل ہم نے آپ کو خبر دی تھی کہ سری لنکا کے ساحل کے قریب ایک ایرانی جہاز ڈوب گیا ہے اور سری لنکن حکام کے مطابق اس پر سوار تقریباً 140 افراد لاپتہ ہیں۔

  10. ’ہمیں کوئی ایرانی جہاز نظر نہیں آیا، وہ ڈوب چکا تھا‘

    ایرانی جہاز

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    بی بی سی سنہالا نے سری لنکن نیوی سے ایران کے ڈوبنے والے بحری جہاز کی حالت کے بارے میں بات کی ہے۔

    سری لنکن نیوی کے ترجمان کے مطابق جب ان کے جہاز جائے وقوعہ پر پہنچے تو انھیں وہاں صرف چند لائف بوٹس ہی نظر آئیں۔

    ترجمان کے مطابق ’وہاں کوئی ایرانی جہاز نظر نہیں آیا۔ وہ ڈوب چکا تھا۔‘

    واضح رہے کہ سری لنکا کی بحری حدود کے قریب ایرانی جہاز کے ڈوبنے کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہیں لیکن سری لنکن بحریہ نے ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے کہ یہ جہاز کسی آبدوز حملے کا نشانہ بنا۔

  11. نیٹو کے فضائی دفاع نے ترکی کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایرانی میزائل کو تباہ کر دیا

    ترکی کی وزارت دفاع کے مطابق نیٹو کے فضائی دفاع نے ترکی کی فضائی حدود کی جانب آنے والے ایک ایرانی میزائل کو تباہ کر دیا ہے۔

    وزارت دفاع کے بیان کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    بیان کے مطابق میزائل کا ’عراق اور شام کی فضائی حدود سے گزر کر ترکی کی فضائی حدود کی طرف آنے کا پتہ چلا۔‘

    ترکی، جو نیٹو کا رکن ملک ہے، نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم تمام فریقین کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے سے گریز کریں جس سے خطے میں تنازعہ مزید پھیل جائے۔‘

  12. ایرانی بحری جہاز آبدوز حملے کا نشانہ نہیں بنا: ترجمان سری لنکن بحریہ

    سری لنکا میں گالے بندرگاہ کے قریب ایرانی جہاز کے ڈوبنے کی وجوہات ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہیں لیکن سری لنکن بحریہ نے ان رپورٹس کو مسترد کیا ہے کہ یہ جہاز آبدوز حملے کا نشانہ بنا۔

    بی بی سی سے گفتگو میں سری لنکن بحریہ کے ترجمان بدھیکا سمپتھ نے بتایا کہ جہاز کے ڈوبنے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی تاہم یہ کسی سب میرین حملے کا نشانہ نہیں بنا۔

    سری لنکا کے قریب ڈوبنے والے ایرانی جہاز کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

    سری لنکا کے قریب ڈوبنے والا ایرانی جہاز ’آئی آر آئی ایس دینا‘ ایران کی بحریہ کے 86ویں بیڑے کا حصہ ہے۔

    یہ جہاز بہت زیادہ بحث میں رہا کیونکہ سنہ 2022 سے 2023 کے دوران ایرانی بحریہ کی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے اس نے دنیا بھر میں 65,000 کلومیٹر کا سفر کیا۔

    یہ مکمل طور پر ایرانی ساختہ جہاز ہے۔ اس کی لمبائی 95 میٹر جبکہ اس کا وزن 1500 ٹن ہے۔

    یہ جہاز نور یا قدر اینٹی شپ میزائل، 76 ایم ایم کی فجر 27 نیوی گن، اور 30 ایم ایم کے ہتھیاروں سے لیس ہے۔

    انڈین بحریہ کی مشرقی کمان کی طرف سے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا گیا کہ یہ جہاز بحری مشق ’آئی آر ایف اینڈ میلان 2026‘ میں حصہ لینے کے لیے پہنچا تھا۔

  13. آیت اللہ خامنہ ای کی آخری رسومات ملتوی

    ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی سرکاری سطح پر آخری رسومات ملتوی کر دی گئی ہیں۔

    اس سے قبل ایران کے سرکاری میڈیا نے خبر دی تھی کہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ آج تہران میں ادا کی جائے گی جبکہ تین دن تک جاری رہنے والی تقریبات کے بعد اُن کی تدفین کی جائے گی۔

    تاہم اب رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ منتظمین نے کہا ہے کہ مقام کے تعین تک اس تقریب کو ملتوی کیا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سے کسی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

  14. ڈرون حملے میں سعودی آئل ریفائنری کو نشانہ بنانے کی کوشش

    سعودی وزارت دفاع کے مطابق ملک کی ایک بڑی آئل ریفائنری کو ڈرون حملے میں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

    یہ ڈرون حملہ راس تنورہ میں آئل ریفائنری پر کیا گیا، جسے کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کمپنی ہے۔

    وزارت دفاع کے مطابق ’ابتدائی اندازوں کے مطابق اس حملے میں ڈرون کا استعمال کیا گیا تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔‘

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ایرانی حملے میں اس ریفائنری کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ پیر کے روز سامنے آنے والی سیٹلائٹ تصاویر میں حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کو دیکھا جا سکتا ہے۔

  15. سری لنکا میں گالے بندرگاہ کے قریب ایرانی بحری جہاز ڈوب گیا، 140 افراد لاپتہ

    جہاز

    ،تصویر کا ذریعہMashregh News

    ،تصویر کا کیپشن(فائل فوٹو)

    سری لنکا میں حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے ایک بحری جہاز کے ڈوبنے کی اطلاعات ملنے کے بعد سری لنکا کی بحریہ اور فضائیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

    سری لنکا کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس جہاز پر سوار تقریباً 140 افراد لاپتہ ہیں تاہم حادثے کی وجوہات ابھی تک نامعلوم ہیں۔

    وزارت دفاع کے حکام کے مطابق ایرانی جہاز سری لنکا کے پانیوں سے دور ’میری ٹائم تجارتی زون‘ میں تھا۔

    یاد رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل سری لنکا کے وزیر خارجہ وجیتھا ہیراتھ نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ آج صبح بحری جہاز ’آئی آر آئی ایس دینا‘ سے پریشان کن سگنل ملے، جس کے بعد ملک کی بحریہ اور فضائیہ نے ریسکیو آپریشن شروع کیا۔

    وزیر خارجہ کے مطابق اس واقعے میں زخمی ہونے والے 30 افراد کو سری لنکا کی بندرگاہ گالے کے ہسپتال پہنچایا گیا۔

    ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمی افراد میں سے کچھ کی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہیں جبکہ بعض کو جلنے کے زخم اور خراشیں آئی ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق اس بحری جہاز پر 180 افراد سوار ہیں۔

    سری لنکن اپوزیشن کے ایک رکن پارلیمنٹ نے جب پارلیمان میں پوچھا کہ کیا ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی حملوں میں اس جہاز پر بمباری کی گئی تو اس پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

  16. شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس: افغانستان اور مشرق وسطی کے حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت آج پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں اور نمائندگان کے اجلاس میں پاکستان افغانستان صورتحال، ایران، مشرق و سطی و خلیج میں کشیدگی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کے حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ دی گئی۔

    وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اجلاس میں شریک سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں نے موجودہ حالات میں ملی اتحاد اور اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور دیا۔

    شرکا نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی جانب سے سفارتی کوششوں کو سراہا اور انھیں مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا جبکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر تجاویز پیش کیں۔

    بیان کے مطابق ملک سے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تمام شرکا نے مضبوط عزم کا اعادہ کیا اور پاکستان کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے وزیرِ اعظم کے اقدام کو سراہا۔

  17. آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای محفوظ، رہبر اعلیٰ کے لیے اہم امیدوار

    مجتبیٰ خامنہ ای

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اطلاعات کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے ان حملوں میں محفوظ رہے ہیں۔

    دو ایرانی ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو اس بارے میں بتایا ہے۔

    مجتبیٰ خامنہ ای، آیت اللہ خامنہ ای کے دوسرے بڑے بیٹے ہیں اور انھیں ممکنہ طور پر ایران کے آئندہ آنے والے رہبر اعلیٰ کے طور پر منتخب کیا جا سکتا ہے۔

    خامنہ ای کے سب سے بڑے بیٹے مصطفیٰ خامنہ ای ہیں۔ مصطفیٰ اور مجتبیٰ نے 1980 کی دہائی میں ایران اور عراق کے درمیان جنگ کے دوران اگلے محاذوں پر خدمات سر انجام دی تھیں۔

    ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ آج (بدھ) تہران میں ادا کی جائے گی اور نئے رہبر اعلیٰ کے انتخاب کا فیصلہ بھی ممکنہ طور پر آج ہی کیا جا سکتا ہے۔

  18. کویت کو میزائلوں اور ڈرونز کی نئی لہر کا سامنا

    کویت کی مسلح افواج کے مطابق انھیں میزائلوں اور ڈرونز کی ایک نئی لہر کا سامنا ہے۔

    ایکس پر اپنی پوسٹ میں کویتی فوج نے کہا ہے کہ وہ ان میزائلوں کو ناکارہ بنا دے گا۔

  19. اسرائیلی فوج کا ایران کا جنگی جہاز مار گرانے کا دعویٰ

    اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے آج ایران کے ایک جنگی جہاز کو مار گرایا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق اس نے ’ایف 35 جہاز کا استعمال کرتے ہوئے تہران میں ایرانی جنگی جہاز ’یاک 130‘ کو مار گرایا۔‘

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس سے پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ ’ایرانی بحریہ تباہ ہو چکی جبکہ ایرانی ایئر فورس، فضائی دفاعی نظام اور ریڈارز کو تباہ کیا جا چکا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  20. امریکا کی کراچی اور لاہور قونصل خانے سے امریکی عملے کو نکلنے کی ہدایت

    امریکہ نے کراچی اور لاہور کے قونصل خانے سے امریکی عملے کو خاندان سمیت نکلنے کی ہدایت کی ہے تاہم اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے لیے کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

    پاکستان میں امریکی مشن نے اپنے بیان میں مشرقی وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے لاہور اور کراچی میں تعینات اپنے غیر ہنگامی سفارتی عملے کو پاکستان چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

    بیان کے مطابق امریکہ اور ایران کشیدگی کے بعد خطے میں ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرات بڑھ گئے ہیں جبکہ کمرشل پروازوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

    یاد رہے کہ ایران میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت پر پاکستان کے متعدد شہروں میں امریکہ مخالف مظاہرے کیے گئے تھے۔

    امریکی مشن کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات کا خطرہ موجود ہے اور دہشتگرد بغیر پیشگی اطلاع کے حملے کر سکتے ہیں۔