درگاہ پر بھٹکتا لاوارث بچہ لاکھوں کا وارث نکلا

شاہ زیب
،تصویر کا کیپشنشاہ زیب
    • مصنف, آصف علی
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

شاہ زیب کی عمر جب کتابوں سے دوستی کرنے کی تھی، بدقسمتی سے اس دوران وہ لاوارثوں کی طرح زندگی گزار رہا تھا اور ایک درگاہ کے پاس بھٹک رہا تھا۔

یہ درگاہ انڈین ریاست اتراکھنڈ کے شہر ’پیران کلیئر‘ میں ہے۔

 لیکن وقت نے کروٹ لی، قسمت کے ستارے چمکے اور درگاہ میں تقسیم ہونے والے کھانے سے بھوک مٹانے والا لاوارث شاہ زیب لاکھوں کی دولت کا وارث بن گیا۔

 کسی فلم کی کہانی جیسی لگنے والی یہ شاہ زیب کی اصل زندگی کی داستان ہے۔

والدین کے جھگڑے نے زندگی بدل دی

جب شاہ زیب قریب آٹھ برس کا تھا تو اس کی زندگی کچھ اور ہی تھی۔ وہ بڑے پیار اور دلار کے ساتھ پل رہا تھا۔ وہ اپنے والدین کے ساتھ ات پردیش کے ضلع سہارنپور کے پانڈولی گاوٴں میں رہتا تھا۔

2019 میں شاہ زیب کی والدہ عمرانہ بیگم کا اپنے شوہر محمد نوید سے جھگڑا ہو گیا جس کے بعد وہ بیٹے شاہ زیب کو لے کر اپنے والدین کے گھر یمونا نگر چلی گئیں جو کہ ریاست ہریانہ میں ہے۔

والدہ عمرانہ بیگم کے ساتھ شاہ زیب

،تصویر کا ذریعہASIF ALI/BBC

،تصویر کا کیپشنوالدہ عمرانہ بیگم کے ساتھ شاہ زیب

شاہ زیب کے والد نوید 2015 سے مفلوج تھے۔ جس وقت ان کی اہلیہ نے بچے کے ساتھ گھر چھوڑا اس وقت بھی وہ بستر پر تھے اور ان کے گھر سے جانے کی انہیں بہت تکلیف بھی ہوئی لیکن انہیں روک نہیں سکے۔

 نوید نے عمرانہ کو گھر واپس لانے کی بھی کوشش کی لیکن وہ راضی نہیں ہوئیں۔ کچھ روز بعد عمرانہ بیگم نے اپنا فون نمبر بھی بدل لیا۔  

 دن، مہینے اور سال گزرتے چلے گئے۔ اس دوران عمرانہ نے اپنے والدین کا گھر بھی چھوڑ دیا اور اتراکھنڈ کے  ضلع ہریدوار کے شہر پیران کلیئر میں جا کر رہنے لگیں۔ یہاں انہوں نے پندرہ سو روپے کرائے پر ایک کمرہ لیا۔ وہ درگاہ پر جھاڑو لگا کر اپنا اور بیٹے شاہ زیب کا پیٹ پالتی تھیں۔

 کچھ عرصے بعد کورونا کی خوفناک لہر نے شاہ زیب سے ماں کو بھی چھین لیا۔

اب اپنے والد کے گھر پر مخمل کے صوفے پر بیٹھے شاہ زیب نے بتایا ’امی کی وفات کی آخری گھڑیوں میں میں ان کے پاس ہی تھا۔‘

شاہ زیب نے بتایا کہ درگاہ میں آنے جانے والے چند افراد نے ہی ان کی والدہ کی آخری رسومات ادا کیں۔

 شاہ زیب نے کہا ’میں بہت رویا کرتا تھا۔ جب بھوک لگتی تھی تو درگاہ میں جو کھانا تقسیم کیا جاتا تھا وہ کھا لیتا تھا۔ لیکن کبھی کبھی بھوکا بھی سونا پڑتا تھا۔‘

چائے کی دکان میں برتن بھی دھوئے

شاہ زیب والدہ کی وفات کے بعد بالکل اکیلا تھا۔ یہاں سے اس کے مزید مشکل دنوں کا آغاز ہوا۔ وہ درگاہ کے آس پاس گلیوں میں بھٹکتا رہتا تھا۔

پیٹ بھرنے کے لیے شاہ زیب نزدیکی چائے کی دکان میں کام کرنے لگا۔ گاہکوں کو چائے دینا اور گندے برتنوں کو دھونا اس کا روزانہ کا کام تھا۔ دکان پر آنے والے بعض لوگ اس کے ساتھ بدتمیزی سے بھی پیش آتے تھے۔ اسے ہر روز 150 روپے ملتے تھے۔ اس میں سے ہر روز تیس روپے اوڑھنے کے لیے لحاف اور بستر کرائے پر لینے میں خرچ ہو جاتے تھے۔

شاہ زیب کے والد نوید (بیچ میں)

،تصویر کا ذریعہASIF ALI/BBC

،تصویر کا کیپشنشاہ زیب کے والد نوید (بیچ میں)

شاہ زیب کچھ پیسے کبھی کبھی بچا کر درگاہ کے خادم کے پاس جمع کرا دیا کرتا تھا۔ شاہ زیب نے بتایا کہ ابھی بھی درگاہ کے خادم کے پاس اس کے 600 روپے جمع ہیں۔

 شاہ زیب نے کہا ’جب کبھی میں دوسرے بچوں کو کھیلتا دیکھتا تھا تو میرا بھی من کھیلنے کو کرتا تھا۔ جب سکول جاتے بچے دیکھتا تھا تو سوچتا تھا کہ اگر میرے ممی پاپا ہوتے تو میں بھی سکول پڑھنے جاتا۔‘

کیسے بدلی شاہ زیب کی زندگی

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

ایک روز شاہ زیب کے دور کے رشتہ دار مبین علی اپنی بہن سے ملنے پیران کلیئر گئے ہوئے تھے۔ وہاں انہیں شاہ زیب دکھا جو ان کی بہن کے بیٹے شاہ زین کے ساتھ کھیلنے آیا کرتا تھا۔

 مبین نے شاہ زیب سے اس کا نام پوچھا اور یہ بھی کہ وہ کہاں کا رہنے والا ہے۔ شاہ زیب نے انہیں بتایا کہ اس کا تعلق سہارنہپور کے گھنٹا گھرعلاقے سے ہے۔

پھر والد کا نام پوچھنے پر شاہ زیب نے بتایا کہ ’پاپا کا نام نوید ہے۔‘

تب مبین نے پوچھا ’تمہارے دادا کا نام یعقوب تھا؟‘

شاہ زیب نے جواب دیا ’ہاں۔‘

پھر مبین نے پوچھا ’یعقوب کے علاوہ کسے جانتے ہو؟‘

شاہ زیب نے بتایا ’چھوٹے دادا شاہ عالم، چاچا ریاض اور پھپی حنا کو جانتا ہوں۔‘

ان تمام جوابات کو سننے کے بعد مبین نے کہا ’ارے تم تو ہمارے ہی بچے ہو۔‘

اس کے بعد مبین نے اپنے فون میں اسے وہ تصویر دکھائی جس میں شاہ زیب چار برس کا نظر آ رہا تھا۔ تصویر دیکھ کر شاہ زیب نے کہا ’یہ تو میری تصویر ہے۔‘

اس کے بعد مبین نے سہارنپور میں رہنے والے محمد شاہ عالم کو فون کر کے تفصیل سے پوری بات بتائی۔

اگلے روز شاہ زیب کے والد کے کزن نواز عالم پیران کلیئر پہنچے اور اپنے خاندان کے کھوئے ہوئے بچے شاہ زیب کو اس کے خاندان سے ملانے لے گئے۔

بےگھر شاہ زیب تو لکھپتی نکلا

پیران کلیئر میں موجود ’صابر صاحب‘ کی درگاہ پر شاہ زیب نے قریب تین برس گزارے۔ یہاں ہماری ملاقات منور علی سے ہوئی۔

 منور علی اور ان کا خاندان پیران کلیئر درگاہ کے ٹھیک سامنے رہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شاہ زیب ان کا رشتہ دار ہے، لیکن وہ اسے پہچان نہیں پائے۔ وہ درگاہ کے باہر ٹن کے شیڈ کے نیچے لحاف بستر کرائے پر لے کر سوتا تھا۔ منور علی کے مطابق شاہ زیب کبھی کبھی ان کے گھر کھانا کھانے آ جایا کرتا تھا۔ انہوں نے بتایا ’جب ٹھنڈ زیادہ ہونے لگی تو میں نے کہا تم یہاں گھر میں سو جایا کرو۔‘

انہوں نے بتایا ’شاہ زیب کو گھر میں سوتے ہوئے ابھی چار پانچ دن ہی گزرے تھے کہ ایک دن ہمارے رشتہ دار مبین گھر آئے۔ مبین نے اسے دیکھ کر اس کے بارے میں پوچھا تب پتا چلا کہ یہ بچہ تو ہمارا رشتہ دار ہے۔ یہ تو وہی بچہ نکلا جسے کئی سالوں سے ڈھونڈھا جا رہا تھا۔‘

منور علی نے بتایا کہ دو برس قبل رشتہ داروں نے انہیں بھی وہ تصویر بھیجی تھی، لیکن وہ تصویر شاہ زیب کے بچپن کی تھی اس لیے وہ اسے پہچان نہیں پائے۔

 

شاہ زیب کی نئی زندگی

ایک بڑا گھر، ضرورت کی سبھی آسائشیں اور لوگوں سے بھرا خاندان۔ کئی برس کی محرومیوں کے بعد شاہ زیب کی زندگی میں یہ سب کچھ شامل ہوا ہے۔

شاہ زیب سہارنپور میں اب اپنے رشتے کے دادا شاہ عام کے گھر پر رہتا ہے جہاں اس کے کزنز کو ملا کر دس بچے ہیں۔ وہ سبھی کے ساتھ کھیلتا ہے اور خوش نظر آتا ہے۔

 محمد شاہ عالم شاہ زیب کے والد محمد نوید کے چچا ہیں۔ شاہ زیب انہیں چھوٹے دادا کہہ کر پکارتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ عمرانہ اور شاہ زیب کے گھر سے جانے کے بعد نوید کی بھی وفات ہوگئی۔ ان کے مطابق جب نوید گیارہ برس کے تھے تب ان کی والدہ گزر گئی تھیں۔ نوید کی پرورش بھی شاہ عالم نے ہی کی تھی۔

شاہ زیب کے سگے دادا محمد یعقوب ایک ٹیچر تھے۔ شاہ عالم نے بتایا کہ ان کی عین خواہش تھی کہ شاہ زیب کو اس کا حق ملے۔ اس کے دادا یعقوب بھی دو برس قبل وفات پاگئے تھے۔

شاہ زیب کے والد کی کچھ جائیداد تھی جس میں ایک زمین اور ایک مکان بھی شامل ہے۔ شاہ عالم نے بتایا کہ اس جائیداد کی کل قیمت اس وقت تقریباً پچاس لاکھ روپے ہے جو سب اب شاہ زیب کا ہے۔