بابر اور صائم ڈراپ، پاکستانی ون ڈے سکواڈ میں شامل چھ نئے کھلاڑی کون ہیں؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے بنگلہ دیش کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے 15 رُکن سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے اور اس ٹیم میں چھ ایسے کھلاڑی شامل ہیں جو پہلی بار پاکستانی ٹیم کے لیے کھیلیں گے۔
پی سی بی کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق تین میچز پر مشتمل سیریز میں پاکستان کی قیادت شاہین شاہ آفریدی کریں گے۔ ون ڈے سکواڈ سے بابر اعظم، صائم ایوب، فخر زمان اور دیگر کھلاڑیوں کو ڈراپ کر دیا گیا ہے۔
عبدالصمد، معاذ صداقت، محمد غازی غوری، سعد مسعود، صاحبزادہ فرحان اور شامل حسین کو پہلی مرتبہ پاکستان کی ون ڈے سکواڈ میں شامل کیا گیا ہے۔
عبدالصمد، معاذ صداقت، سعد مسعود اور شامل حسین نے حال ہی میں ابو ظہبی میں انگلینڈ لائنز کے خلاف پاکستان شاہینز کی نمائندگی کی تھی۔
ان کے علاوہ سکواڈ میں فہیم اشرف، فیصل اکرم، حارث رؤف، حسین طلعت، محمد رضوان، محمد وسیم جونیئر اور سلمان علی آغا شامل ہیں۔
آئیں پاکستانی ون ڈے ٹیم میں پہلی مرتبہ شامل کیے جانے والے کھلاڑیوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
عبدالصمد
عبدالصمد کا آبائی تعلق پنجاب کے شہر فیصل آباد سے ہے اور وہ گذشتہ برس پاکستان کے لیے ٹی 20 انٹرنیشنل میچز کھیل چکے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ ایک مڈل آرڈر بلّے باز ہیں اور اس سے قبل پاکستان اے، پشاور زلمی اور پی آئی اے کی ٹیموں کے لیے بھی کھیل چکے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
معاذ صداقت
معاذ صداقت کا تعلق پشاور سے ہے اور وہ بائیں ہاتھ کے بلے باز ہیں۔ وہ حال ہی میں انڈر 19 ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی دکھانے پر منظرِ عام پر آئے تھے۔
اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں وہ 12 نصف سینچریوں اور دو سینچریوں کی مدد سے 1451 رنز بنا چکے ہیں۔
وہ پشاور زلمی کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں اور اس برس پی ایس ایل میں وہ حیدرآباد کنگزمین میں کھیلتے ہوئے نظر آئیں گے۔
سعد مسعود
21 سالہ سعد مسعود کا آبائی تعلق راولپنڈی سے ہے اور وہ ایک آلراؤنڈر ہیں۔
ماضی میں وہ اسلام آباد یونائیٹڈ کا حصہ رہ چکے ہیں اور اس بار وہ ملتان سلطانز کے لیے کھیلیں گے۔
کرک انفو کے مطابق وہ 24 ٹی 20 میچز کھیل چکے ہیں، جس میں وہ 321 رنز بنا چکے ہیں اور 22 وکٹیں لے چکے ہیں۔
شامل حسین
شامل حسین ایک اوپننگ بلے باز ہیں جو کہ 26 فرسٹ کلاس میچوں میں 45 کی اوسط سے 2019 رنز بنا چکے ہیں۔
ان کا آبائی تعلق پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے ہے۔
صاحبزادہ فرحان
صاحبزادہ فرحان اس ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کے سب سے کامیاب بلّے باز تھے اور انھوں نے اس ٹورنامنٹ میں دو سینچریاں بھی سکور کی تھیں۔
تاہم انھوں نے آج تک ون کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی نہیں کی ہے۔ وہ اپنے فرسٹ کلاس کیریئر میں 63 میچز کھیل کر 44 کی اوسط سے 4796 رنز بنا چکے ہیں۔
محمد غازی غوری
محمد غازی غوری سنہ 2003 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کی انڈر 19 ٹیم کے علاوہ سٹیٹ بینک، اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی ریجن انڈر 16 کی نمائندگی کر چکے ہیں۔
وہ وکٹ کیپر اور دائیں ہاتھ کے بلے باز ہیں۔
کرک انفو کے مطابق ان کے فرسٹ کلاس میں 1692 رنز ہیں۔
سوشل میڈیا پر بحث
پاکستان کے سکواڈ کے اعلان پر سوشل میڈیا پر بھی صارفین اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
جہاں کچھ لوگ نئے کھلاڑیوں کی ٹیم میں شمولیت پر خوش ہیں، وہیں کچھ صارفین بابر اعظم اور صائم ایوب کو ون ڈے ٹیم سے باہر کرنے پر نالاں نظر آتے ہیں۔
بعض صارفین کا کہنا ہے کہ ٹی 20 میں خراب پرفارمنس پر بابر اعظم اور صائم ایوب کو ون ڈے ٹیم سے نکالنا درست فیصلہ نہیں ہے۔
،تصویر کا ذریعہX
کرکٹ تجزیہ کار عثمان سمیع الدین نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ صائم ایوب نے اپنے آخری 11 ون ڈے میچوں میں دو سینچریاں اور دو نصف سینچریاں سکور کی ہیں اور ان کے رن بنانے کی اوسط 47 ہے۔
شاہد ہاشمی بھی اس بات پر حیرت کرتے ہوئے نظر آئے۔ انھوں نے لکھا کہ ’ایک فارمیٹ میں بُری کارکردگی دکھانے پر آپ کو دوسرے فارمیٹ سے بھی ڈراپ کر دیا جائے گا۔‘
ایک اور صارف نے لکھا کہ بابر اعظم 140 میچوں میں 20 سینچریوں کی مدد سے ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ رنز بنا چکے ہیں اور ان کی رنز بنانے کی اوسط 53 ہے۔
،تصویر کا ذریعہX
وہ کہتے ہیں کہ پچھلے سیریز میں سینچری بنانے کے باوجود انھیں ٹیم سے ڈراپ کر دینا ایک حیران کُن بات ہے۔
ایکس پر محمد عقیل نامی ایک صارف کہتے ہیں کہ ’بابر اعظم ہمارے سب سے بہترین بلے باز ہیں اور آپ نے ان کو ٹی 20 کی کارکردگی پر ڈراپ کر دیا۔ سلمان آغا اور شاہین شاہ آفریدی انتہائی بُری کارکردگی کے باوجود ٹیم میں ہیں۔‘
دوسری جانب احسن خان لکھتے ہیں کہ ٹیم میں فخر زمان، عبداللہ شفیق، صائم ایوب اور بابر اعظم کی غیرموجودگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ’پی سی بی نے ورلڈ کپ 2027 کے لیے نوجوانوں پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
’یہ سب جارحانہ کھلاڑی ہیں، ان سب کے لیے نیک تمنائیں۔‘
اہم خبریں
فیچر اور تجزیے
مقبول خبریں
مواد دستیاب نہیں ہے