خلیجی ممالک پر حملہ آور ایرانی شاہد ڈرونز جن کی امریکہ نے ’نقل‘ تیار کی ہے
،تصویر کا ذریعہUS CENTCOM
- مصنف, پاول آکسینوف
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- مطالعے کا وقت: 9 منٹ
امریکی مرکزی کمان سینٹ کام کے مطابق امریکہ نے ایران کے خلاف حالیہ کارروائیوں میں نئے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز استعمال کیے ہیں۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ ایرانی ڈرونز ’شاہد‘ سے ملتے جُلتے ہیں۔ اب تک سامنے آنے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز نصب ہو سکتے ہیں جن کی مدد سے یہ اپنے ہدف کا درست انداز میں تعین کرنے اور پھر انھیں موثر طریقے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بہت سے مبصرین ان سستے ’لوکس‘ ڈرونز کو ایرانی شاہد 136 ڈرونز کی ’غیر لائسنس شدہ نقل‘ قرار دے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انھیں گِر کر تباہ ہونے والے ایرانی ڈرونز کے مطالعے یعنی ’ریورس انجینئرنگ‘ کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔
کم از کم ان کی ساخت ملتی جلتی ہے، یعنی ان کی ایروڈائنامکس، انجن اور پیچھے کی جانب دھکیلنے والے پروپیلر۔
ان ڈرونز کی تصاویر، جو امریکی مرکزی کمان نے دسمبر میں شائع کی تھیں، میں ڈرونز کے ڈھانچے کے اوپری حصے میں ہلکے رنگ کے مستطیل نظر آتے ہیں جو سٹارلنک کمپنی کے سیٹلائٹ انٹرنیٹ ٹرمینلز جیسے ہیں۔
امریکہ نے سرکاری طور پر ایران میں ان ڈرونز کے پہلی مرتبہ استعمال کی تصدیق کی ہے لیکن ان کی ساخت میں ٹرمینلز کے استعمال کا ذکر نہیں کیا گیا۔
یہ بھی معلوم نہیں کہ ’لوکس‘ ڈرونز میں کون سے مخصوص ٹرمینلز استعمال کیے جاتے ہیں۔ سپیس ایکس نامی ٹیکنالوجی کمپنی نے نہ صرف عام تجارتی سیٹلائٹ نیٹ ورک ’سٹار لنک‘ بنایا ہے بلکہ ایک خصوصی فوجی نیٹ ورک ’سٹار شیلڈ‘ بھی تیار کیا ہے جو اپنی صلاحیتوں کے لحاظ سے مختلف ہے۔
،تصویر کا ذریعہUS CENTCOM
سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز سے لیس ڈرونز کا استعمال ان کی پرواز کے دوران نگرانی میں مدد دیتا ہے۔ اگر ڈرون کیمرے سے لیس ہوں تو اس پر نظر بھی رکھی جا سکتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیٹلائٹ سگنل کو جام کرنا کافی مشکل تو ہوتا ہے، مگر ان ڈرونز کو روکنا اس وجہ سے بھی مُشکل ہوتا ہے کیونکہ آپریٹر ان ڈرونز کو ریڈار سے بچاتے ہوئے انھیں زمین کے قریب اُڑاتے ہیں اور کسی بھی علاقے میں موجود فضائی دفاعی نظام سے بھی انھیں اوجھل رکھا جا سکتا ہے۔
لوکس نظام کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں تاہم دسمبر میں امریکہ میں اس نظام کی آزمائش سے متعلق ایک رپورٹ میں امریکی فوج کے ترجمان نے خودکار طور پر ہدف کے شناختی نظام کا ذکر کیا تھا۔
یہ ٹیکنالوجی اور نظام اس ڈرون کے مؤثر ہونے اور اپنے ہدف کو درست انداز میں نشانہ بنانے کی صلاحیت کو مزید بہتر بنا سکتا ہے۔
جنگ میں ڈرونز کا استعمال اور روسی تجربہ
دسمبر میں روسی فوج نے یوکرین کے خلاف جنگ میں سٹارلنک ٹرمینلز سے لیس ڈرونز کا استعمال شروع کیا۔ انھوں نے انھیں پابندیوں کے باوجود بیرونِ ملک سے خریدا اور پھر روس میں درآمد کیا۔
جنوری کے آخر میں یوکرین کے وزیرِ دفاع کے مشیر سرہئی بیسکریستنوف نے بیان دیا کہ ’اس وقت یوکرینی حکام نے سٹارلنک سے منسلک ڈرون حملوں کے سینکڑوں تصدیق شدہ واقعات ریکارڈ کیے تھے۔‘
انھوں نے خطرے کی نوعیت سمجھاتے ہوئے کہا تھا کہ اسے ایک بڑے ایف پی وی نظام کے طور پر سمجھیں جسے روس سے ایک آپریٹر کنٹرول کرتا ہے۔
ہم سب جانتے ہیں کہ سٹارلنک مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے اور کافی واضح ویڈیو اور کنٹرول چینل فراہم کرتا ہے لہٰذا یہ ان چیلنجز میں سے ایک ہے جن کا ’مجھے خاص طور پر اب سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘
فروری کے آغاز میں یوکرین کی وزارتِ دفاع نے سپیس ایکس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تاکہ یوکرین میں منظور شدہ فہرست میں شامل نہ ہونے والے سٹارلنک سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز کو بند کیا جا سکے۔
اس طرح روسی فوج نہ صرف ٹرمینلز سے لیس ڈرونز استعمال کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو گئی بلکہ محاذِ جنگ پر انٹرنیٹ تک رسائی بھی کئی مقامات پر ختم ہو گئی جس کی وجہ سے انھیں مُشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
روس سٹارلنک کے سیٹلائٹ کمونیکیشن سسٹم کا متبادل فراہم نہیں کر سکتا۔ اس کے پاس اس جیسا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔
روس میں ایک نجی کمپنی، بیورو 1440، سپیس ایکس کی طرز پر زمین کے قریب پرواز کرنے والی ’لو آوبٹ سیٹلائیٹس‘ تیار کر رہی ہے۔ کمپنی نے سنہ 2025 میں سیٹلائٹس کے پہلے گروپ کو لانچ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن ایسا مُمکن نہیں ہو پایا۔
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
’ایرانی شاہد ڈرونز کے خلاف سو فیصد تحفظ فراہم کرنا مشکل ہے‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
یوکرین کے صدر ویلادیمیر زیلنسکی نے دو مارچ کو ایکس پر اپنے ایک پیغام میں یورپی مُمالک کے سربراہوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یورپ کو اپنی فضائی حدود کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’ایسے اقدامات کے جن میں انھیں اپنی فضائی حدود، اپنی زمین اور اپنے سمندر کو ہر قسم کے حملے کے خلاف محفوظ رکھنے کے قابل بنایا جائے۔ خاص طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ فضائی دفاع کی مناسب پیداواری صلاحیت پر کام کیا جائے، چاہے وہ ڈرونز کے خلاف ہو یا بیلسٹک میزائلوں کے خلاف۔‘
صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ ’مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ میزائلوں اور ’شاہد‘ ڈرونز کے خلاف سو فیصد تحفظ فراہم کرنا کس قدر مشکل ہے۔ حتیٰ کہ خلیجی ممالک میں بھی، جہاں فضائی دفاعی نظام ہمارے شراکت داروں کی جانب سے ہمیں فراہم کیے گئے نظاموں سے زیادہ جدید اور زیادہ تعداد میں موجود ہیں۔
’تمام بیلسٹک میزائلوں کو نہیں روکا جا سکا۔ اسی طرح کچھ ’شاہد‘ ڈرونز بھی ایسے تھے جنھیں خطے کا فضائی دفاع روک نہیں سکا۔‘
انھوں نے فضائی دفاعی نظام کو بہتر اور موثر بنانے کے حوالے سے مدد فراہم کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے کہا کہ ’یوکرین اس ساری صورتحال سے گُزر چُکا ہے اور خاصہ تجربہ بھی رکھتا ہے۔ ہم اس تجربے کو بانٹنے اور اُن ممالک کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں جنھوں نے اس پوری جنگ کے دوران یوکرین کی مدد کی۔‘
یوکرین کے صدر نے کہا کہ ’ہم یورپ کی مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کی ترقی پر کام کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ یورپ کے پاس کافی تعداد میں فضائی دفاعی میزائل، ڈرونز کو مار گرانے کا تجربہ اور جدید انٹرسیپٹر ڈرونز کی مناسب پیداوار ہونی چاہیے اور مل کر ہم اسے ممکن بنا سکتے ہیں۔‘
واضح رہے کہ یوکرینی فوج کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ انھوں نے روس کی جانب سے داغے جانے والے ’شاہد - 136 ڈرونز بھی مار گرائے ہیں اور اس کے لیے یوکرین نے چھوٹے ہتھیاروں سے فائرنگ کی، بھاری مشین گنیں، پورٹیبل اینٹی ایئر میزائل (نقل پذیر طیارہ شکن میزائلوں) اور الیکٹرانک جیمنگ آلات (برقی پیغامات کو جامد کرنے والے آلات) کا استعمال کیا تھا۔
سستا اور باآسانی بڑی تعداد میں دستیاب ہونے والا ڈرون
ایران نے حالیہ برسوں میں ڈرونز کی تیاری اور ان کے استعمال میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور یہ ڈرونز نہ صرف خطے میں بلکہ روس اور یوکرین جنگ میں بھی دیکھے گئے ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ایران اپنے ڈرونز کو کم لاگت اور مؤثر ہتھیار کے طور پر پیش کرتا ہے، جو اس کی عسکری حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
اس بات کے بھی واضح شواہد موجود ہیں کہ ایران نے حالیہ برسوں میں ڈرونز کی تیاری میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور انھیں اپنی فوجی حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ بنا دیا ہے۔
عمومی طور پر اس بارے میں معلومات موجود نہیں کہ سب سے پہلے کس نے ڈرون پر سٹارلنک ٹرمینل نصب کرنے کے بارے میں سوچا۔
سٹارلنک سے لیس ایک روسی ڈرون کی دریافت کی اطلاع پہلی بار 15 دسمبر 2025 کو فوجی ریڈیو ٹیکنالوجی کے معروف یوکرینی ماہر سرگئی بیسکریستنوف نے دی تھی۔
سینٹ کام نے مکمل شدہ لوکس ڈرونز کی تصاویر تین دسمبر کو شائع کی تھیں جن میں ایسی چیزیں شامل تھیں جو ظاہری طور پر سٹارلنک ٹرمینلز سے مشابہ تھیں۔
تاہم کم لاگت والے اور بڑی تعداد میں استعمال ہونے والے حملہ آور ڈرونز استعمال کرنے کا خیال درحقیقت ایران اور روس سے منصوب ہے۔
روس نے سنہ 2022 میں یوکرین پر ایرانی شاہد میزائلوں سے حملے شروع کیے اور جس کے بعد ان کی پیداوار میں بتدریج اضافہ کیا۔
ہدف کو نشانہ بنانے سے نقصان پہنچانے کے علاوہ ایسے حملہ آور ڈرونز فضائی دفاعی افواج کو انھیں تباہ کرنے کے لیے وسائل خرچ کرنے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔ اکثر ان کو مار گرانے کی لاگت خود ہدف سے زیادہ ہوتی ہے۔
کم لاگت کا تصور امریکی نام لوکس یعنی لو کاسٹ ان مینڈ کمبیٹ سٹرائیک سسٹم میں بھی نمایاں ہے، جہاں کم قیمت کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایک ڈرون کی قیمت کم از کم 35 ہزار ڈالر ہو سکتی ہے۔
امریکہ نے ان ڈرونز کے استعمال کے لیے خصوصی طور پر ایک سکواڈرن تشکیل دیا جسے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کیا گیا اور اسے ٹاسک فورس سکارپین سٹرائیک کا نام دیا گیا۔
کیا ان ڈرونز کی جیمنگ ممکن ہے؟
اب بات رہ جاتی ہے کہ ان خطرناک ڈرونز کو کیسے ناکارہ یا نشانہ بنایا جا سکتا ہے؟
دی انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز لندن کے فیبیئن ہنز کا کہنا ہے کہ ’اب ایسے فضائی ریڈار بھی آ چکے ہیں جو کم اُنچائی پر اڑنے والے ڈرون کی نشان دہی کر سکتے ہیں۔‘ اس کے علاوہ ان کے مطابق ایسے انفراریڈ سسٹم بھی ہیں جو ڈرون کی ایک بار نشان دہی ہونے کے بعد اسے تباہ کر سکتے ہیں۔
ایسے میں ’ہارڈ کل‘ اور ’سافٹ کل‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ ہارڈ کل سے مراد ہے میزائل یا گولیوں سے ڈرون کو تباہ کرنا۔ سافٹ کل کا مطلب ہے کہ الیکٹرانک طریقے سے ڈرون کو غیر فعال یا ناکارہ بنا دینا۔
روس اور یوکرین دونوں نے ہی فائبر آپٹک کیبلز کی مدد سے سافٹ کل کی صلاحیت کو ناکام بنانے کی کوشش کی ہے۔ یہ ایسی تار ہوتی ہے جو کئی کلومیٹر تک ڈرون کے ساتھ چلتی ہے لیکن سرحد کے پار اتنے زیادہ فاصلے پر یہ حکمت عملی کامیاب نہیں ہو گی۔
ہارڈ کل کے لیے میزائل، لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ فیبیئن ہنز کہتے ہیں کہ ’لیزر بھی کارآمد ہو سکتی ہے لیکن یہ کوئی ایسا جادوئی ہتھیار نہیں جیسا لوگ سمجھتے ہیں۔‘
آندرے کا کہنا ہے کہ ’جیمنگ ایک بہتر اور زیادہ کامیاب متبادل ہے۔ تاہم ڈرون کے خلاف کسی بھی دیوار کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہو گا کہ کیا یہ ایک ہی وقت میں مختلف قسم کے فضائی خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔‘
اہم خبریں
فیچر اور تجزیے
مقبول خبریں
مواد دستیاب نہیں ہے