ہریانہ میں ایک ہی خاندان کے سات افراد کی کھڑی کار میں پراسرار ہلاکت: پولیس کو اجتماعی خودکشی کا شبہ

،تصویر کا ذریعہASIF ALI
انڈیا کی ریاست ہریانہ کے علاقے پنچکولہ میں پیر کی رات ایک ہی خاندان کے سات افراد ایک کار میں مردہ پائے گئے۔ یہ کار پنچکولہ کے سیکٹر 27 کے رہائشی علاقے میں کھڑی تھی۔
مرنے والوں میں دہرہ دون کے رہنے والے 42 سالہ پروین کمار متل، ان کے والدین، بیوی، ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا شامل ہیں۔
اس معاملے میں دہرہ دون پولیس کا کہنا ہے کہ یہ خاندان چند ماہ سے دہرہ دون میں مقیم تھا۔
جبکہ ان سات افراد کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ یہ افراد ایک مذہبی پروگرام میں شرکت کے لیے ہریانہ آئے تھے۔ جبکہ چند افراد کا دعویٰ ہے کہ یہ خاندان مبینہ طور پر مقروض تھا۔
تاہم ابھی تک ان معلومات میں سے کسی کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
پولیس کا سات افراد کی ہلاکت پر کیا کہنا ہے؟

پنچکولہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی کرائم برانچ کے اہلکار بھی موقع واردات پر پہنچ گئے۔
کرائم برانچ کے انسپکٹر نرمل سنگھ نے میڈیا کو بتایا کہ 'پیر کی رات تقریباً 11 بجے، ہمیں اطلاع ملی کہ ایک گاڑی ہے جس میں کچھ افراد مردہ حالت میں موجود ہیں۔ جبکہ ان میں سے ایک شخص موقع پر زندہ تھا، ہم اس اطلاع پر وہاں پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ گاڑی کھڑی تھی، اس وقت تک لاشوں کو سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔'
نرمل سنگھ نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات جاری ہے۔ اتراکھنڈ پولیس سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے پنچکولہ کے ڈی سی پی ہمادری کوشک نے کہا تھا کہ 'ابتدائی طور پر یہ مبینہ خودکشی کا معاملہ لگتا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈی سی پی ہمادری کوشک نے کہا کہ 'ہمیں اطلاع ملی کہ چھ لوگوں کو اوجس ہسپتال لایا گیا ہے۔ لیکن جب تک ہم وہاں پہنچے، ان کی موت ہو چکی تھی۔'
'جبکہ ایک اور شخص کو سیکٹر چھ میں سول ہسپتال لے جایا گیا جہاں اسے بھی مردہ قرار دے دیا گیا۔'
ہمادری کوشک کا کہنا ہے کہ 'ابتدائی طور پر یہ خودکشی کا معاملہ لگتا ہے، لیکن معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔'
اس معاملے پر دہرہ دون پولیس نے کہا ہے کہ 'اس خاندان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ پروین متل کا خاندان آٹھ نو ماہ قبل تک دہرہ دون کے محلے کولاگڑھ میں کرائے کے مکان میں رہتا تھا، یہ خاندان فی الحال دہرہ دون میں نہیں رہ رہا تھا۔‘
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
پولیس کے مطابق پنچکولہ میں واقعہ کے مقام سے جو کار ملی ہے وہ دہرہ دون کے گمبھیر سنگھ نیگی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔
اتراکھنڈ پولیس کے مطابق 'گمبھیر سنگھ نیگی نے بتایا کہ وہ پروین متل سے این جی او کے کام کے سلسلے میں ملے تھے۔ پروین پہلے چائلڈ لائف کیئر مشن کے نام سے ایک این جی او چلاتے تھے۔ اس دوران دوستی کی وجہ سے گمبھیر نیگی نے اپنے نام پر بینک سے کار فنانس کروا کر دی تھی جو فی الحال پروین کے زیر استعمال تھی۔'
اتراکھنڈ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ خاندان اس وقت چندی گڑھ میں رہ رہا تھا۔
تازہ ترین معلومات دیتے ہوئے پنچکولہ کے ڈی ایس پی (لا اینڈ آرڈر) امت دہیا نے میڈیا کو بتایا: 'اب تک کی گئی تحقیقات کے مطابق، ہمیں لگتا ہے کہ یہ خودکشی کا معاملہ ہے، تاہم انکوائری جاری ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اب تک پانچ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو مختلف زاویوں سے اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 'ابھی ہلاک ہونے والے افراد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ نہیں آئی ہے۔ ہم اس معاملے کی جانچ کر رہے ہیں۔'
ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ تفتیش کر رہے ہیں کہ آیا خاندان کو کوئی مالی مسائل تھے، دوسرا یہ کہ ان افراد کی سوشل میڈیا پر کیا سرگرمیاں تھیں۔ تیسرا، ہم سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کار کہاں سے آئی۔

عینی شاہد کا کیا کہنا ہے؟
پونیت رانا اسی علاقے میں رہتے ہیں جہاں سے وہ کار ملی تھی۔ پونیت رانا کا کہنا ہے کہ 'یہ واقعہ ہمارے گھر کے پیچھے رونما ہوا۔ ہماری کار کے پیچھے اتراکھنڈ نمبر پلیٹ والی ایک کار کھڑی تھی۔ ہم نے انھیں وہاں سے جانے کو کہا۔'
انھوں نے بتایا کہ 'ڈرائیور، ایک بزرگ خاتون اور ایک بچہ گاڑی کی اگلی سیٹوں پر بیٹھے تھے۔ کار میں موجود افراد نے کہا کہ وہ یہاں ست سنگ سننے کے لیے آئے تھے، لیکن چونکہ انھیں ہوٹل نہیں ملا، اس لیے وہ رات کو گاڑی میں ہی سو گئے۔'
پونیت کا کہنا ہے کہ کچھ دیر بعد وہ واپس کار کے پاس گئے، جہاں انھوں نے ان لوگوں کو کچھ مشکوک حالت میں دیکھا۔
انھوں نے کہا کہ جب ہم نے ٹارچ لائٹ سے گاڑی کے اندر دیکھا تو سب کو الٹیاں ہو چکی تھیں میں نے کہا کہ کوئی اور مسئلہ ہے اور ایک شخص جو زندہ تھا اسے باہر آنے کو کہا۔
وہ بتاتے ہیں کہ 'جو شخص زندہ تھا اس نے ہمیں بتایا کہ ہم پر قرض ہے، وہ بات کرتے کرتے گر گیا۔'
پونیت کا کہنا ہے کہ پولیس دو منٹ بعد وہاں پہنچ گئی، لیکن ایمبولینس کو پہنچنے میں وقت لگا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
خاندان والوں کا کیا کہنا ہے؟
پروین متل کے سسر راکیش گپتا نے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ شاید خاندان نے کچھ قرض لیا تھا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھیں پہلے اس بات کا علم تھا کہ خاندان مالی مشکلات کا شکار ہے۔
اس پر ان کا کہنا تھا کہ 'مجھے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔ پولیس والوں نے بتایا کہ وہ یہاں باگیشور دھام (کہانی سنانے والے دھیریندر شاستری کے پروگرام) کے لیے آئے تھے۔'
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ پروین متل دہرہ دون میں گاڑی چلاتے تھے۔
راکیش گپتا نے کہا 'پروین پہلے ہی پریشان تھا۔ اس نے کہیں سے سود پر کچھ رقم ادھار لی ہو گی۔ ہمیں چار بجے معلوم ہوا کہ ایسا ہی کچھ ہوا ہے۔'
دریں اثنا، پروین متل کے رشتہ دار نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس کو بتایا 'مجھے نہیں معلوم کہ اس نے یہ قدم کیوں اٹھایا۔ پولیس نے مجھے بتایا کہ کار میں ایک نوٹ ملا ہے، لیکن انھوں نے مجھے ابھی تک کوئی سوسائڈ نوٹ نہیں دیا ہے۔ ان کا پورا خاندان 30 اپریل کو دہلی میں میرے بھائی کی شادی میں بھی شریک ہوا تھا۔'
انھوں نے بتایا کہ 'سنہ 2013- 2014 میں ایک بار اس نے بتایا تھا کہ اسے کام میں نقصان ہوا ہے اس کے بعد اس نے کبھی ایسا کچھ نہیں کہا۔ پروین متل فی الحال دہرہ دون میں ٹیکسی چلاتے تھے اور ان کے خاندان کی اچھی گزر بسر ہو رہی تھی۔
تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان پر سات سے آٹھ کروڑ روپے کا قرض تھا۔ لیکن قرض کی وجہ سے ایسا نہیں ہوا کیونکہ قرض کے بدلے میں بینک نے پروین متل کا فلیٹ اور تین کاریں اپنے قبضے میں لے لی تھیں۔











